فضائل اصحاب ثلاثہؓ کا ثبوت قرآن کریم سے - ردِ رافضیت | دفاع…

فضائل اصحاب ثلاثہؓ کا ثبوت قرآن کریم سے

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 4 از 4

اس آیت میں حق سبحانہ و تعالیٰ ان خاصانِ بارگاہ محمدی کے اوصاف جمیلہ کا بیان فرماتا ہے اور ان کی اعلیٰ ہمت اور جواں مردی اور باہمی اتفاق اور ان کے کریکٹر (نیک چلن) اطاعتِ الٰہی کی تعریف کرتا ہے، یعنی میرے اس اسلامی شہنشاہ کی کمانڈ ان بہادروں کے ہاتھ میں ہے جو دل سے اس شہنشاہ کا ہر وقت ساتھ دینے والے ہیں "وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ" کے مضمون اور معیت کے معنیٰ پر خوب غور فرمائیے "اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ" دشمن کی فوج پر غیظ و غضب سے ٹوٹ پڑنے والے۔ دشمن پر ان کی شدت قہر و صولت کا ایسا اثر پڑتا ہے کہ دیکھتے ہی ان کے چھکے چھوٹ جاتے ہیں۔ "رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ" آپس میں ایک دوسرے پر جان دینے والے۔ صحابہ کرامؓ کے باہمی اتفاق کو ظاہر کرنے کے لیے "رُحَمَآءُ" کا لفظ کس قدر موزوں ہے، وصفِ رحمیت ہزار ہزار اتفاق کو اپنے اندر لپیٹے ہوئے ہے اور واقعی اسلامی پیشواؤں کا اتفاق کوئی معمولی اتفاق نہ تھا بلکہ وہ سچے "رُحَمَآءُ" تھے۔ اس پکے وصف نے دشمن کے ہر ایک مقابلہ پر ان کو غالب اور فتح یاب کر دیا۔ بھلا معمولی اتفاق بھی مقابلہ دشمن کے لیے کامیابی کا باعث ہوتا ہے چہ جائیکہ اتفاق رحمیت کی حد تک پہنچا ہوا ہو جس پر ہزار ہا اتفاق قربان ہیں۔ افسوس! اس "رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ" کے مُسلَّمہ وصف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں بھی شیعہ صاحبان دست اندازی کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ "تَرٰٮهُمۡ رُكَّعًا سُجَّدًا" یعنی باوجود اس اقتدار عظیم کے جو ان اسلامی سرداروں کو حاصل ہے، پھر بھی "رُكَّعًا" یعنی سر نیاز خم کیے ہوئے "سُجَّدًا" بلکہ سر عجز زمین پر رکھے ہوئے دیکھ لو۔ "يَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا‌" یہ خدائی پلٹن کے افسر کسی دنیوی اعزاز کے طالب اور دولت کے خواہاں نہیں ہیں اور اپنی ان سچی خدمات کا کوئی صلہ نہیں چاہتے ہاں صرف اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ "سِيۡمَاهُمۡ فِىۡ وُجُوۡهِهِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ‌" ان سرداروں کی شناخت کے لیے وردی کے ساتھ بلے لٹکانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ان کی شناخت کے لیے ان کے ہاتھوں میں امتیازی خدائی نشان کثرتِ سجود کے باعث تاباں و درخشاں ہیں جو قیامت تک قائم رہیں گے۔ اب شیعہ صاحبان خود ہی انصاف کریں کہ اس تعریفِ الٰہی کے مصداق اسلامی پیشواؤں کی نسبت کیسے واہی تباہی خیالات کیے جاتے ہیں کہ یہ لوگ مشکوک الایمان ہیں۔

"نعوذ باللہ من ھذاہ لخرافات"


صفحہ 4 از 4