Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فضائل اصحاب ثلاثہؓ کا ثبوت قرآن کریم سے

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

یوں قرآن کریم عمل سے آخر تک فضائلِ مہاجرین و انصار (جن میں سے اصحابِ ثلاثہؓ کا نمبر اول ہے) سے بھرا ہوا ہے اور اصحاب کبار کے فضائل و مناقب کا ایسی صراحت اور وضاحت سے بیان کیا گیا ہے کہ کسی موافق و مخالف کو انکار کی گنجائش نہیں ،مگر ہم اس موقع پر ایسی آیات پیش کریں گے جن سے اصحابِ ثلاثہؓ کے فضائل روزِ روشن کی طرح واضح ہیں 

1: وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجٰهَدُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰۤئِكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا‌ لَّهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ 

(سورۃ الانفال: آیت 78)

ترجمہ: اور جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے ہجرت کی، اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا، وہ اور جنہوں نے انہیں آباد کیا اور ان کی مدد کی وہ سب صحیح معنوں میں مومن ہیں۔ ایسے لوگ مغفرت اور باعزت رزق کے مستحق ہیں۔

اس آیت میں حق تعالیٰ نے بڑی صفائی سے کھلے الفاظ میں اصحابِ ثلاثہؓ کے ایمان حقیقی اور ان کے بخشا جانے اور جنتی ہونے کی تصدیق فرمائی ہے۔ اصحابِ ثلاثہؓ بے شک "وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا" کے پورے طور پر مصداق ہیں اور آنحضرتﷺ کے ساتھ ایمان لائے۔ آپﷺ کے ساتھ خدا کی راہ میں ہجرت کی، کفار سے جہاد کیے پھر اولین مہاجرین ہونے کے باعث پچھلے مہاجرین کی امداد و نصرت بھی کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان اوصافِ جمیلہ کے باعث ان کے کمال ایمان، مغفرت اور بہشتی ہونے کی شہادت دی ہے۔ پھر جو شیعہ ان کو معاذ اللہ منافق و کافر کہتے ہیں وہ قرآن کو جھٹلاتے اور اپنے نامہ اعمال کو سیاہ کرتے ہیں۔ آیت میں "اُولٰۤئِكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ" کے بعد حَقًّا‌ کی تائید اور اس کے بعد "لَّهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ" کا جملہ واقعی خلفاء ثلاثہؓ کے حقیقی کامل اور مکمل ایمان کی بڑی زبردست شہادت الٰہی ہے۔ اگر کسی بدنصیب کے دل پر کفر کا قفل نہ لگ گیا ہو تو پھر ایسی زبردست رحمانی شہادت کے بعد ممکن نہیں کہ خلفاء ثلاثہؓ کے ایمان اور ان کے فضائل میں کچھ شک و شبہ کی گنجائش باقی رہ جائے۔

2: وَالَّذِيۡنَ هَاجَرُوۡا فِى اللّٰهِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا ظُلِمُوۡا لَـنُبَوِّئَنَّهُمۡ فِى الدُّنۡيَا حَسَنَةً‌ وَلَاَجۡرُ الۡاٰخِرَةِ اَكۡبَرُ‌ لَوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ 

ترجمہ: اور جن لوگوں نے دوسروں کے ظلم سہنے کے بعد اللہ کی خاطر اپنا وطن چھوڑا ہے، یقین رکھو کہ انہیں ہم دنیا میں بھی اچھی طرح بسائیں گے اور آخرت کا اجر تو یقیناً سب سے بڑا ہے۔ کاش کہ یہ لوگ جان لیتے۔

باری تعالیٰ نے اس آیت میں مہاجرین کاملین کی شناخت کا جنہوں نے محض خدا کی راہ میں سچی نیت سے ہجرت کی اور اتباعِ رسولﷺ میں اپنا وطن چھوڑا ایک عہد و نشان بتلا دیا ہے، وہ یہ کہ ان کی قابلِ قدر سچی جان فشانی اور مخلصانہ خدمت کا معاوضہ ان کو دنیا میں بھی عطا ہو گا "لَـنُبَوِّئَنَّهُمۡ فِى الدُّنۡيَا حَسَنَةً‌" یعنی دنیا میں ان کو مسند جلیل خلافت عطا ہوگی اور قیامت میں ان کا رتبہ بہشت بہت ہی اعلیٰ ہو گا۔ اب ہم اس بیّن نشان سے سچے اور جھوٹے مقبول اور غیر مقبول گروہ کا پورا اعتبار کر سکتے ہیں کہ جس گروہ کے حق میں یہ پیشن گوئی اور وعدہ الٰہی پورا ہوا وہ خاص مقبول درگاہ ایزادی ہے۔ 

