Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے تفقہ کا سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما پر اثر

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی حکومت خلافت راشدہ کی نہج پر قائم ہوئی، مشکلات کے حل، نوپیش آمدہ مسائل میں اجتہاد، اور حکومت کے اداروں کو ترقی دینے میں توفیق الہٰی کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عبقریت کا بڑا دخل رہا، سیدنا عمر فاروقؓ کی ثقافت اور سیدنا عمر فاروقؓ کے عہد کی ادبیات سے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے متاثر ہونے میں سیدنا حسنؓ کے والد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے قربت معاون رہی، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فاروقی حکومت کی مجلس شوریٰ کے نمایاں ممبر تھے، بلکہ وہی مستشارِ اول تھے، سیدنا علیؓ کے فضل، تفقہ اور حکمت کے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ معترف تھے؛ سیدنا علیؓ کے بارے میں اچھی رائے رکھتے تھے، چنانچہ اس سلسلے میں سیدنا عمر فاروقؓ کے بارے میں ان کا قول ہے:

أقضانا علي۔

(الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب: صفحہ 1102)

’’قضا اور فیصلوں میں ہم میں سے سب سے زیادہ اہل علی رضی اللہ عنہ ہیں۔‘‘

عہد فاروقی میں حکومتی، مالی اور عدالتی امور میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بہت سارے اجتہادات تھے، جن پر امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عمل کیا، آپ ان سے ہر چھوٹے بڑے معاملے میں مشورہ کرتے، بیت المقدس اور مدائن کی فتح کے موقع پر، نہاوند کی جانب لشکر کشی اور اہل فارس سے جنگ کے موقع پر، رومیوں سے جنگ کے موقع پر، ہجری سال کی ابتداء کہاں سے ہو اس کی تعیین کے موقع پر، اس کے علاوہ بہت سارے مواقع پر سیدنا علیؓ سے مشورہ کیا۔

(علی بن ابی طالب مستشار أمین للخلفاء الراشدین: صفحہ 99)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی بھر آپ کے خیرخواہ، مستشار، آپ سے محبت کرنے والے اور آپ کی فکر رکھنے والے تھے۔ اسی طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے تھے، ان کے مابین دو طرفہ محبت و الفت اور اعتماد تھا، اس کے باوجود دشمنان اسلام تاریخ کو مسخ کرنے میں لگے ہیں، اور اپنے مزاج و خیال کے مطابق بعض افسانے گھڑتے ہیں تاکہ خلفائے راشدینؓ کے عہد کی تصویر کشی اس طرح کریں کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کے گھات میں لگا رہتا تھا تاکہ ان کا کام تمام کردیں، ان کے معاملات پردوں کے پیچھے انجام پاتے تھے۔

(علی بن ابی طالب مستشار أمین للخلفاء الراشدین: صفحہ 99)

عہد فاروقی کا گہرائی سے جائزہ لینے والا عمر و علی رضی اللہ عنہما کے مابین خصوصی تعلقات اور واضح و خوش گوار تعاون کا اچھی طرح پتہ چلا سکتا ہے، تمام مسائل و مشکلات میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مستشارِ اول تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ہر رائے کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انشراح صدر کے ساتھ نافذ کیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے تمام امور و احوال میں نہایت مخلص خیرخواہ تھے۔

(فقہ السیرۃ النبویۃ لِلْبُوطي: صفحہ 529)

بلاشبہ علی و عمر رضی اللہ عنہما کے مابین ان تعلقات کی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور آپ کے ہم عصروں پر تربیتی، علمی اور ثقافتی چھاپ تھی، سیدنا عمر و علی رضی اللہ عنہما کے مابین مضبوط تعلقات کی بہت ساری دلیلیں ہیں، ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:

میرے بھائی اور میرے دوست نے مجھے یہ کپڑا پہنایا ہے:

سیدنا علی رضی اللہ عنہ عدن کا بنا ہوا کپڑا پہنے نکلے تو کہا:

’’میرے بھائی، ساتھی اور گہرے دوست امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ کپڑا پہنایا ہے۔‘‘ 

(المختصر من کتاب الموافقۃ: صفحہ 140)

ابوالسفر سے مروی ہے کہتے ہیں: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ وہ کپڑا پہنے ہوئے تھے جسے آپ باکثرت پہنا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا علیؓ سے پوچھا گیا: اے امیر المؤمنین کیا آپ اس کپڑے کو زیادہ پہنتے ہیں؟ سیدنا علیؓ  نے فرمایا: ہاں، میرے ساتھی اور گہرے دوست سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ کپڑا پہنایا ہے۔ آپ اللہ کے لیے مخلص رہے تو اللہ نے سیدنا عمر بن خطابؓ کی خیرخواہی کی، پھر رو پڑے۔

(المصنف لابن ابی شیبۃ: جلد 12 صفحہ 29)

اس طرح کے واقعات کی روشنی میں حسن، علی و اہل بیت اور عمر رضی اللہ عنہم کے مابین دو طرفہ محبت کی حقیقت سے اچھی طرح واقف تھے۔

شہادت کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول

صحیح بخاری میں وارد ہے ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا جنازہ چارپائی پر رکھا گیا، تو جنازہ اٹھائے جانے سے پہلے لوگ گھیرے ہوئے دعائیں کر رہے تھے، ایسی حالت میں ایک شخص نے میرا کندھا پکڑ کر مجھے حیرت میں ڈال دیا، وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے لیے دعائے رحمت کی اور فرمایا: آپ نے اپنے پیچھے کسی ایسے شخص کو نہیں چھوڑا جس کے اعمال میرے نزدیک آپ کے اعمال سے زیادہ محبوب ہوں کہ اس طرح کے اعمال کر کے میں اللہ سے ملاقات کرنا چاہوں، اللہ کی قسم! مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ سیدنا عمرؓ کو  سیدنا عمرؓ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ کر دے گا، مجھے یاد آتا ہے کہ میں اکثر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنتا تھا:

ذَہَبْتُ أَنَا وَ أَبُوْبَکْرٍ وَ عُمَرُ وَخَلْتُ أَنَا وَأَبُوْبَکْرٍ وَ عُمَرُ و خَرَجْتُ أَنَا وَأَبُوْبَکْرٍ وَ عُمَرُ۔

(صحیح البخاری: رقم: 3685) 

’’میں، ابوبکر اور عمر گئے اور میں، ابوبکر اور عمر داخل ہوئے اور میں، ابوبکر اور عمر نکلے۔‘‘

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ وہاں ٹھہرنا ناپسند کرتے تھے اس لیے میں بھی اس کو ناپسند کرتا ہوں:

جب جنگ جمل سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ فارغ ہوئے، بصرہ آئے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مکہ جانے لگیں تو ان کے ساتھ کچھ دور چل کر انھیں رخصت کیا، پھر بصرہ سے کوفہ گئے، وہاں آپ بروز سوموار 12 رجب 36ھ کو پہنچے، سیدنا علیؓ سے کہا گیا: آپ قصر ابیض میں ٹھہریں، سیدنا علیؓ نے فرمایا: نہیں، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ وہاں ٹھہرنا ناپسند کرتے تھے، اس لیے میں بھی اس کو ناپسند کرتا ہوں، چنانچہ سیدنا علیؓ مکانوں کے مابین کھلی جگہ میں ٹھہرے، اور جامع اعظم میں دو رکعت نماز پڑھی۔

( تاریخ الخلافۃ الراشدۃ: محمد کنعان: صفحہ 383)