ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت |…

ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 3

اُمُّ المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا

نام: میمونہ 
والد: حارث بن حزن 
والدہ: ہند بنتِ عوف 
سنِ پیدائش: بعثتِ نبوی سے 16 سال قبل
قبیلہ: قریش بنو ہلال
زوجیتِ رسولﷺ: 7 ہجری 
سنِ وفات: 51 ہجری
مقامِ تدفین: مقامِ سَرفْ مکہ مکرمہ کا نواحی علاقہ
کل عمر: 80 سال
نام و نسب:
آپؓ کا پیدائشی نام برہ تھاجسے آپﷺ نے بدل کر میمونہ کر دیا سلسلہ نسب اس طرح ہے: میمونہؓ بنتِ حارث بن حَزن بن بُجير بن ہُزم بن رُؤَيْبَۃ بن عبدالله بن ہلال بن عامر بن صَعْصَعَۃ بن معاویۃ بن بكر بن هَوَازِن بن منصور بن عِكْرِمَۃ بن خَصفۃ بن قَيْس بن عَيْلان بن مُضَر۔
جبکہ والدہ کی طرف سے کچھ یوں ہے میمونہؓ بنتِ ہند بنتِ عوف بن زہیر بن حارث بن حماطۃ بن جرش بن اسلم بن زيد بن سہل بن عمرو بن قيس بن معاويہ بن جشم بن عبد شمس بن وائل بن الغوث بن قطن بن عريب بن زہير بن غوث بن ايمن بن الہميسع بن حمير بن سبأ بن يشجب بن يعرب بن قحطان۔
والد کی طرف سے آٹھارویں پشت میں مُضَر پر جا کر آپؓ کا سلسلہ نسب جناب نبی کریمﷺ سے جا ملتا ہے۔
ولادت: آپؓ کی ولادت نبی کریمﷺ کے اعلانِ نبوت سے تقریباً 16 سال پہلے ہوئی۔
 خاندانی پسِ منظر:
سیدہ میمونہؓ کا تعلق قریش کے معزز قبیلہ بنو ہلال سے تھا، آپؓ کی ایک بہن سیدہ اُمُ الفضل لبابۃ الکبریٰؓ کا نکاح سیدنا عباس بن عبدالمطلبؓ کے ساتھ ہوا ان سے سیدنا عبداللہ بن عباسؓ پیدا ہوئے۔
دوسری بہن لبابۃ الصغریٰ کا نکاح ولید بن مغیرہ مخزومی کے ساتھ ہوا جن سے مشہور صحابی سیدنا خالد بن ولیدؓ پیدا ہوئے۔
تیسری بہن سیدہ عصماءؓ کا نکاح اُبّی بن خلف سے ہوا لیکن انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا، چوتھی بہن سیدہ عِزہؓ کا نکاح زیاد بن مالک الہلالی سے ہوا انہوں نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا۔
اس کے علاوہ آپؓ کی ایک ماں شریک بہن سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ کا نکاح سیدنا جعفر طیارؓ سے ہوا ان سے عبداللہ، عون اور محمد رضوان اللہ علیہم اجمعین پیدا ہوئے۔ جنگِ مُوتہ میں سیدنا جعفر طیارؓ شہید ہو گئے ان کی شہادت کے بعد سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ کا نکاح سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے ہوا ان سے محمد بن ابو بکرؓ پیدا ہوئے۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی وفات کے بعد ان کا نکاح سیدنا علی المرتضیٰؓ سے ہوا ان سے ایک بیٹا یحییٰ پیدا ہوا۔
دوسری ماں شریک بہن سیدہ سلمیٰ بنتِ عمیسؓ کا نکاح سیدنا حمزہؓ سے ہوا، ان سے ایک بیٹی امۃ اللہ پیدا ہوئی سیدنا حمزہؓ کی شہادت کے بعد ان کا نکاح سیدنا شداد بن الہادؓ سے نکاح ہوا جن سے عبداللہ اور عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے۔
تیسری ماں شریک بہن سیدہ سلامہ بنتِ عمیسؓ کا نکاح سیدنا عبداللہ بن کعبؓ سے ہوا جب کہ چوتھی ماں شریک بہن سیدہ زینب بنتِ خزیمہؓ کا نکاح جناب نبی کریمﷺ سے ہوا۔
