مسلم نے کافرہ سے ہندؤ رسم کے مطابق نکاح کیا، پھر وہ مسلمان ہو گئی تو دوبارہ نکاح کی ضرورت
مسلم نے کافرہ سے ہندؤ رسم کے مطابق نکاح کیا، پھر وہ مسلمان ہو گئی تو دوبارہ نکاح کی ضرورت
سوال: زید نے کافرہ سے ناجائز تعلقات رکھے، اور زنا سے اس کی اولاد بھی ہوئی، اور وہ بتاتا ہے۔ کہ میں نے اس سے ہندؤ رسم و رواج کے مطابق نکاح کر لیا ہے ایجاب و قبول ہو چکا ہے۔ اب اس کافرہ بیوی نے اسلام قبول کر لیا ہے، تو اب اس کا نکاح پڑھانا از روئے شرع کیسا ہے؟
جبکہ بکر کا کہنا ہے، کہ دوبارہ نکاح پڑھانے کی ضرورت نہیں ہے کہ ایجاب و قبول تو پہلے ہی ہو چکا ہے۔ اور نکاح تو ایجاب و قبول کا نام ہے۔ مگر عمرو کہتا ہے، کہ دوبارہ نکاح پڑھانے کی ضرورت ہے کہ نکاح کے لیے دو مسلمان گواہ ضروری ہیں۔ جو کہ کفر کے نکاح میں نہیں تھے، نیز عورت کافرہ تھی، تو سابقہ نکاح ہوا ہی کیسے وغیرہ تو اب دریافت طلب عمل یہ ہے کہ اب انہیں دوبارہ نکاح پڑھانا ضروری ہے یا نہیں؟
جواب: سورۃ مذکورہ میں کافرا لڑکی کا نکاح ایسے ہوا ہی نہیں کیونکہ لڑکی کافرہ تھی اور مسلمان کا نکاح کافہ سے ہرگز جائز نہیں ہے لہٰذا یہ نکاح باطل اور کل عدم ہے شرعا اس کی کوئی حیثیت نہیں۔
قال اللہ تعالیوَلَا تَنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكٰتِ حَتّٰى يُؤۡمِنَّ
(سورۃ البقرہ: آیت نمبر، 221)
لہٰذا اب جب یہ لڑکی مسلمان ہو چکی ہے تو زید دو عاقل بالغ یا ایک مسلمان مرد اور دو مسلمان عورتوں کی موجودگی میں ایجاب اور قبول کے ساتھ نکاح کر لے۔
ہدایہ میں ہے
النکاح ینعقد بالایجاب والقبول
اور اسی میں دوسری جگہ ہے
لاینعقد نکاح المسلمین آلا بحضور حرمین عاقلین بالغین مسلمین رجلین او رجل وامرتین
اور بکر کا یہ کہنا ہے کہ دوبارہ نکاح کی ضرورت نہیں جبکہ ایجاب قبول پہلے ہی ہو چکا ہے اور نکاح حجاب و قبول کا نام ہے محض غلط ہے کیونکہ نکاح کے لیے محض ایجاب و قبول اس وقت کافی ہو گا جبکہ لڑکا لڑکی دونوں مسلمان ہو اور یہاں لڑکی ہندؤ ہے
بکر غلط مسئلہ برسانے کی وجہ سے گنہگار مستحق کے عذاب نار ہوا کہ بغیر علم مسئلہ بتانا حرام ہے حدیث شریف میں ہے
من اگتی بغیر علم لعنتہ ملئکۃ الاموات والارض
بکر توبہ استغفار کرے اور بے علم مسئلہ بتانے سے باز رہے۔
یہاں پر ایک عمر یہ تحقیق طلب ہے کہ زید نے ہندؤ لڑکی کے ساتھ ہندؤ رسم کے مطابق نکاح اگر اس رسم کو اچھا سمجھ کر کیا ہے تو وہ خود اسلام سے خارج ہو گیا فقہاء کرام فرماتے ہیں
یکفر بتحسین امر الکفار اتفاقا کذا فی البحر والھندیۃ وغیرھا
اس تقدیر پر زید پر فرض ہے، کہ ہندؤ رسم نکاح وغیرہ سے بے زاری ظاہر کرے، اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو پھر لڑکی کے ساتھ نکاح کرے۔
(فتاویٰ مرکز تربیت افتاء: جلد، 1 صفحہ، 576)