Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دوسری دلیل شیعہ کا حافظِ قران نہ ہونا

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

علاوہ ازیں عقیدہ کی پڑتال کے لیے ہر شخص کا عمل و فعل دیکھا جاتا ہے، اگر عمل قول کے مطابق نہ پایا جائے تو یہی سمجھا جاتا ہے کہ یہ شخص دل سے اس امر کا معتقد نہیں ہے سو اس بارہ میں فریقین کا تعلق دیکھنا چاہیے کہ دونوں میں سے کس فریق کو عملی طریق سے قرآن سے انس و محبت ہے، سو ظاہر ہے کہ سنی قرآن کو حرز جاں سمجھتے ہیں۔ حفظِ قرآن ان کو ورثے میں ملا ہوا ہے سینکڑوں نہیں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں حفاظِ قرآن سنیوں میں ملیں گے لیکن بمقابلہ اس کے چراغ لے کر ڈھونڈو اور ہندو اور پنجاب کی خاک چھان مارو تو ایک حافظ بھی شیعہ میں ملنا دشوار ہے، یہی وجہ ہے کہ اہلِ سنت کی طرف سے انعامی اشتہارات چھپتے رہتے ہیں لیکن کوئی شیعہ کوئی ایک حافظِ قران بھی پیش کرنے سے عاری ہیں۔ 

مدت سے ہمارے دوست حاجی غلام یاسین صاحبؒ تلہ گنگی نے ایک انعامی اشتہار شائع کرکے شیعانِ پنجاب کو چیلنج دے رکھا ہے لیکن اس کا جواب اب تک شیعہ حضرات کی طرف سے بجز گالم گلوچ کے کچھ نہیں ملا۔ ثبوت کے لیے "در نجف سیالکوٹ" کے پرچے دیکھو، کوئی پرچہ ایسا نہیں ملے گا جس میں حاجی صاحبؒ موصوف کو مغلظ گالیاں دے کر اپنے عجز کا ثبوت نہ دیا ہو۔ سچ ہے اِذَا یَئِسَ الْاِنْسَانُ طَالَ لِسَانُهٗ کَسِنَّوْرِ مَغْلُوْبٍ یَصُوْلُ عَلَی الْکَلْبِ 

ترجمہ: جب آدمی مقابلہ سے عاجز آ جاتا ہے تو گالی گلوچ پر اتر آتا ہے جیسا کہ مغلوب بلی سیانی ہو کر کتے کے منہ پر آنے لگ جاتی ہے۔