فضائل اصحاب ثلاثہؓ کا ثبوت قرآن کریم سے - ردِ رافضیت | دفاع…

فضائل اصحاب ثلاثہؓ کا ثبوت قرآن کریم سے

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 4

یوں قرآن کریم عمل سے آخر تک فضائلِ مہاجرین و انصار (جن میں سے اصحابِ ثلاثہؓ کا نمبر اول ہے) سے بھرا ہوا ہے اور اصحاب کبار کے فضائل و مناقب کا ایسی صراحت اور وضاحت سے بیان کیا گیا ہے کہ کسی موافق و مخالف کو انکار کی گنجائش نہیں ،مگر ہم اس موقع پر ایسی آیات پیش کریں گے جن سے اصحابِ ثلاثہؓ کے فضائل روزِ روشن کی طرح واضح ہیں 

1: وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجٰهَدُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰۤئِكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا‌ لَّهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ 

(سورۃ الانفال: آیت 78)

ترجمہ: اور جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے ہجرت کی، اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا، وہ اور جنہوں نے انہیں آباد کیا اور ان کی مدد کی وہ سب صحیح معنوں میں مومن ہیں۔ ایسے لوگ مغفرت اور باعزت رزق کے مستحق ہیں۔

اس آیت میں حق تعالیٰ نے بڑی صفائی سے کھلے الفاظ میں اصحابِ ثلاثہؓ کے ایمان حقیقی اور ان کے بخشا جانے اور جنتی ہونے کی تصدیق فرمائی ہے۔ اصحابِ ثلاثہؓ بے شک "وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا" کے پورے طور پر مصداق ہیں اور آنحضرتﷺ کے ساتھ ایمان لائے۔ آپﷺ کے ساتھ خدا کی راہ میں ہجرت کی، کفار سے جہاد کیے پھر اولین مہاجرین ہونے کے باعث پچھلے مہاجرین کی امداد و نصرت بھی کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان اوصافِ جمیلہ کے باعث ان کے کمال ایمان، مغفرت اور بہشتی ہونے کی شہادت دی ہے۔ پھر جو شیعہ ان کو معاذ اللہ منافق و کافر کہتے ہیں وہ قرآن کو جھٹلاتے اور اپنے نامہ اعمال کو سیاہ کرتے ہیں۔ آیت میں "اُولٰۤئِكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ" کے بعد حَقًّا‌ کی تائید اور اس کے بعد "لَّهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ" کا جملہ واقعی خلفاء ثلاثہؓ کے حقیقی کامل اور مکمل ایمان کی بڑی زبردست شہادت الٰہی ہے۔ اگر کسی بدنصیب کے دل پر کفر کا قفل نہ لگ گیا ہو تو پھر ایسی زبردست رحمانی شہادت کے بعد ممکن نہیں کہ خلفاء ثلاثہؓ کے ایمان اور ان کے فضائل میں کچھ شک و شبہ کی گنجائش باقی رہ جائے۔

2: وَالَّذِيۡنَ هَاجَرُوۡا فِى اللّٰهِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا ظُلِمُوۡا لَـنُبَوِّئَنَّهُمۡ فِى الدُّنۡيَا حَسَنَةً‌ وَلَاَجۡرُ الۡاٰخِرَةِ اَكۡبَرُ‌ لَوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ 

ترجمہ: اور جن لوگوں نے دوسروں کے ظلم سہنے کے بعد اللہ کی خاطر اپنا وطن چھوڑا ہے، یقین رکھو کہ انہیں ہم دنیا میں بھی اچھی طرح بسائیں گے اور آخرت کا اجر تو یقیناً سب سے بڑا ہے۔ کاش کہ یہ لوگ جان لیتے۔

باری تعالیٰ نے اس آیت میں مہاجرین کاملین کی شناخت کا جنہوں نے محض خدا کی راہ میں سچی نیت سے ہجرت کی اور اتباعِ رسولﷺ میں اپنا وطن چھوڑا ایک عہد و نشان بتلا دیا ہے، وہ یہ کہ ان کی قابلِ قدر سچی جان فشانی اور مخلصانہ خدمت کا معاوضہ ان کو دنیا میں بھی عطا ہو گا "لَـنُبَوِّئَنَّهُمۡ فِى الدُّنۡيَا حَسَنَةً‌" یعنی دنیا میں ان کو مسند جلیل خلافت عطا ہوگی اور قیامت میں ان کا رتبہ بہشت بہت ہی اعلیٰ ہو گا۔ اب ہم اس بیّن نشان سے سچے اور جھوٹے مقبول اور غیر مقبول گروہ کا پورا اعتبار کر سکتے ہیں کہ جس گروہ کے حق میں یہ پیشن گوئی اور وعدہ الٰہی پورا ہوا وہ خاص مقبول درگاہ ایزادی ہے۔ 

