سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دینے کا سیدنا معاویہ رضی اللہ…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دینے کا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب جھوٹا واقعہ

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

صفحہ 2 از 2
جواباً ہم عرض کرتے ہیں یہ بہتان اور جھوٹ ہیں یہ سب سے پہلے شیعہ مورخ مسعودی نے لکھا پھر اس کو دیکھا دیکھی سب نے نقل کر دیا جبکہ اہلسنّت کی کسی کتاب میں نہیں صحیح سند نہیں لکھا مزید مفصل جواب مولانا نافع رحمہ اللہ کی کتاب سیرت حضرت معاویہ جلد دوم (جواب الطاعن) میں لکھا ہے اس کو ملاحظہ فرمائیں
وہاں کبار علماء کرام مثلا حافظ ابن کثیر دمشقی
خلدون مغربی کی تحقیق درج کر دی ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف اس فعل کا انتساب بالکل غلط ہے اور جن روایات کی بنا پر امیر معاویہ پر الزام لگایا گیا ہے وہ شیعوں کی روایات ہیں اور شیعہ کی طرف سے اس نوع کے الزامات کوئی از بعید نہیں
درایت کے اعتبار سے بھی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف اس فعل کا انتساب کرنا غلط ہے اس لیے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا جنازه سعید بن العاص الاموی (جو اس وقت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی اس طرف سے حاکم مدینہ تھے) نے پڑھایا۔
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضرت حسین رضی اللہ عنہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاں بطور وفد کے ہمراہ سال تشریف لے جاتے تھے۔ اس وقت ان کے لیے بہت کچھ انعام و اکرام حضرت معاویہ کی طرف سے کیا جاتا تھا حضرت حسین رضی اللہ عنہ اسے بخوشی قبول کرتے تھے۔
51ھ میں جب غزوہ قسطنطنیہ پیش آیا تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ اس میں جا کر شامل ہوئے اور اس وقت امیر الجیش حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا فرزند یزید تھا۔
 مطلب یہ ہے کہ قبیلہ کے اکابر اور اقارب کو جن لوگوں نے زہر دلا کر قتل کر ڈالا ہو، ان لوگوں سے اپنے جنازے پڑھوانا ان کے ہمراہ غزوات میں شرکت کرنا۔ ان سے عطایا اور وظائف حاصل کرنا وغیرہ وغیرہ یہ کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟
یہ چیزیں تو ان حضرات کی عزت نفس اور فطری غیرت کے بر خلاف ہیں ان تمام چیزوں کو پیش نظر رکھنے سے واضح طور پر معلوم ہو تا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے واقعہ انتقال میں کوئی دخل نہیں تھا اور نہ ہی وہ اس معاملہ میں ملوث تھے۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس معاملہ میں اپنی تحقیق بالفاظ ذیل تحریر کی ہے ۔
و عندي ان هذا ليس بصحيح و عدم صحته عن ابيه معاوية بطريق الاولى والاحرى
یعنی ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یزید کی طرف زہر خوارنی کی نیت کرنا میرے نزدیک صحیح نہیں ہے (غلط ہے) اور ان کے والد امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف نیت کرنا طریق اولی غلط ہے صحیح نہیں
 وفات اور جنازه
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی بیماری کے ایام نہایت صبر و عمل سے گزارے اور ربیع الاول 49ھ میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا اس وقت کے امیر مدینہ سعید بن العاص الاموی رضی اللہ عنہ تھے ان کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ آپ جنازہ پڑھائیں اور ساتھ ہی قاعده شرعی بیان فرمایا کہ :
لولا انها سنة ماقدمت لین دین اسلام میں سنت یہی ہے کہ امیر وقت نماز جنازہ پڑھانے کا زیادہ حقدار ہے۔ اگر یہ سنت نبوی نہ ہوتی تو میں آپ کو صلوة جنازہ کے لیے مقدم نہ کرتا،
اس سے یہ بھی پتہ چلا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اپنے بھائی کی وفات کے بعد بھی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ امیر کی اطاعت سے نہیں نکلے۔
پس ثابت ہوا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر کا واقعہ ہی جھوٹا ہے اگر صحیح مان لیا جائے تو وہی لوگوں تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کرنا سراسر بہتان تراشی ہے
حوالہ جات
 البدایہ والنہایۃ جلد 8 صفحہ 43 تحت سنۃ 40ھ
 کتاب المعرفۃ التاریخ البسوی جلد 1 صفحہ 216
 منہاج السنہ جلد 2 صفحہ 121 طبع لاہور
 حلیہ الاولیاء جلد 2 صفحہ 38


صفحہ 2 از 2