تحریف آیات قرآن - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تحریف آیات قرآن

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 2

11: عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ بِنْ أَبِیْ نَصْرٍ قَالَ رَفَعَ إِلَیَّ ابُو الْحَسَنُ عَلَيْهِ السَّلَام مُصْحَفًا وَقَالَ لَا تَنْظُرُ فِيهِ فَفَتَحْتُهٗ وَقَرَاْتُ فِیْهِ لَمۡ يَكُنِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فَوَجَدتُّ فِيْهَا اسْمَ سَبْعِينَ رَجُلاً مِنْ قُرَيْشٍ بِأَسْمَائِهِمْ وَاسْمَاءِ آبَاءِ هِمْ قَالَ فَبَعَثَ إِلىَّ البعثُ إِلَىَّ بِالْمُصْحَفِ (اصول کافی: صفحہ 270) 

احمد بن محمد بن نصیر سے روایت ہے کہ امام علیہ السلام نے مجھے ایک قرآن دیا اور فرمایا کہ اس میں نظر نہ کرنا۔ پس میں نے جو اس میں سورۃ لَمۡ يَكُنِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا پڑھی تو اس میں ستر شخصوں کے نام بقید ولدیت پائے۔ راوی نے کہا کہ امام نے مجھے کہلا بھیجا ہے کہ وہ قرآن میرے پاس بھیج دو۔

12: عَنْ أَبِیْ جَعْفَر عَلَيْهِ السَّلَامُ نَزَلَ الْقُرْآنُ أَرْبَعَةَ أَرْبَاءٍ رُبُعٌ فِيْنَا وَرُبُعٌ فِیْ عَدُوِّنَا وَ رُبُعٌ سُنَنٌ وَ أَمْثَالٌ وَ رُبُعٌ فَرَائِضٌ وَ أَحْكَامٌ 

(اصول کافی: صفحہ 669)

امام محمد باقر نے فرمایا۔ قرآن چار حصوں میں نازل ہوا۔ ایک چوتھائی ہمارے فضائل میں نازل ہوا اور ایک چوتھائی ہمارے دشمنوں کے بارے میں اور ایک چوتھائی سنن اور امثال میں اور ایک چوتھائی فرائض و احکام ہیں۔

(بلکہ مولوی سید الفت حسین شیعی شکار پوری نے اس قرآن جمع کردہ علیؓ کی طباعت کا بھی ذکر کر دیا چنانچہ اپنے رسالے منع تبرا (مطبوعہ مطبع یوسفی واقع کوچہ فولاد خاں لاہور) کے صفحہ پر لکھا ہے۔ کیا سورة على و ولایت سورة فاطمی بعض مطبوع و بعض قلمی غالی شیعوں کے گھر میں نہیں؟ کیا لکھنو میں حاجی حسن علی نے یہ سورتیں نہیں چھاپیں مگر ایک دو ہی سورتیں چھپنی پائی تھیں کہ تنبیہ کی گئی، باقی غیر مطبوع رہیں۔

علاوه ازیں تفسیر صافی میں تو بالکل تصریح کر دی گئی ہے کہ یہ قرآن جو ہمارے پاس موجود ہے، نا مکمل اور ناقص ہے عبارت یوں ہے۔ المستقاد من مجموعٍ هَذِهِ الْأَخْبَارٍ وَغَيْرَهَا مِنَ الرَّوا مِن طَرِيقِ أَهْلَ الْبَيْتِ عَلَيْهِمُ السَّلامُ أَنَّ الْقُرْآنَ الَّذِی بَيْنَ أَظْهُرِنَا لَيْسَ بِتِمَامِهِ كَمَا أُنزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ بَلْ مِنْهُ مَا هُوَ خِلَافٌ مَا أَنزَلَ اللَّهُ مِنْهُ مَا هُوَ مُغَيَّرٌ مُحرَّفٌ أَنَّهُ قَدْ حُذِفَ عَنْهُ أَشْيَاءَ كَثِيرَةٌ مِّنْهَا اسْمُ عَلِی عَلَيْهِ السَّلَامُ فِی كَثِيرٍ مِنْ الْوَاضِعِ وَ مِنْهَا خَيْرٌ ذَالِكَ وَإِنَّهُ لَيْسَ ايضاً عَلَى التَّرْتِيبِ ..... عِنْدَ اللَّهِ وَعِنْدَ رَسُولِهِ وَ بِهِ قَالَ عَلِى بَنْ إِبْرَاهِيمَ۔ تفسیر صافی: صفحہ 14)

اگرچہ اور بھی بہت سی آیات اصولِ کافی میں لکھی ہیں جن میں تحریف صریح ہے لیکن ہم نے بطور مشتے نمونہ از خروارے بارہ آیات پر اکتفا کیا ہے، اب ادھر ائمہ اہلِ بیت امام محمد باقر و امام جعفر صادق حلفاً بیان کرتے ہیں کہ جبرئیلؑ آیت نبیﷺ پر یوں لایا اور یہ کہ سورۃ لم یکن میں قرآن جمع کردہ علیؓ میں ستر قریش کے نام تھے اور یہ کہ اس قرآن کے چار حصے تھے۔ ایک چوتھائی میں اہلِ بیت کے فضائل اور دوسری چوتھائی میں ان کے دشمنوں کے مصائب بیان کے گئے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ

ادھر ناظرین قرآن کریم کھول کر دیکھیں کہ الفاظ خط کشیدہ آیت میں پائے جاتے ہیں یا یہ ایجاد بندہ ہے اور قرآن موجود میں ستر قریش کے نام ہیں یا نہ؟ اور اہلِ بیت کے فضائل اور ان کے دشمنوں کے مصائب پائے جاتے ہیں یا نہ؟ جب ایسا نہیں ہے تو اس میں کیا شبہ باقی رہ جاتا ہے کہ شیعہ صریح تحریفِ قرآن کے قائل ہیں اور قرآن موجود پر ان کا ایمان نہیں ہے۔



صفحہ 2 از 2