ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت |…

ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 3
اسی دوران جب آپﷺ عمرۃُ القضاء کو ادا فرما چکے تھے اور مکہ مکرمہ ہی میں تشریف فرما تھے تو سیدنا عباسؓ نے نبی کریمﷺ سے عرض کی کہ یارسول اللہﷺ آپ برہ (میمونہؓ) بنتِ حارث کو اپنے رشتہ ازدواج سے جوڑ لیں۔ چونکہ سیدہ میمونہؓ کی بہن سیدہ اُمُ الفضل لبابۃ الکبریٰؓ سیدنا عباسؓ کی اہلیہ تھیں، آپؓ خاندانی طور پر سیدہ میمونہؓ کو اچھی طرح جانتے تھے اور آپؓ کے اعلیٰ اخلاق و کردار سے خوب واقف تھے۔ اس لیے نبی کریمﷺ سے گزارش کی کہ آپﷺ ان سے نکاح فرما لیں۔ آپﷺ نے قبول فرمایا سیدنا عباسؓ نے 400 درہم حق مہر کے عوض آپ کا نکاح کر دیا۔
سیدہ میمونہؓ اُم المؤمنین بنتی ہیں:
صلح حدیبیہ کی شرائط میں ایک یہ بھی تھی کہ مسلمان صرف تین دن مکہ میں رہیں گے، شرط کے مطابق مدتِ قیام بھی پوری ہو چکی تھی۔ سہیل بن عمرو اور حویطب بن عبدالعزیٰ قریش کی جانب سے دربار رسالتِ مآبﷺ میں حاضر ہوئے اور کہا: شرط کے مطابق چونکہ مدتِ قیام ختم ہوگئی ہے لہٰذا آپﷺ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مدینہ واپس تشریف لے جائیں۔ آپﷺ نے ولیمہ میں شرکت کے لیے انہیں کہا لیکن انہوں نے بات ماننے سے یکسر انکار کر دیا۔
چنانچہ آپﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو روانگی کا حکم دیا۔ اور خود بھی مکہ سے چل پڑے۔ اس دوران آپﷺ نے اپنے آزاد کردہ غلام سیدنا ابورافعؓ کو حکم دیا کہ وہ سیدہ میمونہؓ کو مکہ سے ہمارے قافلے تک پہنچائیں۔ چنانچہ سیدنا ابورافعؓ سیدہ میمونہؓ کو مقررہ مقام "سَرِف س پر زبر اور راء کے نیچے زیر کے ساتھ" تک بخیر وعافیت لے آئے۔ آپﷺ 400 درہم حق مہر ادا کیا۔
ایک اہم مسئلہ:
قرآنِ کریم اور احادیث میں ایک فقہی مسئلہ ہے کہ کوئی شخص دو بہنوں کو نکاح میں اکٹھے نہیں رکھ سکتا خواہ وہ سگی بہنیں ہوں/ ماں شریک ہوں یا باپ شریک ہوں۔ اُمُ المؤمنین سیدہ زینب بنتِ خزیمہؓ اور سیدہ میمونہ بنتِ حارثؓ دونوں ماں شریک بہنیں ہیں اور دونوں رسول اللہﷺ کی ازواجاتِ مطہراتؓ میں سے تھیں۔
یہاں یہ بات ذہن میں آ سکتی ہے کہ جب دو بہنوں کو نکاح میں جمع نہیں کیا جاسکتا تو آپﷺ نے دو بہنوں سے نکاح کیسے فرما لیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اصل مسئلہ اس طرح ہے کہ بیک وقت دونوں کو نکاح میں ایک ساتھ جمع نہیں کیا جا سکتا۔
ہاں اگران بہنوں میں سے ایک نکاح میں باقی نہ رہے خواہ اس کی وجہ طلاق ہو یا عورت کا فوت ہونا تو دوسری بہن سے نکاح کیا جاسکتا ہے۔ بیک وقت دونوں کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔ اور نبی کریمﷺ نے اُمُ المؤمنین سیدہ زینب بنتِ خزیمہؓ سے پہلے نکاح فرمایا پھر ان کی وفات کی بعد اُمُ المؤمنین سیدہ میمونہؓ سے نکاح فرمایا۔
نوٹ: اس مسئلہ سے متعلق دیگر احکام و مسائل میری کتاب "مسلمان عورت" میں ملاحظہ فرمائیں۔
اس مبارک نکاح کی برکات:
