Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدہ ام کلثوم بنت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہا کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے شادی

  علی محمد الصلابی

اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت کی بناء پر ان سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی جو محبت تھی دوسروں سے نہیں تھی، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بیتؓ کے اعزاز اور ان کے حقوق کی رعایت کی وصیت کی تھی، اسی بناء پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی و فاطمہ رضی اللہ عنہما کی صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو پیغامِ نکاح دیا، اور ان کی چاہت و محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا: اللہ کی قسم روئے زمین پر ان کے ساتھ میں سب سے اچھی رفاقت نبھاؤں گا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: بلاشبہ آپ ایسا کریں گے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مہاجرین کے پاس آئے اور مارے خوشی کے کہنے لگے: مجھے شادی کی مبارکباد دیجیے۔ پھر ان سے اپنی شادی کا سبب بتایا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ قیامت کے دن ہر رشتہ و نسب ختم ہوجائے گا سوائے میرے رشتے اور نسب کے، تو میں نے اپنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مابین رشتے کو پسند کیا۔

(المستدرک للحاکم: جلد 3 صفحہ 142، اس کی سند حسن ہے، امام ذہبیؒ کہتے ہیں: منقطع ہے۔ ہیثمی نے مجمع الزوائد: جلد 3 صفحہ 173 میں نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ طبرانی نے اس کو ’’الکبیر‘‘ اور ’’الاوسط‘‘ میں نقل کیا، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں سوائے حسن بن سہل کے اور بعض لوگوں نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔

ابومعاذ اسماعیلی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اس مبارک شادی سے متعلق اہل سنت و اہل تشیع کے مصادر و مراجع میں جو کچھ ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ سیدہ ام کلثوم بنت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہا سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شادی ایک حقیقت ہے، چنانچہ میں نے اپنی کتاب ’’سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت و کارنامے‘‘ (طبع الفرقان ٹرسٹ) میں ان کی سیرت اور عہد فاروقی میں ان کی زندگی کے کارناموں کا تذکرہ کیا ہے۔