سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے طریقِ کار میں تعیین و عدم تعیین دونوں کو شامل رکھا
علی محمد الصلابیسیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم تھا کہ مشاورت کی تکمیل صرف چھ لوگوں سے نہیں ہوسکتی، بلکہ ضروری ہے کہ خلافت کا کون مستحق ہے اس سلسلے میں مدینہ والوں کی رائے لی جائے، اس لیے ان کے لیے تین دن کی مدت مقرر کی، تاکہ وہ باہمی مشورہ اور بحث و مباحثہ کرسکیں تاکہ سیدنا عمر فاروقؓ کے بعد خلیفہ کی خلافت پر دار الہجرہ مدینہ میں موجود اکثر لوگوں کا اتفاق ہوسکے، اس میں اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے، اور مدینہ کے علاوہ دوسری جگہوں میں جو لوگ تھے وہ مدینہ کے صحابہ کرامؓ جس پر متفق ہوجائیں اس کو ماننے والے تھے۔ 23ھ تک مدینہ منورہ صحابہ کرامؓ خصوصاً کبارِ صحابہ کا گڑھ رہا، اس لیے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انھیں اپنے پاس ہی رکھا اور مفتوحہ علاقوں کی جانب نہیں جانے دیا۔
(المدینۃ النبویۃ فجر الإسلام و العصر الراشدی: جلد 2 صفحہ 97)