Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن حسن بن حسن بن علی رضی اللہ عنہم کا قول

  علی محمد الصلابی

حفص بن قیس سے مروی ہے کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن حسن سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا، تو فرمایا: مسح کرو، کیوں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مسح کیا، کہتے ہیں کہ میں نے کہا: میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ مسح کرتے ہیں؟ تو فرمایا: خاموش رہو، میں تم کو عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتا رہا ہوں، اور تم مجھ سے میری رائے پوچھ رہے ہو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے اور روئے زمین کے اور تمام لوگوں سے بہتر تھے، تو میں نے کہا: اے ابومحمد کچھ لوگو ں کا خیال ہے کہ آپ یہ بطور تقیہ کہہ رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ آپ نے مجھ سے (جب کہ ہم لوگ قبر نبوی اور منبر کے درمیان تھے)فرمایا:

’’اے اللہ میرا یہی قول خلوت میں بھی ہے اور جلوت میں بھی، میرے بعد میرے خلاف کسی کی بات نہ سنی جائے، پھر فرمایا: کس کا یہ زعم باطل ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ مظلوم و مقہور تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علیؓ کو ایک بات کا حکم دیا اور سیدنا علیؓ اس حکم کو بجا نہیں لائے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تنقیص کے لیے یہ زعم باطل کافی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ایک بات کا حکم دیا اور آپ اس کو بجا نہیں لائے۔‘‘

(النہی عن سب الأصحاب و ما فیہ من الإثم و العقاب: لمحمد عبدالواحد المقدسی: صفحہ 57)