اب ہم شیعہ صاحبان سے پوچھتے ہیں کہ یہ پیشن گوئی اصحابِ ثلاثہؓ کے حق میں پوری ہوئی یا نہیں؟ ماننا پڑے گا کہ پوری ہوئی اور بڑی صفائی سے۔ اس سے بہتر دنیا میں اچھا ٹھکانہ کیا ہو سکتا ہے کہ اصحابِ ثلاثہؓ آنحضرتﷺ کی زندگی میں مقرب خاص اور حضوری رہے اور آپﷺ کے ارتحال کے بعد آپﷺ کی مقدس اور مبارک مسند پر جاگزیں ہوئے، خلافتِ رسولﷺ کی کرسی کا اعزاز نصیب ہوا۔ تقریبا ایک لاکھ چوبیس ہزار اصحابؓ نے ان کو سچا خلیفہ مان کر ان کی اطاعت کی اور بڑی عزت سے احکامِ خداوندی کو نافذ فرماتے رہے، تمام اعدائے دین و مخالفینِ اسلام کو نیست و نابود کر کے کافۃ الانام کو اسلام کا حلقہ بگوش بنایا۔ قیصر و کسریٰ کے تخت کے مالک ہو گئے اور تمام کبراء زمانہ کی گردنیں ان کے سامنے جھک گئیں، جس قدر فتوحات ملکی ان کو نصیب ہوئیں ان کی شہادت اب تک تاریخِ عالم میں موجود ہے۔ "لَـنُبَوِّئَنَّهُمۡ فِى الدُّنۡيَا حَسَنَةً‌" کا وعدہ الٰہی تو پورا ہو گیا۔ "لَاَجۡرُ الۡاٰخِرَةِ اَكۡبَرُ‌" کا وعدہ بھی ان شاءاللہ آخرت میں پورا ہوگا کیونکہ خدا کے پاک اور حتمی وعدوں میں تخلف نہیں ہے۔ شیعہ بتائیں کہ کیا خدا کے اعزازی وعدے منافقین اور مشکوک الایمان لوگوں کے حق میں پورے ہوا کرتے ہیں یا اس کے سچے مخلصین عبادت و صالحین ہی ان سے بہرہ ور ہوتے ہیں انصاف! انصاف! 

3: الَّذِيۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ بِغَيۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ‌ ۞

(سورۃالحج: آیت 40)

ترجمہ: یہ وہ لوگ ہیں جنہیں صرف اتنی بات پر اپنے گھروں سے ناحق نکالا گیا ہے کہ انہوں نے یہ کہا تھا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے اس آیت میں ان مہاجرین کی شناخت بتلائی گئی ہے 

"هَاجَرُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ" کے مصداق وہی لوگ ہیں جو صرف خدا کی توحید کا کلمہ پڑھنے پر اپنے گھروں سے نکال دیے گئے۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اصحابِ ثلاثہؓ کسی سرقہ یا ڈکیتی کے جرم میں اپنے وطن سے نکال دیے گئے تھے؟ یا کسی اور بات پر اپنے دیار کو چھوڑ کر بھاگتے تھے؟ ہرگز نہیں، صرف اسی دعویٰ "رَبُّنَا اللہُ" کے بدلے جو مخالفینِ اسلام کو ناگوار گزرتا تھا گھروں سے بغیر کسی حق کے نکالے گئے ان لوگوں کے حق میں اس آیت کی ابتدا میں درج ہے۔

وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَـصۡرِهِمۡ لَـقَدِيۡرُ یعنی خدائے قدیر ان کا معاون و مددگار ہے دیکھو خدا کا وعدہ کیسا پورا ہوا؟ آخر کار یہی منصور جماعت غالب رہی، اس آیت سے آگے انہی لوگوں کا نشان رب العباد ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے۔ اَلَّذِيۡنَ اِنۡ مَّكَّنّٰهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَاَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَنَهَوۡا عَنِ الۡمُنۡكَرِ‌ 

