فضائل اصحاب ثلاثہؓ کا ثبوت قرآن کریم سے - ردِ رافضیت | دفاع…

فضائل اصحاب ثلاثہؓ کا ثبوت قرآن کریم سے

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 3 از 4

اس آیت میں ایزد متعال نے اس بات کا فیصلہ فرما دیا ہے کہ فتح مکہ سے پہلے یارانِ رسولﷺ (جنہوں نے جانی و مالی خدمات کیں) بہت بڑا رتبہ رکھتے ہیں۔ اب کون شخص انکار کر سکتا ہے کہ اصحابِ ثلاثہؓ پہلے گروہ میں داخل ہیں جو فتح مکہ سے پہلے اپنی جان و مال کو آقائے نامدار رسولِ پاکﷺ پر نثار کیے ہوئے تھے اور کفار نابکار سے جہاد و قتال کرتے رہے۔ اس آیت کی رو سے بھی حضرت ابوبکرؓ کی فضیلت کا نمایاں ثبوت ملتا ہے۔ کیونکہ آپؓ ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے حضورﷺ کی خدمت میں اپنا سارا مال (جو گھر میں رکھتے تھے) لا کر پیش کر دیا اور خود ایک کمبل اوڑھ لیا، پھر حضرت ابوبکر صدیقؓ ہی وہ شخص ہیں جن کے گھر سے غارِ ثور میں سید انس و جاں (فداہ ابی و امی) کا نان و نفقہ پہنچتا رہا۔ کوئی شخص نہیں جو اس یارِ غار کی ہمسری کا دعویٰ کر سکے۔ "ذٰ لِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ‌" 

7: هُوَ الَّذِىۡۤ اَيَّدَكَ بِنَصۡرِهٖ وَبِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ‌ لَوۡ اَنۡفَقۡتَ مَا فِى الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا مَّاۤ اَلَّفۡتَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَيۡنَهُمۡ‌ اِنَّهٗ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ یٰـاَيُّهَا النَّبِىُّ حَسۡبُكَ اللّٰهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ۞

(سورۃ الانفال آیت: 62، 63)

ترجمہ: وہی تو ہے جس نے اپنی مدد کے ذریعے اور مومنوں کے ذریعے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے ہیں اور ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی الفت پیدا کردی۔ اگر تم زمین بھر کی ساری دولت بھی خرچ کرلیتے تو ان کے دلوں میں یہ الفت پیدا نہ کر سکتے، لیکن اللہ نے ان کے دلوں کو جوڑ دیا، وہ یقیناً اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک اے نبی! تمہارے لیے تو بس اللہ اور وہ مومن لوگ کافی ہیں جنہوں نے تمہاری پیروی کی ہے۔

اس جگہ خداوند کریم رسولِ پاکﷺ کو تسلی بخش الفاظ فرماتا ہے کہ ہر چند کفار تجھ سے مکر لڑائیں، تیرا بال بیکا نہیں کر سکتے۔ دشمن کے مقابل میں آپﷺ بالکل مطمئن رہیں، آخر میدان آپﷺ کے ہاتھ میں ہوگا۔ دشمن تیرے مقابلہ کی کیا تاب رکھ سکتا ہے، جبکہ آپﷺ کی حامی اور موئد ایک تو ہماری نصرت ہے، دوسرا آپﷺ کے ماتحت وہ الٰہی فوج ہے۔ جس کا معائنہ ڈاکٹری نسبت امراض قلبی (قساوت و جبن) وغیرہ کرنے والے ہم خود ہیں۔ ہم نے پہلے ہی منتخب کر کے آپﷺ کی فوج میں وہ نمک حلال سپاہی بھرتی کئے ہیں، جن کے دل جملہ امراض سے پاک ہیں اور صاف ہیں۔ ان کو ہمارے حضور سے ایمان (اخلاص و اطاعتِ فرمان) کا تمغہ مبارک خطاب مومنین عطا ہو چکا ہے۔

دوم: اس بیڑہ کے جنگی ملازمین کے ہم نے دل باہم ایسے جوڑ دیے ہیں کہ ممکن نہیں کہ کوئی ان میں پھوٹ ڈال سکے اور یہ تالیفِِ قلوب کسی انسانی حکمت کا کام نہیں تھا۔ اگر دنیا کے سارے خزانے بھی اس کام پر خرچ کر دیے جائیں تو ایسا ہونا ناممکن تھا۔ یہ صرف ہماری زبردست حکمت کا کام تھا۔ شیعہ صاحبان اس آیت مبارکہ کے مضمون پر غور کریں۔ رب العباد نے کھلے لفظوں میں فرمایا ہے کہ جماعتِ رسولیﷺ میں تو ایک خالص مخلص پاک دل گروہ ہمارے خاص حکم سے داخل کیا گیا ہے، جن کی صفائی پر کسی انسانی شہادت کی ضرورت نہیں ہے اور خالص مخلص جماعت کو بارگاہ الٰہی سے مومنین کا لقب مل چکا ہے۔ پھر شیعہ باوجود الٰہی شہادت کے ان کی بابت کیسے اشتباہ کر سکتے ہیں اور اس لقب خدا داد (مومنین) کا تمغہ ان سے چھین سکتے ہیں۔ دیکھو! جس فوج کے ایک ملازم تک اس الٰہی تمغہ (ایمان) سے لیس ہو چکے ہیں اس کے اعلیٰ افسران کا جو رتبہ حضور الٰہی میں ہو سکتا ہے تم خود ہی قیاس کر سکتے ہو۔ اس جماعت میں تو جماعتِ رسولیﷺ حزب اللہ (الٰہی فوج) کے ہر ایک ملازم کی صفائی کی شہادت دی گئی ہے۔ اب اس اگلی آیت میں خاص اس فوج کے اعلیٰ افسران (سرداران) کے حالات اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے۔

8: مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ‌ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ تَرٰٮهُمۡ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا‌ سِيۡمَاهُمۡ فِىۡ وُجُوۡهِهِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ‌۞ 

(سورۃالفتح: آیت 28)

ترجمہ: محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں (اور) آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔ تم انہیں دیکھو گے کہ کبھی رکوع میں ہیں، کبھی سجدے میں، (غرض) اللہ کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی علامتیں سجدے کے اثر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔

صفحہ 3 از 4