خلیفہ کے انتخاب کے لیے مطلوبہ ووٹوں کی تعداد
علی محمد الصلابیثقہ راویوں کی سند سے ابن سعد نے نقل کیا ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صہیب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’آپ تین دن لوگوں کی امامت کرائیں، یہ لوگ کسی گھر میں اکٹھے ہوں، جب یہ لوگ کسی شخص پر اتفاق کریں تو مخالفت کرنے والے کا سر قلم کردو۔‘‘
(الطبقات لابن سعد: جلد 3 صفحہ 364)
ان لوگوں کے مخالفت کرنے اور مسلمانوں میں اختلاف و انتشار پیدا کرنے والے کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی قولِ نبوی پر عمل کرتے ہوئے قتل کرنے کا حکم دیا تھا:
مَنْ أَتَاکُمْ وَأَمْرُکُمْ جَمِیعٌْ عَلَی رَجُلٍ مِنْکُمْ یُرِیْدُ أَنْ یَّشُقَّ عَصَاکُمْ أَوْ یُفَرِقَ جَمَاعَتَکُمْ فَاقْتُلُوْہُ۔
(صحیح مسلم: جلد 3 صفحہ 1480)
’’تم اگر کسی شخص پر متفق ہو ایسی حالت میں کوئی آ کر تمھارے اندر اختلاف پیدا کرنا چاہے یا تمھاری جماعت کو منتشر کرنا چاہے تو اسے قتل کردو۔‘‘
کتبِ تاریخ میں جو یہ روایت آئی ہے کہ آپ نے انھیں اکٹھا ہونے اورباہمی مشورہ کرنے کا حکم دیا اور لوگوں کے سامنے یہ بات واضح کردی کہ جب ان میں سے پانچ کسی شخص پر متفق ہو جائیں، ایک انکار کرے تو تلوار سے اس کی گردن مار دو، اور اگر چار کسی کو منتخب کرلیں، دو انکار کریں تو ان کی گردن مار دو،
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 226)
اس روایت کی سند صحیح نہیں ہے، یہ ان عجیب و غریب روایتوں میں سے ہے جنھیں رافضی شیعہ ابومخنف نے صحیح روایتوں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرتوں کی مخالفت کرتے ہوئے نقل کیا ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں جب کہ آپ کو معلوم ہے کہ یہ لوگ چنندہ صحابیؓ ہیں اور ان فضائل اور مقام و مرتبہ کو جانتے ہوئے سیدنا عمر فاروقؓ ہی نے انھیں اس کام کے لیے منتخب کیا ہے۔
(مرویات أبي مخنف فی تاریخ الطبری: دیکھیے: یحییٰ: صفحہ 175)
ابن سعد سے منقول ہے کہ ’’سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انصار سے کہا: ان لوگوں کو تین دن کے لیے کسی گھر میں داخل کردو، اگر معاملے کو ٹھیک کرلیتے ہیں تو ٹھیک، ورنہ ان کی گردن مار دو۔‘‘
(الطبقات لابن سعد: جلد 3 صفحہ 342)
یہ روایت منقطع ہے، اس کی سند میں سماک بن حرب نامی راوی ضعیف ہیں، آخری عمر میں ان کا حافظہ خراب ہو گیا تھا۔
(مرویات أبي مخنف فی تاریخ الطبری: صفحہ 176)