(سورۃالحج: آیت 41)

ترجمہ: یہ ایسا مخلص گروہ ہے کہ ان کو زمین پر تمکن (اقتدار) حاصل ہو جائے تو پھر بھی نمازیں پڑھتے، زکوٰۃ دیتے، بھلائی کو کم کرتے اور برائی سے منع کرتے ہیں دیکھو یہ نشان ان نفوسِ مقدسہ میں کیسا چمکتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ "مَّكَّنّٰهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ" کے مصداق ہو کر جلیل (خلافت) پر ممتاز ہو کر بھی اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ کے مصداق بنے رہے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں اپنی زندگیاں بسر کر گئے۔ افسوس! شیعہ ایسے پاک نفوس کے حق میں بدگمانی کرتے ہیں جن کی نسبت اللہ تعالیٰ کھلے کھلے نشان بتا کر ان کی فضیلت کا ثبوت دے رہا ہے ۔

4: لِلۡفُقَرَآءِ الۡمُهٰجِرِيۡنَ الَّذِيۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ وَاَمۡوَالِهِمۡ يَبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا وَّيَنۡصُرُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ‌ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوۡنَ‌۞

(سورۃالحشر: آیت 8)

ترجمہ: (نیز یہ مال فیئ) ان حاجت مند مہاجرین کا حق ہے جنہیں اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے بےدخل کیا گیا ہے۔ وہ اللہ کی طرف سے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلب گار ہیں، اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کی مدد کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو راست باز ہیں۔ 

اس آیت میں خداوند تعالیٰ نے ان فقراء مہاجرین کو صادق و مصدوق ٹھہرایا ہے جو اپنے دیار و اموال چھوڑ کر محض خدا کے فضل اور اس کی رضاء کی طلب میں جلاوطن ہو گیا ہے اور "وَّيَنۡصُرُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ‌" کے مصداق تھے۔ شیعہ بتائیں کہ اصحابِ ثلاثہؓ اس آیت کے مصداق ہیں یا نہیں؟ کیا وہ اپنی بستیاں اور اپنے مال و املاک چھوڑ تہی دست ہو کر صرف خدا اور رسول اللہﷺ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے مدینہ میں نہیں جا بسے تھے؟ کیا رسول پاکﷺ کی نصرت و امداد میں کوئی دقیقہ باقی چھوڑا تھا؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو صادقین کا مبارک لقب عطا فرماتا ہے۔ اب تم ہی بتاؤ کہ صادقین کا تمغہ منافقین کو بھی مل سکتا ہے؟ اللہ اللہ! خدا کا یہ عطیہ (صادق و صدیق) کا مبارک لقب زبان زدِ خاص و عام سن کر رافضی بیچارے جل بھن جاتے ہیں اور جلے دل سے کہنے لگ جاتے ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو لقب کوئی خدا اور رسولﷺ کی طرف سے تو نہیں ملا۔ بھائیو! ذرا آنکھیں کھولو اور غور کرو "اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوۡنَ‌" کہنے والا کون ہے؟ اگر یہ خدا کا کلام ہے تو یقیناً سمجھو کہ اس فقرہ پاک کے اثر میں ابوبکرؓ کی نسبت وصفِ صدق میں مبالغہ کا صیغہ یعنی (صدیق) شہرت پذیر ہوا۔ خدائے کریم کے عطیہ لقب صادقین کے خطاب مشتہرہ سے ہر ایک شخص نے اپنے نصیب اور رتبہ کے مطابق حصہ لینا تھا اور جیسا کہ ہجرت کرنے والوں میں سے ابوبکرؓ رسولِ پاکﷺ کی نصرت میں سب سے اول نمبر رہے، آپﷺ کی خدمت اور حفاظت کا حق غارِثور جیسے ہولناک مقام میں پورے طور پر ادا کیا۔ تین روز انوار و برکات کا جنہوں نے تمام دنیا کو منورہ مستفیض کرنا تھا تنہائی میں فیضان حاصل کیا، پھر آپﷺ کے ہم رکاب مدینہ میں شدائد سفر برداشت کر کے پہنچے۔ ویسا ہی یہ لقب بھی جو کہ پیشگاہ حضورﷺ سے اس خدمت کے صلہ میں جملہ خدام کو بالعموم عطا ہوا تھا۔ ابوبکرؓ کو بلحاظ ان کی خدمت کے بالخصوص مبالغہ کے صیغہ میں تعریف میں عطا ہونا چاہیے تھا، جو ہوا۔ اب لامحالہ یہ صدیقی لقب خلیفہ اول کے لیے عطیہ ایزدی مانا پڑے گا۔

