ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت |…

ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 3
آپؓ کے دل میں خدا کی محبت بھی موجود تھی اور یہ خوف بھی تھا کہ کہیں میرے کسی کام سے اللہ ناراض نہ ہو جائے۔ معاشرتی رہن سہن میں اسلامی تعلیمات کی سب سے بنیادی چیز صلہ رحمی بھی آپ کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، تقوی اور صلہ رحمی یہ دو اوصاف حقوقُ اللہ اور حقوقُ العباد کی ادائیگی میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو یہ نعمتیں خوب عطا فرمائی تھیں، اُمُ المؤمنین سیدہ عائشہؓ آپ کے ان دو عمدہ اوصاف کی گواہی دیتے ہوئے فرماتی ہیں: انھا کانت من اتقانا للہ واوصلنا للرحم۔
ترجمہ: سیدہ میمونہؓ ہم میں خدا خوفی اور صلہ رحمی میں ممتاز مقام رکھتی ہیں۔
علم و فضل:
آپؓ نے دین کی تعلیم کو امت تک پہنچانے میں بہت بڑا کام کیا ہے، گھریلو مسائل اور خانگی امور میں رسول اللہﷺ کی تعلیمات سے روشناس کرایا۔ بالخصوص خواتین سے متعلق اکثر طہارت و پاکیزگی کے مسائل احادیث مبارکہ میں آپؓ کے حوالے سے مذکور ہیں۔
ایک مرتبہ سیدہ میمونہؓ کے بھانجے سیدنا عبداللہ بن عباسؓ اس حالت میں تشریف لائے کہ آپ کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ اُم المؤمنین سیدہ میمونہؓ نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمانے لگے کہ مجھے امِ عمار کنگھا کرتی ہے لیکن یہ دن ان کے ماہواری کے چل رہے ہیں، اس لیے انہوں نے کنگھا نہیں کیا۔
آپؓ نے فرمایا کہ شریعت کا مسئلہ ایسے نہیں جیسے تم نے سوچ رکھا ہے بلکہ ان دنوں میں بھی وہ آپ کو کنگھا وغیرہ کر سکتی ہے پھر اس پر دلیل کے طور پر اپنا ذاتی عمل پیش کیا کہ جب ہمارے خاص ایام ہوتے تھے اس دوران بھی نبی کریمﷺ ہماری گود میں سر رکھ آرام فرما لیتے اور قرآنِ کریم کی تلاوت بھی فرماتے تھے اس کے بعد انہیں سمجھایا کہ بیٹا! خاص ایام کے اثرات ہاتھوں تک سرایت نہیں کرتے۔
نوٹ: ایامِ خاص کے احکام ومسائل میری کتاب "مسلمان عورت" میں تفصیل کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں۔
سخاوت و دریا دلی:
آپؓ فیاضی و سخاوت میں بھی بلند مقام رکھتی تھیں، غریب پروری اور لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے قرضہ اٹھانے سے بھی دریغ نہ کرتی تھیں۔ کبھی کبھار تو قرضہ بہت اٹھا لیتیں۔ چنانچہ لوگوں کی سماجی ضروریات کو پورا کرنے کے پیشِ نظر ایک بار زیادہ رقم قرض لی تو کسی نے کہا کہ آپ اس کو کس طرح ادا کریں گی؟
تو اس سے آپؓ نے فرمایا: رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے: جو شخص ادا کرنے کی نیت میں مخلص ہو قرضے کی ادائیگی کا بندوبست خدا خود کر دیتا ہے۔ اسی سے آپؓ کے توکل علی اللہ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپؓ کو کس قدر اللہ کی ذات پر یقین اور اعتماد تھا۔
غلام / لونڈیاں کو آزاد کرنا:
سیدہ میمونہؓ کثرت سے غلام اور لونڈیاں آزاد کرتی تھیں۔ ایک بار آپؓ نے ایک لونڈی آزاد کی تو آپﷺ نے ان کے حق میں دعا دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تمہیں اس کا اجر عطا فرمائے۔
وفات:
جس مقام پر آپﷺ نے نکاح کے بعد آپؓ کو قربت بخشی بالکل اسی مقام پر آپؓ خدا کے قرب میں چلی گئیں۔ یعنی مقامِ سرف میں آپؓ کا ولیمہ ہوا اور اسی مقام پر آپؓ نے وفات پائی۔
51 ہجری سیدنا امیرِ معاویہؓ کے دورِ امارت میں آپؓ حج یا عمرہ کی غرض سے مکہ مکرمہ تشریف لائیں، یہاں آ کر آپؓ کی طیبعت ناساز ہوئی، اپنے بھانجے سیدنا یزید بن الاصمؒ کو فرمایا کہ مجھے مکہ سے لے چلو اس لیے کہ مجھے رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا کہ آپ کا انتقال مکہ میں نہیں ہوگا۔ سیدنا یزید بن الاصمؒ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ اُم المؤمنین سیدہ میمونہؓ کو مرض کی حالت میں مکہ سے لے کر چلے جب مقام سرف پر پہنچے تو آپؓ کا انتقال ہو گیا۔
جنازہ:
آپؓ کی نمازِ جنازہ سیدنا عبداللہ بن عباسؓ نے پڑھائی۔ سیدنا عطاء تابعیؒ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ سیدہ میمونہؓ کے جنازے میں شریک تھے، جب آپؓ کا جنازہ اٹھایا گیا تو سیدنا عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا کہ یہ رسول اللہﷺ کی زوجہ مطہرہ ہیں اس لیے باادب طریقے سے آہستہ آہستہ لے کر چلو، زیادہ حرکت نہ دو۔
تدفین:
آپؓ کو عبداللہ بن عباسؓ، یزید بن الاصمؒ، عبداللہ بن شدادؒ اور عبداللہ خولانیؒ نے قبر میں اتارا۔ پہلے تین بھانجے ہیں جبکہ عبداللہ خولانیؒ یتیم تھے ان کی پرورش اور کفالت آپؓ نے فرمائی تھی۔
نوٹ: مندرجہ بالا ازواجِ مطہراتؓ جنہیں امہات المؤمنین ہونے کا شرف حاصل ہے ان کی تعداد 11 ہے۔
ان کے علاوہ کچھ کنیزیں اور باندیاں بھی آپﷺ کےزیرِ تصرف تھیں۔ ان کے نام یہ ہیں:
  1. سیدہ ماریہ قبطیہؓ ان سے رسول اللہﷺ کے فرزند سیدنا ابراہیم پیدا ہوئے جو 18 ماہ بعد فوت ہو۔
  2.  سیدہ ریحانہ بنتِ شمعونؓ
  3. سیدہ نفیسہؓ
  4. سیدہ جمیلہؓ۔


صفحہ 3 از 3