Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دینے کا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب جھوٹا واقعہ

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دینے کا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب جھوٹا واقعہ

حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی بیماری اور انتقال کے متعلق اہل تراجم اور مؤرخین نے مختلف روایات ذکر کی ہیں۔
ان میں سے ایک عام شہرت یافتہ روایت یہ ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی ازواج میں سے ایک زوجہ "مسماة جعدہ بنت اشعث بن قیس کندی" تھی۔ اس نے اپنی ناعاقبت اندیشی کی بنا پر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو زہر پلا دی جس کی وجہ سے حضرت حسن رضی اللہ عنہ سخت بیمار ہو گئے۔ ان کی بیماری میں اس قدر شدت تھی کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو بار بار اجابت ہونے لگی کہتے ہیں کہ یہ بیماری قریبا چالیس یوم تک چلی گئی .
ابوعوانة عن مغيره عن ام موسی ان جعدة بنت الأشعث بن قيس سقت الحسن السم فاشحكي فكان توضع تحته طشت و ترفع اخرى نحوا من اربعين
مختصر تاریخ ابن عساکر جلد میں ۳۸ تست ترجمہ حسن بن علیه -
  سیراعلام النبلاء للذہبی میں ۱۸۴ ۳ تست ترجمه الحسن بن علیه -
 تاریخ ابن عساکر لابن منظور می ۲۹ ج ، تحت ترجم الحسن بن علی -
 ایک روایت
اسی سلسلہ میں مؤرخین نے ایک دوسری روایت بھی ذکر کی ہے جس سے اس واقعہ کی چند دیگر متعلقہ چیزیں بھی واضح ہو جاتی ہیں اس دور کے ایک شخص میر بن اسحاق کہتے ہیں کہ ہم حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی بیماری کے دوران عیادت کے لیے حاضر ہوئے۔ ہم نے مزاج پرسی کی وہ بار بار بیت الخلاء میں جا رہے تھے۔ اس وقت حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی کیفیت طبع بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی تم مجھے کئی بار زہر دی گئی ہے اور جتنی سخت زہر اس بار دی گئی ہے پہلے بھی نہیں دی گئی اور ساتھ فرماتے تھے کہ میرا جگر ٹکڑے ہو کر خارج ہو رہا ہے میر کہتے ہیں کہ دوسرے دن میں پھر حاضر خدمت ہوا اس وقت حضرت حسن رضی عنہا کی نہایت پریشان کن حالت تھی۔
اسی دوران حضرت حسین رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور انہوں نے اپنے برادر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو کہا کہ اے بھائی مجھے مطلع کیجئیے کہ آپ کو کس نے زہر دیا ہے؟
تو حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ کیوں دریافت کرتے ہیں؟ کیا آپ اس کو قتل کرنا چاہتے ہیں؟ تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں! اس وقت حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں مجھے اس معاملہ میں کچھ بیان نہیں کرنا چاہتا اگر وہ ہے جس کے متعلق میں گمان کرتا ہوں تو اللہ تعالیٰ زیادہ سخت انتقام لینے والے ہیں (وہ اس سے انتقام لے لیں گے) اور اگر اس طرح نہیں بلکہ میرا گمان غلط ہے تو پھر اللہ کی حکم میں نہیں چاہتا کہ کوئی غیر قاتل اور ناکردہ گناه آدمی میری وجہ سے قتل کیا جائے۔
 فائدہ: یعنی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو بھی معلوم نہیں تھا صحیح طرح تو آج شیعہ کو کس نے بتایا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے زہر دیا؟؟؟
اس کے بعد جناب حسن مجتبی بن علی رضی اللہ عنہ کا جلد انتقال ہوگیا اور ان کی تاریخ انتقال ه ربیع الاول 49ھ یا ۵۰ھ موافق فروری ۹۹۹ء ہے اور اس میں مزید اقوال بھی تاريخ میں پاۓ جاتے ہیں۔
ابن علية عن ابن عون عن عمير بن اسحق قال دخلنا على الحسن بن على نعوده فقال لصاحبی يافلان سلنى ثم قام من عندنافدخل كنيفاثم خرج فقال اني والله قد لفظت طائفة من كبدی قلبمها
بعود وانی قد سقيت السم مرارافلم اسق مثل هذافلما كان الغدانيته وهو يسرق فجاء الحسين فقال ای اخیاانبئنی من سفاک قال لملحقحله؟ قال نعم قال ماانامحدثك شيا- ان يكن صاحبي الذي اظن فالله اشد نقمة والافوالله لايقبل ہی بری له۔

