فضائل اصحاب ثلاثہؓ کا ثبوت قرآن کریم سے - ردِ رافضیت | دفاع…

فضائل اصحاب ثلاثہؓ کا ثبوت قرآن کریم سے

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 4

ترجمہ: یہ ایسا مخلص گروہ ہے کہ ان کو زمین پر تمکن (اقتدار) حاصل ہو جائے تو پھر بھی نمازیں پڑھتے، زکوٰۃ دیتے، بھلائی کو کم کرتے اور برائی سے منع کرتے ہیں دیکھو یہ نشان ان نفوسِ مقدسہ میں کیسا چمکتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ "مَّكَّنّٰهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ" کے مصداق ہو کر جلیل (خلافت) پر ممتاز ہو کر بھی اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ کے مصداق بنے رہے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں اپنی زندگیاں بسر کر گئے۔ افسوس! شیعہ ایسے پاک نفوس کے حق میں بدگمانی کرتے ہیں جن کی نسبت اللہ تعالیٰ کھلے کھلے نشان بتا کر ان کی فضیلت کا ثبوت دے رہا ہے ۔

4: لِلۡفُقَرَآءِ الۡمُهٰجِرِيۡنَ الَّذِيۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ وَاَمۡوَالِهِمۡ يَبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا وَّيَنۡصُرُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ‌ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوۡنَ‌۞

(سورۃالحشر: آیت 8)

ترجمہ: (نیز یہ مال فیئ) ان حاجت مند مہاجرین کا حق ہے جنہیں اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے بےدخل کیا گیا ہے۔ وہ اللہ کی طرف سے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلب گار ہیں، اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کی مدد کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو راست باز ہیں۔ 

اس آیت میں خداوند تعالیٰ نے ان فقراء مہاجرین کو صادق و مصدوق ٹھہرایا ہے جو اپنے دیار و اموال چھوڑ کر محض خدا کے فضل اور اس کی رضاء کی طلب میں جلاوطن ہو گیا ہے اور "وَّيَنۡصُرُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ‌" کے مصداق تھے۔ شیعہ بتائیں کہ اصحابِ ثلاثہؓ اس آیت کے مصداق ہیں یا نہیں؟ کیا وہ اپنی بستیاں اور اپنے مال و املاک چھوڑ تہی دست ہو کر صرف خدا اور رسول اللہﷺ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے مدینہ میں نہیں جا بسے تھے؟ کیا رسول پاکﷺ کی نصرت و امداد میں کوئی دقیقہ باقی چھوڑا تھا؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو صادقین کا مبارک لقب عطا فرماتا ہے۔ اب تم ہی بتاؤ کہ صادقین کا تمغہ منافقین کو بھی مل سکتا ہے؟ اللہ اللہ! خدا کا یہ عطیہ (صادق و صدیق) کا مبارک لقب زبان زدِ خاص و عام سن کر رافضی بیچارے جل بھن جاتے ہیں اور جلے دل سے کہنے لگ جاتے ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو لقب کوئی خدا اور رسولﷺ کی طرف سے تو نہیں ملا۔ بھائیو! ذرا آنکھیں کھولو اور غور کرو "اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوۡنَ‌" کہنے والا کون ہے؟ اگر یہ خدا کا کلام ہے تو یقیناً سمجھو کہ اس فقرہ پاک کے اثر میں ابوبکرؓ کی نسبت وصفِ صدق میں مبالغہ کا صیغہ یعنی (صدیق) شہرت پذیر ہوا۔ خدائے کریم کے عطیہ لقب صادقین کے خطاب مشتہرہ سے ہر ایک شخص نے اپنے نصیب اور رتبہ کے مطابق حصہ لینا تھا اور جیسا کہ ہجرت کرنے والوں میں سے ابوبکرؓ رسولِ پاکﷺ کی نصرت میں سب سے اول نمبر رہے، آپﷺ کی خدمت اور حفاظت کا حق غارِثور جیسے ہولناک مقام میں پورے طور پر ادا کیا۔ تین روز انوار و برکات کا جنہوں نے تمام دنیا کو منورہ مستفیض کرنا تھا تنہائی میں فیضان حاصل کیا، پھر آپﷺ کے ہم رکاب مدینہ میں شدائد سفر برداشت کر کے پہنچے۔ ویسا ہی یہ لقب بھی جو کہ پیشگاہ حضورﷺ سے اس خدمت کے صلہ میں جملہ خدام کو بالعموم عطا ہوا تھا۔ ابوبکرؓ کو بلحاظ ان کی خدمت کے بالخصوص مبالغہ کے صیغہ میں تعریف میں عطا ہونا چاہیے تھا، جو ہوا۔ اب لامحالہ یہ صدیقی لقب خلیفہ اول کے لیے عطیہ ایزدی مانا پڑے گا۔