5: وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَار َالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ تَحۡتَهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ ذٰ لِكَ الۡـفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ 

(سورۃالتوبہ: آیت 100)

ترجمہ: اور مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سب سے راضی ہو گیا ہے اور وہ اس سے راضی ہیں اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔

اس آیت میں صحابہؓ کے مراتب کا بیان ہے۔ خداوند کریم نے سب کا ذکر درجہ وار فرمایا۔ مدارج میں پہلے مہاجرین پھر انصار، بعد تابعین ہیں۔ اسی ترتیب سے آیت میں ان کا ذکر ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر سہ گروہ صحابہؓ کا جنتی ہونا اور ان کو پروانہ خوشنودی بارگاہ ایزدی سے عطا ہو جانا بیان فرما دیا ہے۔ یہ آیت پکار کر کہتی ہے کہ فضیلت میں مہاجرین دوسرے صحابہ کرامؓ پر فائق ہیں اور پھر مہاجرین میں سے سب سے بڑا رتبہ اس شخص کا ہے جو سب سے اسبق فی الہجرت مع رسولﷺ ہے۔ جانتے ہو وہ کون شخص ہے؟ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہے، جو بحکم اس آیت کریمہ کے افضل الصحابہؓ ہیں۔ مکہ مکرمہ سے نکلنے کے وقت یہ پہلا شخص شخص جو حضورﷺ کے ساتھ تھا اس کو اسبق فی الہجرت مع رسول کا فخر حاصل ہے اور یہ مُسلَّم الطرفین ہے کہ وہ شخص ابوبکر صدیقؓ ہی تھا جو مکہ سے رسول پاکﷺ کا پہلا قدم اٹھانے اور مدینہ میں آخری قدم رکھنے تک آپﷺ کے تابع اور ہم قدم رہا، جس نے یہ مبارک اور پسندیدہ خدا سفرِ ہجرت اس سردار دو جہان محبوب عالمیان کے ساتھ قدم بقدم طے کیا۔ زہے نصیب حضرت ابوبکرؓ ہے، شانِ ابوبکرؓ۔ جس کو سفر میں ایسا خیر رفیق جس کی لقاء کے لیے سُکانِ عالم ملکوت بھی ترستے ہیں، نصیب ہوا۔ 

چہ خوش باشد سفر آندم کے یارے ہم سفر باشد 

چناں یارے کہ زیبا طلعتش رشک قمر باشد 

سوار ناقہ احمدﷺ سرور جن و بشر باشد 

عناش در کف صدیقؓ پیر نامور باشد 

6: لَا يَسۡتَوِىۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقَاتَلَ‌ اُولٰٓئِكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَقَاتَلُوۡا‌ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى‌۞

(سورۃ حدید: آیت 10)

ترجمہ: وہ درجے میں ان لوگوں سے بڑھے ہوئے ہیں جنہوں نے (فتح مکہ کے) بعد خرچ کیا، اور لڑائی لڑی۔ یوں اللہ نے بھلائی کا وعدہ ان سب سے کر رکھا ہے۔ 

اس آیت میں ایزد متعال نے اس بات کا فیصلہ فرما دیا ہے کہ فتح مکہ سے پہلے یارانِ رسولﷺ (جنہوں نے جانی و مالی خدمات کیں) بہت بڑا رتبہ رکھتے ہیں۔ اب کون شخص انکار کر سکتا ہے کہ اصحابِ ثلاثہؓ پہلے گروہ میں داخل ہیں جو فتح مکہ سے پہلے اپنی جان و مال کو آقائے نامدار رسولِ پاکﷺ پر نثار کیے ہوئے تھے اور کفار نابکار سے جہاد و قتال کرتے رہے۔ اس آیت کی رو سے بھی حضرت ابوبکرؓ کی فضیلت کا نمایاں ثبوت ملتا ہے۔ کیونکہ آپؓ ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے حضورﷺ کی خدمت میں اپنا سارا مال (جو گھر میں رکھتے تھے) لا کر پیش کر دیا اور خود ایک کمبل اوڑھ لیا، پھر حضرت ابوبکر صدیقؓ ہی وہ شخص ہیں جن کے گھر سے غارِ ثور میں سید انس و جاں (فداہ ابی و امی) کا نان و نفقہ پہنچتا رہا۔ کوئی شخص نہیں جو اس یارِ غار کی ہمسری کا دعویٰ کر سکے۔ "ذٰ لِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ‌" 