ان سے معلوم ہوا کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی وفات زہر خورانی سے ہوئی آنموصوف نے زہر دہندہ کا نام نہیں ظاہر کیا بلکہ پوشیدہ رکھا۔ ،
اور معاملہ ہذا میں کمال بردباری اختیار کی اور صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا۔ ، اور عمر بھر کسی شخص کی ایذارسانی کے روادار نہیں ہوئے۔
یہ الی اللہ کی صفات کالمہ ہیں اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ ان صفات کے حامل تھے رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین
 ایک اور روایت
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے انتقال کے موقع پر کئی نوع کی روایات پائی جاتی ہیں ۔ ان میں سے ایک روایت حافظ الذہبی نے سیراعلام النبلاء میں حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے کہ شام کے علاقہ میں جب حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی وفات کی اطلاع حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچی حضرت عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہ وہاں اتفاقا موجود تھے۔ پیش آمده حالات بتلائے گئے تو اس موقعہ پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان حالات پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عجیب بات ہے کہ جناب حسن رضی اللہ عنہ نے بئر رومہ کے پانی کے ساتھ شہد ملا کر نوش کیا اور موت واقع گی)
اس کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اظہار تعزیت کیا اور تسلی کے کلمات ادا کیے اور ان کی خدمت میں ایک معقول نقدی پیش کی اور کہا کہ اس کو
اپنے اہل و عیال میں تقسیم کردیے۔ ابوهلال عن قتاده قال معاويه واعجباللحسن اشرب
شربة من عسل بماء رومة فقضى نحبه ثم قال لابن عباس لايستوک الله ولايحزنك في الحسن.. بله
مختصر یہ ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے باعث انتقال میں کئی تم کے اقوال مورخین تقرر کئے ہیں۔ مذکورہ روایت بھی گویا کہ ایک قول کے درجہ میں ہے
 تنبیہ
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی وفات کے سلسلہ میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس طرح لکھا ہے کہ
فقيل انه مات مسموما وهذه شهادة له وكرامة في حقه ولكن لم يمت مقاتلات
یعنی آپ کی وفات زہر خوارنی سے ہوئی اور یہ ان کے حق میں شہادت کے درجہ میں ہے اور ان کے لیے کرامت و فضیلت ہے اور قتال کرتے ہوئے آپ کی وفات نہیں ہوئی۔

