اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے محبت
علی محمد الصلابیسیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اہل بیتؓ کی محبت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ آپ کی شخصیت چوں کہ ان کے نزدیک محبوب و ہردل عزیز تھی، اہل بیتؓ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بہترین کارناموں، اچھے اخلاق اور اسلام کی نمایاں خدمات کا احترام کرتے تھے، نیز ان مضبوط دوستانہ تعلقات کا پاس و لحاظ رکھتے تھے جو آپ کو اہل بیتؓ اور ان سے سسرالی رشتے سے جوڑتے تھے، انھی وجوہ و اسباب کی بناء پر وہ لوگ اپنے بچوں کا نام سیدنا فاروق اعظمؓ کے نام پر رکھتے تھے، چنانچہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے اپنے بچے کا نام سیدنا عمرؓ کے نام پر رکھا، ام حبیب بنت ربیعہ بکریہ کے بطن سے پیدا ہونے والے اپنے بیٹے کا نام سیدنا علیؓ نے عمر رکھا۔
(تاریخ الیعقوبی:جلد 2 صفحہ 213، الشیعۃ واہل البیت: صفحہ 133)
کتاب ’’الفصول‘‘ میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی اولاد کے تذکرے میں وارد ہے: اور تغلبیہ کے بطن سے عمر ہیں، وہ صہباء بنت ربیعہ ہیں، آپ ان قیدیوں میں سے تھیں جو ’’عین التمر‘‘ پر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے حملے کے نتیجے میں قید ہوئے تھے، مذکور عمر 85 سال زندہ رہے، اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی آدھی وراثت کے حق دار بنے، ایسا اس لیے کہ آپ کے تمام سگے بھائی عبداللہ، جعفر، عثمان آپ سے پہلے حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ شہید کردیے گئے چنانچہ آپ ان سب کے وارث ہوئے۔
(الفصول المہمۃ: صفحہ 143، الشیعۃ و اہل البیت: صفحہ 133)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے محبت کے سلسلے میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے ایک بیٹے کا نام عمر رکھا۔
(الشیعۃ و اہل البیت: صفحہ 133)
اسی طرح سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے بھی اپنے بیٹے کا نام عمر رکھا، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بعد آپ کے صاحبزادے علی زین العابدین نے بھی اپنے ایک بیٹے کا نام عمر رکھا۔
(الشیعۃ واہل البیت: صفحہ 134)
اہل بیتؓ کے یہ ائمہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے والے تھے اس طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے لیے اپنے سینوں میں چھپی محبت و دوستی کا اظہار آپ کی وفات کے کافی عرصہ بعد کرتے تھے، اس طرح اس نام نیز ابوبکر و عثمان ( رضی اللہ عنہم ) جیسے ناموں کا راہ حق پر چلنے والے اہل بیتؓ میں رواج رہا، آج تک اہل سنت و جماعت کا یہی منہج ہے، اسی طرح ہاشمی خاندانوں میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور امہات المؤمنین کے نام ملتے ہیں، چنانچہ ان لوگوں نے اپنے بچوں اور بچیوں کا نام طلحہ، عبدالرحمٰن، عائشہ اور ام سلمہ رکھا، آج ہم شیعوں کو اس بات کی دعوت دیتے ہیں کہ وہ سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما اور اہل بیت کے ائمہ کی اقتداء کریں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت کرتے تھے، اور اپنے بعض بچوں اور بچیوں کا نام خلفائے راشدینؓ اور امہات المؤمنین کے ناموں پر رکھتے تھے۔
(اذہبوا فأنتم الرافضۃ: عبدالعزیز الزبیری: صفحہ 230)