5: وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَار َالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ تَحۡتَهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ ذٰ لِكَ الۡـفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ 

(سورۃالتوبہ: آیت 100)

ترجمہ: اور مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سب سے راضی ہو گیا ہے اور وہ اس سے راضی ہیں اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔

اس آیت میں صحابہؓ کے مراتب کا بیان ہے۔ خداوند کریم نے سب کا ذکر درجہ وار فرمایا۔ مدارج میں پہلے مہاجرین پھر انصار، بعد تابعین ہیں۔ اسی ترتیب سے آیت میں ان کا ذکر ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر سہ گروہ صحابہؓ کا جنتی ہونا اور ان کو پروانہ خوشنودی بارگاہ ایزدی سے عطا ہو جانا بیان فرما دیا ہے۔ یہ آیت پکار کر کہتی ہے کہ فضیلت میں مہاجرین دوسرے صحابہ کرامؓ پر فائق ہیں اور پھر مہاجرین میں سے سب سے بڑا رتبہ اس شخص کا ہے جو سب سے اسبق فی الہجرت مع رسولﷺ ہے۔ جانتے ہو وہ کون شخص ہے؟ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہے، جو بحکم اس آیت کریمہ کے افضل الصحابہؓ ہیں۔ مکہ مکرمہ سے نکلنے کے وقت یہ پہلا شخص شخص جو حضورﷺ کے ساتھ تھا اس کو اسبق فی الہجرت مع رسول کا فخر حاصل ہے اور یہ مُسلَّم الطرفین ہے کہ وہ شخص ابوبکر صدیقؓ ہی تھا جو مکہ سے رسول پاکﷺ کا پہلا قدم اٹھانے اور مدینہ میں آخری قدم رکھنے تک آپﷺ کے تابع اور ہم قدم رہا، جس نے یہ مبارک اور پسندیدہ خدا سفرِ ہجرت اس سردار دو جہان محبوب عالمیان کے ساتھ قدم بقدم طے کیا۔ زہے نصیب حضرت ابوبکرؓ ہے، شانِ ابوبکرؓ۔ جس کو سفر میں ایسا خیر رفیق جس کی لقاء کے لیے سُکانِ عالم ملکوت بھی ترستے ہیں، نصیب ہوا۔ 

چہ خوش باشد سفر آندم کے یارے ہم سفر باشد 

چناں یارے کہ زیبا طلعتش رشک قمر باشد 

سوار ناقہ احمدﷺ سرور جن و بشر باشد 

عناش در کف صدیقؓ پیر نامور باشد 

6: لَا يَسۡتَوِىۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقَاتَلَ‌ اُولٰٓئِكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَقَاتَلُوۡا‌ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى‌۞

(سورۃ حدید: آیت 10)

ترجمہ: وہ درجے میں ان لوگوں سے بڑھے ہوئے ہیں جنہوں نے (فتح مکہ کے) بعد خرچ کیا، اور لڑائی لڑی۔ یوں اللہ نے بھلائی کا وعدہ ان سب سے کر رکھا ہے۔ 

صفحہ 2 از 4