فائدہ: ماں شریک بہن وہ ہوتی ہے کہ ان دونوں کی ماں ایک ہو، والد الگ الگ ہوں۔ یعنی ماں نے پہلے ایک شخص سے شادی کی اس سے اولاد ہوئی، خاوند کی وفات یا طلاق کے بعد اس ماں نے کسی دوسرے شخص سے شادی کی، اس سے بھی اولاد ہوئی۔ اب پہلے شخص سے جو اولاد ہوئی وہ اور اس دوسرے شخص سے جو اولاد ہوئی اسے "ماں شریک" کہتے ہیں۔
سیدہ میمونہؓ کی والدہ ہند بنتِ عوف کا نکاح خزیمہ بن عبداللہ بن عمر بن عبد مناف بن ہلال بن عامر سے ہوا، ان سے اُم المؤمنین سیدہ زینب بنتِ خزیمہؓ پیدا ہوئیں۔ اسی طرح ان کا نکاح عمیس بن معد بن حارث خثعمیہ سے ہوا ان سے اسماء، سلمیٰ اور سلامہ رضوان اللہ عنہن پیدا ہوئیں اور انہی ہند بنتِ عوف کا نکاح سیدہ میمونہؓ کے والد حارث بن حَزن ہلالی سے ہوا جن سے لبابۃ الکبریٰؓ، لبابۃ الصغریٰ، عصماءؓ اور عزہؓ پیدا ہوئیں۔
ہند بنتِ عوف کی خوش نصیبی:
سیدہ میمونہؓ کی والدہ ہند بنتِ عوف کے بارے میں یہ بات مشہور تھی کہ دامادوں کے اعتبار سے کوئی عورت اس خوش نصیب بڑھیا کے مقام کو نہیں پہنچ سکتی کیونکہ ان کے دامادوں میں درج ذیل جلیل القدر شخصیات شامل ہیں:
محمد رسول اللہﷺ
سیدنا ابوبکرصدیقؓ
سیدنا علی المرتضیٰؓ
سیدنا عباسؓ 
سیدنا جعفر طیارؓ
سیدنا حمزہؓ 
سیدنا عبداللہ بن کعبؓ 
سیدنا شداد بن الہادؓ 
اس کے علاوہ ان کے نواسوں اور نواسیوں میں بھی کئی جلیل القدر صحابہ و صحابیات رضوان اللہ علیہم اجمعین شامل ہیں۔
پہلا نکاح:
سیدہ میمونہؓ کا پہلا نکاح مسعود بن عمرو بن عمیر ثقفی کے ساتھ ہوا۔ اس نے سیدہ میمونہؓ کو طلاق دے دی۔ یہ وہی عمرو بن عمیر ثقفی ہے جس کے تین بیٹے عبد یا لیل، مسعود اور حبیب طائف کے معززین شمار ہوتے تھے ان کو نبی کریمﷺ نے اپنے سفر طائف میں خصوصی طور پر دعوتِ اسلام دی، لیکن انہوں نے بد اخلاقی کا مظاہرہ کیا اور اوباش لڑکوں کو آپﷺ کے پیچھے لگا دیا۔
دوسرا نکاح:
اس کے بعد آپؓ کا دوسرا نکاح ابو رُہم بن عبدالعزیٰ سے ہوا۔ کچھ عرصہ ان کے ساتھ گزارا اور ان کا بھی انتقال ہو گیا۔
عمرۃُ القضاء:
ماہِ ذوالقعدہ 7 ہجری کو عمرۃُ القضاء کے لیے آپﷺ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔ اسے عمرۃُ القضاء اس کہا جاتا ہے کہ اس سے ایک سال پہلے ذوالقعدہ 6 ہجری میں آپﷺ نے ایک خواب دیکھا کہ میں مدینہ منورہ سے مکہ گیا ہوں وہاں میں نے بیتُ اللہ کا طواف کیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اس خواب کا ذکر فرمایا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی اس خواہش کا اظہار کیا کہ ہم بھی آپ کی معیت میں شرفِ ہمراہی چاہتے ہیں۔
چنانچہ آپﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ہمراہ لیا جب آپﷺ مقامِ حدیبیہ پہنچے جو مکہ کے قریب ہے اور اس کا کچھ حصہ حدود حرم میں بھی داخل ہے تو کفار نے مزاحمت کی۔ مختصر یہ کہ چند کڑی شرائط کے ساتھ آپ کو واپس لوٹنا پڑا، ان میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ آئندہ سال عمرہ کے لیے تشریف لائیں اور جتنے دن اہلِ مکہ چاہیں آپ وہاں رہ سکتے ہیں۔ اسلحے کے بغیر آنا ہے ہاں صرف تلواریں لانے کی اجازت ہو گی اور وہ بھی میان میں ہوں گی۔ چنانچہ آپﷺ ماہ ذوالقعدہ 7 ہجری کو تشریف لائے۔ آپﷺ کے ہمراہ صرف وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تشریف لائے جو صلح حدیبیہ میں آپﷺ کے ساتھ شریک تھے، آپﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عمرہ ادا فرمایا۔
صفحہ 1 از 3