7: هُوَ الَّذِىۡۤ اَيَّدَكَ بِنَصۡرِهٖ وَبِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ‌ لَوۡ اَنۡفَقۡتَ مَا فِى الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا مَّاۤ اَلَّفۡتَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَيۡنَهُمۡ‌ اِنَّهٗ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ یٰـاَيُّهَا النَّبِىُّ حَسۡبُكَ اللّٰهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ۞

(سورۃ الانفال آیت: 62، 63)

ترجمہ: وہی تو ہے جس نے اپنی مدد کے ذریعے اور مومنوں کے ذریعے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے ہیں اور ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی الفت پیدا کردی۔ اگر تم زمین بھر کی ساری دولت بھی خرچ کرلیتے تو ان کے دلوں میں یہ الفت پیدا نہ کر سکتے، لیکن اللہ نے ان کے دلوں کو جوڑ دیا، وہ یقیناً اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک اے نبی! تمہارے لیے تو بس اللہ اور وہ مومن لوگ کافی ہیں جنہوں نے تمہاری پیروی کی ہے۔

اس جگہ خداوند کریم رسولِ پاکﷺ کو تسلی بخش الفاظ فرماتا ہے کہ ہر چند کفار تجھ سے مکر لڑائیں، تیرا بال بیکا نہیں کر سکتے۔ دشمن کے مقابل میں آپﷺ بالکل مطمئن رہیں، آخر میدان آپﷺ کے ہاتھ میں ہوگا۔ دشمن تیرے مقابلہ کی کیا تاب رکھ سکتا ہے، جبکہ آپﷺ کی حامی اور موئد ایک تو ہماری نصرت ہے، دوسرا آپﷺ کے ماتحت وہ الٰہی فوج ہے۔ جس کا معائنہ ڈاکٹری نسبت امراض قلبی (قساوت و جبن) وغیرہ کرنے والے ہم خود ہیں۔ ہم نے پہلے ہی منتخب کر کے آپﷺ کی فوج میں وہ نمک حلال سپاہی بھرتی کئے ہیں، جن کے دل جملہ امراض سے پاک ہیں اور صاف ہیں۔ ان کو ہمارے حضور سے ایمان (اخلاص و اطاعتِ فرمان) کا تمغہ مبارک خطاب مومنین عطا ہو چکا ہے۔

دوم: اس بیڑہ کے جنگی ملازمین کے ہم نے دل باہم ایسے جوڑ دیے ہیں کہ ممکن نہیں کہ کوئی ان میں پھوٹ ڈال سکے اور یہ تالیفِِ قلوب کسی انسانی حکمت کا کام نہیں تھا۔ اگر دنیا کے سارے خزانے بھی اس کام پر خرچ کر دیے جائیں تو ایسا ہونا ناممکن تھا۔ یہ صرف ہماری زبردست حکمت کا کام تھا۔ شیعہ صاحبان اس آیت مبارکہ کے مضمون پر غور کریں۔ رب العباد نے کھلے لفظوں میں فرمایا ہے کہ جماعتِ رسولیﷺ میں تو ایک خالص مخلص پاک دل گروہ ہمارے خاص حکم سے داخل کیا گیا ہے، جن کی صفائی پر کسی انسانی شہادت کی ضرورت نہیں ہے اور خالص مخلص جماعت کو بارگاہ الٰہی سے مومنین کا لقب مل چکا ہے۔ پھر شیعہ باوجود الٰہی شہادت کے ان کی بابت کیسے اشتباہ کر سکتے ہیں اور اس لقب خدا داد (مومنین) کا تمغہ ان سے چھین سکتے ہیں۔ دیکھو! جس فوج کے ایک ملازم تک اس الٰہی تمغہ (ایمان) سے لیس ہو چکے ہیں اس کے اعلیٰ افسران کا جو رتبہ حضور الٰہی میں ہو سکتا ہے تم خود ہی قیاس کر سکتے ہو۔ اس جماعت میں تو جماعتِ رسولیﷺ حزب اللہ (الٰہی فوج) کے ہر ایک ملازم کی صفائی کی شہادت دی گئی ہے۔ اب اس اگلی آیت میں خاص اس فوج کے اعلیٰ افسران (سرداران) کے حالات اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے۔