ایک شبہ کا ازالہ

حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی وفات کے موقعہ پر بحث ہذا کے آخر میں بھی شیعہ کی طرف سے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو ان کی اہلیہ کی طرف سے جو زہر لائی گئی وہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے تمام معاملہ کیا گیا اور انہوں نے ان کی زوجہ سے رابطہ کر کے یہ کام کروایا تھا۔
جواباً ہم عرض کرتے ہیں یہ بہتان اور جھوٹ ہیں یہ سب سے پہلے شیعہ مورخ مسعودی نے لکھا پھر اس کو دیکھا دیکھی سب نے نقل کر دیا جبکہ اہلسنّت کی کسی کتاب میں نہیں صحیح سند نہیں لکھا مزید مفصل جواب مولانا نافع رحمہ اللہ کی کتاب سیرت حضرت معاویہ جلد دوم (جواب الطاعن) میں لکھا ہے اس کو ملاحظہ فرمائیں
وہاں کبار علماء کرام مثلا حافظ ابن کثیر دمشقی
خلدون مغربی کی تحقیق درج کر دی ہے کہ ... حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف اس فعل کا انتساب بالکل غلط ہے اور جن روایات کی بنا پر امیر معاویہ پر الزام لگایا گیا ہے وہ شیعوں کی روایات ہیں اور شیعہ کی طرف سے اس نوع کے الزامات کوئی از بعید نہیں
درایت کے اعتبار سے بھی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف اس فعل کا انتساب کرنا غلط ہے اس لیے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا جنازه سعید بن العاص الاموی (جو اس وقت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی اس طرف سے حاکم مدینہ تھے) نے پڑھایا۔
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضرت حسین رضی اللہ عنہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاں بطور وفد کے ہمراہ سال تشریف لے جاتے تھے۔ اس وقت ان کے لیے بہت کچھ انعام و اکرام حضرت معاویہ کی طرف سے کیا جاتا تھا حضرت حسین رضی اللہ عنہ اسے بخوشی قبول کرتے تھے۔
51ھ میں جب غزوہ قسطنطنیہ پیش آیا تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ اس میں جا کر شامل ہوئے اور اس وقت امیر الجیش حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا فرزند یزید تھا۔
 مطلب یہ ہے کہ قبیلہ کے اکابر اور اقارب کو جن لوگوں نے زہر دلا کر قتل کر ڈالا ہو، ان لوگوں سے اپنے جنازے پڑھوانا ان کے ہمراہ غزوات میں شرکت کرنا۔ ان سے عطایا اور وظائف حاصل کرنا وغیرہ وغیرہ یہ کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟
یہ چیزیں تو ان حضرات کی عزت نفس اور فطری غیرت کے بر خلاف ہیں ان تمام چیزوں کو پیش نظر رکھنے سے واضح طور پر معلوم ہو تا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے واقعہ انتقال میں کوئی دخل نہیں تھا اور نہ ہی وہ اس معاملہ میں ملوث تھے۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس معاملہ میں اپنی تحقیق بالفاظ ذیل تحریر کی ہے ۔
و عندي ان هذا ليس بصحيح و عدم صحته عن ابيه معاوية بطريق الاولى والاحرى
یعنی ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یزید کی طرف زہر خوارنی کی نیت کرنا میرے نزدیک صحیح نہیں ہے (غلط ہے) اور ان کے والد امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف نیت کرنا طریق اولی غلط ہے صحیح نہیں
 وفات اور جنازه
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی بیماری کے ایام نہایت صبر و عمل سے گزارے اور ربیع الاول ۴۹ھ میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا اس وقت کے امیر مدینہ سعید بن العاص الاموی رضی اللہ عنہ تھے ان کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ آپ جنازہ پڑھائیں اور ساتھ ہی قاعده شرعی بیان فرمایا کہ :...
لولا انها سنة ماقدمت لین دین اسلام میں سنت یہی ہے کہ امیر وقت نماز جنازہ پڑھانے کا زیادہ حقدار ہے۔ اگر یہ سنت نبوی نہ ہوتی تو میں آپ کو صلوة جنازہ کے لیے مقدم نہ کرتا،
اس سے یہ بھی پتہ چلا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اپنے بھائی کی وفات کے بعد بھی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ امیر کی اطاعت سے نہیں نکلے۔
پس ثابت ہوا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر کا واقعہ ہی جھوٹا ہے اگر صحیح مان لیا جائے تو وہی لوگوں تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کرنا سراسر بہتان تراشی ہے
حوالہ جات
 البدایہ والنہایۃ ج 8 ص 43 تحت سنۃ 40ھ
 کتاب المعرفۃ التاریخ البسوی ج1 ص 216
 منہاج السنہ ج 2 ص 121 طبع لاہور
 حلیہ الاولیاء ج 2 ص 38