یہ تو آپ کے علم میں آ چکا ہے کہ سیدہ میمونہؓ کا پیدائشی نام برہ تھا جسے آپﷺ نے تبدیل فرما کر میمونہ رکھ دیا۔ میمونہ کا مطلب ہوتا ہے باعث برکت۔ آپﷺ کے پیشِ نظر اس نام کو منتخب کرنے کی کئی پوشیدہ حکمتیں بھی ہوں گی لیکن جو ظاہر ہے وہ یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے اگلے سال عمرۃُ القضاء کی ادائیگی نے مسلمانوں کی شان و شوکت اور دینِ اسلام پر جانثاری نے اہلِ مکہ پر بہت گہرے اثرات مرتب کیے، کفار و مشرکین مکہ کا زور ٹوٹ چکا تھا۔ صرف چند بدگمانیاں باقی تھیں، انہیں یہ صاف نظر آ رہا تھا کہ اگر اہلِ مکہ کے ساتھ مسلمانوں کا مزید کچھ میل جول اور رہا تو سارے مکہ والے اسلام قبول کر لیں گے غالباً یہی وجہ تھی کہ صلح حدییبہ میں کفار کی طرف سے یہ شرط بطورِ خاص تھی کہ آئندہ سال مسلمان تین دن کے اندر اندر عمرہ کر کے واپس چلے جائیں۔
نبی کریمﷺ کی دلی خواہش یہی تھی کہ یہ لوگ اسلام قبول کر لیں اور اس مبارک خواہش کی تکمیل کے لیے آپﷺ نے طرح طرح کی صعوبتیں جھیلیں، سختیاں برداشت کیں، ظلم و ناانصافی کو سہتے رہے۔
اس لیے بیوہ و بے آسرا نیک خاتون کو سہارا دینے کے ساتھ ساتھ آپﷺ کے پیشِ نظر اس وقت کے معروضی حالات بھی تھے۔ آپﷺ سمجھتے تھے کہ اس نکاح سے فوائد و ثمرات میں اہلِ مکہ کے بااثر شخصیات کے علاوہ اہلِ نجد کے لوگ بھی اسلام کے قریب آ جائیں گے، اسلامی اخلاق و تعلیمات کا قریب سے مشاہدہ کریں گے تو جو بدگمانیاں اذہان و قلوب میں گردش کر رہی ہیں وہ ختم ہو جائیں گی۔
چنانچہ ایسے ہی ہوا سیدہ میمونہؓ کے خاندان والے مکہ کے با اثر لوگوں میں سے تھے۔ اس نکاح کے بعد سیدہ میمونہؓ کے بھانجے سیدنا خالد بن ولیدؓ نے اسلام قبول کیا اسی موقع سیدنا عمرو بن العاصؓ اور سیدنا عثمان بن طلحہؓ کنجی بردار کعبہ نے بھی اسلام قبول کر لیا۔
دوسری طرف اہلِ نجد کا سردار سیدنا زیاد بن مالک الہلالی جو کہ سیدہ میمونہؓ کا بہنوئی تھا جب اہلِ نجد کو اپنے قبیلے کے ساتھ رسول اللہﷺ کی ایک طرح کی قرابت داری کا علم ہوا تو وہی لوگ جنہوں نے کبھی دھوکے کے ساتھ 70 مبلغین اسلام کو شہید کرنے کا سنگین جرم کیا تھا اب وہی لوگ رسول اللہﷺ کے حامی بن گئے اور مسلمان ہو کر اہلِ اسلام کی اجتماعی قوت میں اضافہ کا سبب بنے۔ اس نکاح کے ذریعے یہ تھیں وہ بنیادی حکمتیں جو رسول اللہﷺ کے پیش نظر تھیں۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی ہوں گی جن کا علم اللہ اور اس کے رسولﷺ کے پاس ہے۔
باکمال ایمان کی نبوی شہادت:
آپؓ کے باکمال ایمان کی گواہی جناب نبی کریمﷺ نے دی ہے، حدیث پاک میں ہے کہ ایمان والی خواتین آپس میں بہنیں ہیں اس کے بعد آپﷺ نے چند خواتین کے نام لیے جن میں پہلا نام سیدہ میمونہؓ کا ہے۔
گھریلوں زندگی:
آپؓ اتنے بڑے اعزاز سے عزت پانے کے باوجود اپنے گھریلو کام کاج خود کرتیں، چنانچہ آپ کے بھانجے سیدنا یزید بن الاصمؒ فرماتے ہیں کہ میری خالہ اُمُ المؤمنین سیدہ میمونہؓ گھر کے کام کاج خود کرتیں، کثرت سے مسواک کرتیں اور نمازوں کی ادائیگی کا خوب اہتمام کرتیں۔
تقویٰ و صلہ رحمی:
صفحہ 2 از 3