Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عہد میں

  علی محمد الصلابی

شروع ہی سے سیدنا عثمان ذو النورین رضی اللہ عنہ کا اسلامی دعوت سے گہرا ربط رہا، حیات نبویﷺ کی ہر چھوٹی بڑی بات سے آگاہ تھے، شیخین کے دور میں خلافت کے تمام احوال سے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو آگاہی تھی، دوسرے لفظوں میں موجودہ اصطلاح کے مطابق سیدنا عثمان غنیؓ اسلامی حکومت کی تاسیس میں برابر شریک رہے۔

سیدنا عثمان بن عفانؓ اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تربیت جس منہج پر ہوئی وہ منجانب اللہ نازل ہونے والی کتاب قرآن مجید ہے، اور دوسری چیز جو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شخصیت پر کافی مؤثر رہی اور آپ کی منجانب اللہ عطا کردہ صلاحیتوں کو جلا بخشی، آپ کی خوابیدہ طاقتوں کو ابھارا، آپ کو مہذب بنایا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور نبوی مدرسہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شاگردی رہی، چنانچہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اسلام لانے کے بعد مکہ میں اور ہجرت کے بعد مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہتے، سیدنا عثمانؓ نبوی مدرسہ میں بشریت کے ہادی و رہنما سے مختلف علوم و معارف سیکھنے کے حریص تھے۔

جنگ بدر میں شریک نہ ہونے کا سبب سیدنا عثمان غنیؓ کی سستی یا راہِ فرار اختیار کرنا نہیں تھا جیسا کہ سیدنا عثمان بن عفانؓ پر تنقید کرنے والے بعض نفس پرستوں کا زعم باطل ہے، سیدنا عثمان غنیؓ کا ارادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنا نہیں تھا، اس لیے کہ جنگ بدر میں شرکت کی بنا پر اہل بدر کو جو فضیلت حاصل ہوئی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع ہے، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بغرض شرکت نکلے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سخت بیمار بیٹی ’’رقیہ‘‘ کی دیکھ ریکھ کے لیے سیدنا عثمان غنیؓ کو واپس کردیا وہ اسی بیماری میں اللہ کو پیاری ہوگئیں، چنانچہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرماں برداری ہی کے باعث شریک نہ ہوسکے، اور اسی اطاعت ہی کے باعث آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان غنیؓ کا حصہ اور اجر و ثواب مقرر کیا اور مال غنیمت، فضیلت اور اجر و ثواب میں سیدنا عثمان غنیؓ کو صحابہ کرامؓ کے ساتھ شریک کیا۔

طبری نے صلح حدیبیہ کے موقع پر سیدنا عثمان غنیؓ کی بہت ساری خصوصیتوں کا ذکر کیا ہے، ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

1۔ اس بات کی خصوصیت کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بیعت کر رہے تھے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ غائب تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کے قائم مقام قرار دیا گیا۔

2۔ اس بات کی خصوصیت کہ مکہ میں موجود قیدی مسلمانوں تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو پہنچانے کے لیے سیدنا عثمان غنیؓہی کو مکلف کیا گیا، اور انھیں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام دے کر بھیجا تو طواف نہ کرنے میں ان کی رائے کی درستی کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت دی۔

(المناقب النضرۃ فی المناقب العشرۃ: صفحہ 490، 491)

3۔ فتح مکہ کے موقع پر عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کے بارے میں سیدنا عثمان غنیؓ کی سفارش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کی۔

(أضواء البیان فی تاریخ القرآن: لصابر ابوسلیمان: صفحہ 79)

مدینہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی معاشرتی زندگی کے اہم واقعات میں سے سیدہ رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد سیدہ ام کلثوم بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی کرنا، عبداللہ بن عثمان رضی اللہ عنہ کی وفات، پھر سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا وفات پا جانا ہے۔

حکومت کے قیام میں سیدنا عثمان غنیؓ کی اقتصادی ساجھے داریوں سے رومہ نامی کنویں کو بیس ہزار درہم میں خرید کر تمام مالداروں، غریبوں اور مسافروں کے لیے عام کر دینا، مسجد نبویﷺ کی توسیع اور ’’جیش عسرہ‘‘ پر بہت زیادہ خرچ کرنا ہے۔

دوسروں کے ساتھ آپ کی فضیلت میں بہت ساری حدیثیں وارد ہیں، اور کچھ حدیثیں صرف آپ کی فضیلت میں وارد ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فتنے کی خبر دی تھی جس میں آپ قتل کیے گئے۔ دورِ صدیقی میں سیدنا عثمان غنیؓ اہل شوریٰ اور ایسے صحابہ کرامؓ میں سے تھے جن سے اہم امور میں مشورہ لیا جاتا تھا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نزدیک سیدنا عثمان غنیؓ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بعد دوسرے مقام پر تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ٹھوس مؤقف اور سختیوں میں مشہور تھے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نرمی اور بااطمینان سوچنے سمجھنے میں مشہور تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ صدیقی خلافت کے وزیر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس کے ناظم عمومی اور کاتبوں کے رئیس تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک بھی آپ کا بڑا مقام و مرتبہ تھا، لوگ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کوئی بات پوچھنا چاہتے تو آپ عثمان اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجتے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ردیف کے لقب سے جانے جاتے تھے، اور عربوں کے نزدیک یہ لقب امیر کے بعد دوسرے شخص کے لیے ہوتا تھا، جب یہ دونوں کوئی کام انجام نہ دے پاتے تو لوگ ان کے ساتھ تیسرے شخص سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو لگا دیتے۔

(تیسیر الکریم المنان فی سیرۃ عثمان للصلابي۔)

دور عثمانی میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما عالم شباب میں تھے آپ عمر کے اس مرحلے میں تھے کہ تمام حالات کی آگاہی رکھیں، رونما ہونے والے واقعات، خلیفۂ راشد عثمان رضی اللہ عنہ اور آپ کے اردگرد رہنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیاست سے سبق سیکھیں، چنانچہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے درج ذیل اہم اسباق کو سیکھا: