Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مجلس شوریٰ کی کارروائیوں کو چلانے میں سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کا منہج

  علی محمد الصلابی

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کے سلسلے میں مجلس شوریٰ کی کارروائیوں کو چلانے میں عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے منہج کو سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے بہت قریب سے دیکھا، یہ منہج درج ذیل نکات پر مشتمل تھا:

ا: مجلس شوریٰ کا مشاورت کے لیے اجتماع:

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تدفین کے فوراً بعد مجلس شوریٰ اور حکومت کی مجلس اعلیٰ کے ممبران ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں جمع ہوئے، دوسرے قول کے مطابق ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ کی بہن فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہ کے گھر میں جمع ہوئے تاکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد مسلمانوں کے سب سے اہم مسئلے میں کوئی فیصلہ لے سکیں، لوگو ں نے گفتگو کی، تفصیل سے اپنی آراء کا اظہار کیا، اور توفیق الہٰی سے ایسے فیصلے پر پہنچے جسے عام و خاص تمام مسلمانوں نے پسند کیا۔

 (عثمان بن عفان: لصادق عرجون: صفحہ 62، 63)

عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ دوسرے کے حق میں دستبردار ہونے کی دعوت دیتے ہیں:

جب اہل شوریٰ جمع ہوئے تو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ لوگ اپنا معاملہ اپنے میں سے تین کے حوالے کر دیں، چنانچہ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنا معاملہ علی (رضی اللہ عنہ) کے حوالے کرتا ہوں، طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنا معاملہ عثمان (رضی اللہ عنہ) کے حوالے کرتا ہوں، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنا معاملہ عبدالرحمٰن بن عوف (رضی اللہ عنہ) کے حوالے کرتا ہوں، اب امیدوار تین رہے:

1۔ علی بن ابی طالب 2۔ عثمان بن عفان

3۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم ۔

عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ دونوں حضرات میں سے جو بھی خلافت سے اپنی برأت ت ظاہر کرے ہم اسی کو خلافت دیں گے اور اللہ اس کا نگران و نگہبان ہوگا، اور اسلام کے حقوق کی ذمہ داری اس پر لازم ہوگی، آپ دونوں میں سے ہر شخص کو غور کرنا چاہیے کہ اس کے خیال میں کون افضل ہے۔ اس پر علی و عثمان رضی اللہ عنہما چپ رہے تو عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا: کیا آپ دونوں یہ معاملہ مجھے سونپ رہے ہیں، اللہ کی قسم آپ دونوں میں سے جو افضل ہو گا اس کے سلسلے میں کوتاہی نہیں کروں گا؟ دونوں نے کہا: ہاں۔

(صحیح البخاری: کتاب فضائل أصحاب النبی: رقم: 3700)