عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو شوریٰ کی کاررائیوں کو چلانے کا اختیار سونپ دینا
علی محمد الصلابیاتوار کی صبح چھ امیدواروں کے اجتماع کے ختم ہوتے ہی عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی ملاقاتوں اور مشوروں کا سلسلہ شروع کردیا، چار محرم بدھ کی فجر تک پورے تین دن یہ سلسلہ جاری رہا، اسی وقت ان کے لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مقرر کردہ مہلت ختم ہو رہی تھی۔ عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ابتداء کرتے ہوئے کہا: اگر میں آپ کے لیے بیعت نہ کروں تو آپ خلافت کا حقدار کس کو سمجھتے ہیں؟ تو علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو۔ پھر عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس گئے، ان سے مشورہ کیا، مدینہ میں کبار صحابہ اور فوجوں کے قائدین میں سے جس سے بھی آپ کی ملاقات ہوتی، جو بھی مدینہ آتا ہر ایک سے عبدالرحمٰن بن عوفؓ مشورہ کرتے، آپ نے پردوں کے پیچھے عورتوں سے مشورہ کیا، ان تمام نے اپنی رائے کا اظہار کیا، اس طرح آپؓ نے مدینہ کے عام مسلمانوں، بچوں اور غلاموں سے مشورہ کیا، وہ لوگ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے حق میں مشورہ دے رہے تھے اور بعض لوگ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے حق میں۔
بدھ کی آدھی رات کو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اپنے بھانجے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، دستک دی، مسور رضی اللہ عنہ کو سوتا پایا، دروازہ پیٹنے پر جاگے، تو ان سے کہا: تم سو رہے ہو، اللہ کی قسم میں ان تین راتوں میں اچھی طرح سو نہیں سکا ہوں، جاؤ زبیر و سعد (رضی اللہ عنہما) کو بلا لاؤ، وہ انھیں آپ کے پاس بلا کر لائے، عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے ان سے مشورہ کیا پھر مجھے بلایا کہا جاؤ علی (رضی اللہ عنہ) کو بلا لاؤ، میں انھیں بلا کر لایا، آدھی رات تک عبدالرحمٰن بن عوفؓ ان سے تنہائی میں گفتگو کرتے رہے، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے چلے گئے، پھر عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے کہا: جاؤ عثمان (رضی اللہ عنہ) کو بلا لاؤ، انھیں بلا کر لایا، ان سے اذان فجر تک تنہائی میں گفتگو کرتے رہے۔
(صحیح البخاری: کتاب الأحکام: رقم:7207)