8: مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ‌ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ تَرٰٮهُمۡ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا‌ سِيۡمَاهُمۡ فِىۡ وُجُوۡهِهِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ‌۞ 

(سورۃالفتح: آیت 28)

ترجمہ: محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں (اور) آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔ تم انہیں دیکھو گے کہ کبھی رکوع میں ہیں، کبھی سجدے میں، (غرض) اللہ کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی علامتیں سجدے کے اثر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔

اس آیت میں حق سبحانہ و تعالیٰ ان خاصانِ بارگاہ محمدی کے اوصاف جمیلہ کا بیان فرماتا ہے اور ان کی اعلیٰ ہمت اور جواں مردی اور باہمی اتفاق اور ان کے کریکٹر (نیک چلن) اطاعتِ الٰہی کی تعریف کرتا ہے، یعنی میرے اس اسلامی شہنشاہ کی کمانڈ ان بہادروں کے ہاتھ میں ہے جو دل سے اس شہنشاہ کا ہر وقت ساتھ دینے والے ہیں "وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ" کے مضمون اور معیت کے معنیٰ پر خوب غور فرمائیے "اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ" دشمن کی فوج پر غیظ و غضب سے ٹوٹ پڑنے والے۔ دشمن پر ان کی شدت قہر و صولت کا ایسا اثر پڑتا ہے کہ دیکھتے ہی ان کے چھکے چھوٹ جاتے ہیں۔ "رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ" آپس میں ایک دوسرے پر جان دینے والے۔ صحابہ کرامؓ کے باہمی اتفاق کو ظاہر کرنے کے لیے "رُحَمَآءُ" کا لفظ کس قدر موزوں ہے، وصفِ رحمیت ہزار ہزار اتفاق کو اپنے اندر لپیٹے ہوئے ہے اور واقعی اسلامی پیشواؤں کا اتفاق کوئی معمولی اتفاق نہ تھا بلکہ وہ سچے "رُحَمَآءُ" تھے۔ اس پکے وصف نے دشمن کے ہر ایک مقابلہ پر ان کو غالب اور فتح یاب کر دیا۔ بھلا معمولی اتفاق بھی مقابلہ دشمن کے لیے کامیابی کا باعث ہوتا ہے چہ جائیکہ اتفاق رحمیت کی حد تک پہنچا ہوا ہو جس پر ہزار ہا اتفاق قربان ہیں۔ افسوس! اس "رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ" کے مُسلَّمہ وصف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں بھی شیعہ صاحبان دست اندازی کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ "تَرٰٮهُمۡ رُكَّعًا سُجَّدًا" یعنی باوجود اس اقتدار عظیم کے جو ان اسلامی سرداروں کو حاصل ہے، پھر بھی "رُكَّعًا" یعنی سر نیاز خم کیے ہوئے "سُجَّدًا" بلکہ سر عجز زمین پر رکھے ہوئے دیکھ لو۔ "يَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا‌" یہ خدائی پلٹن کے افسر کسی دنیوی اعزاز کے طالب اور دولت کے خواہاں نہیں ہیں اور اپنی ان سچی خدمات کا کوئی صلہ نہیں چاہتے ہاں صرف اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ "سِيۡمَاهُمۡ فِىۡ وُجُوۡهِهِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ‌" ان سرداروں کی شناخت کے لیے وردی کے ساتھ بلے لٹکانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ان کی شناخت کے لیے ان کے ہاتھوں میں امتیازی خدائی نشان کثرتِ سجود کے باعث تاباں و درخشاں ہیں جو قیامت تک قائم رہیں گے۔ اب شیعہ صاحبان خود ہی انصاف کریں کہ اس تعریفِ الٰہی کے مصداق اسلامی پیشواؤں کی نسبت کیسے واہی تباہی خیالات کیے جاتے ہیں کہ یہ لوگ مشکوک الایمان ہیں۔

"نعوذ باللہ من ھذاہ لخرافات"