اب ہم شیعہ صاحبان سے پوچھتے ہیں کہ یہ پیشن گوئی اصحابِ ثلاثہؓ کے حق میں پوری ہوئی یا نہیں؟ ماننا پڑے گا کہ پوری ہوئی اور بڑی صفائی سے۔ اس سے بہتر دنیا میں اچھا ٹھکانہ کیا ہو سکتا ہے کہ اصحابِ ثلاثہؓ آنحضرتﷺ کی زندگی میں مقرب خاص اور حضوری رہے اور آپﷺ کے ارتحال کے بعد آپﷺ کی مقدس اور مبارک مسند پر جاگزیں ہوئے، خلافتِ رسولﷺ کی کرسی کا اعزاز نصیب ہوا۔ تقریبا ایک لاکھ چوبیس ہزار اصحابؓ نے ان کو سچا خلیفہ مان کر ان کی اطاعت کی اور بڑی عزت سے احکامِ خداوندی کو نافذ فرماتے رہے، تمام اعدائے دین و مخالفینِ اسلام کو نیست و نابود کر کے کافۃ الانام کو اسلام کا حلقہ بگوش بنایا۔ قیصر و کسریٰ کے تخت کے مالک ہو گئے اور تمام کبراء زمانہ کی گردنیں ان کے سامنے جھک گئیں، جس قدر فتوحات ملکی ان کو نصیب ہوئیں ان کی شہادت اب تک تاریخِ عالم میں موجود ہے۔ "لَـنُبَوِّئَنَّهُمۡ فِى الدُّنۡيَا حَسَنَةً‌" کا وعدہ الٰہی تو پورا ہو گیا۔ "لَاَجۡرُ الۡاٰخِرَةِ اَكۡبَرُ‌" کا وعدہ بھی ان شاءاللہ آخرت میں پورا ہوگا کیونکہ خدا کے پاک اور حتمی وعدوں میں تخلف نہیں ہے۔ شیعہ بتائیں کہ کیا خدا کے اعزازی وعدے منافقین اور مشکوک الایمان لوگوں کے حق میں پورے ہوا کرتے ہیں یا اس کے سچے مخلصین عبادت و صالحین ہی ان سے بہرہ ور ہوتے ہیں انصاف! انصاف! 

3: الَّذِيۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ بِغَيۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ‌ ۞

(سورۃالحج: آیت 40)

ترجمہ: یہ وہ لوگ ہیں جنہیں صرف اتنی بات پر اپنے گھروں سے ناحق نکالا گیا ہے کہ انہوں نے یہ کہا تھا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے اس آیت میں ان مہاجرین کی شناخت بتلائی گئی ہے 

"هَاجَرُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ" کے مصداق وہی لوگ ہیں جو صرف خدا کی توحید کا کلمہ پڑھنے پر اپنے گھروں سے نکال دیے گئے۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اصحابِ ثلاثہؓ کسی سرقہ یا ڈکیتی کے جرم میں اپنے وطن سے نکال دیے گئے تھے؟ یا کسی اور بات پر اپنے دیار کو چھوڑ کر بھاگتے تھے؟ ہرگز نہیں، صرف اسی دعویٰ "رَبُّنَا اللہُ" کے بدلے جو مخالفینِ اسلام کو ناگوار گزرتا تھا گھروں سے بغیر کسی حق کے نکالے گئے ان لوگوں کے حق میں اس آیت کی ابتدا میں درج ہے۔

وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَـصۡرِهِمۡ لَـقَدِيۡرُ یعنی خدائے قدیر ان کا معاون و مددگار ہے دیکھو خدا کا وعدہ کیسا پورا ہوا؟ آخر کار یہی منصور جماعت غالب رہی، اس آیت سے آگے انہی لوگوں کا نشان رب العباد ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے۔ اَلَّذِيۡنَ اِنۡ مَّكَّنّٰهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَاَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَنَهَوۡا عَنِ الۡمُنۡكَرِ‌ 

(سورۃالحج: آیت 41)

صفحہ 1 از 4