جھوٹ اور بہتان تراشی کی بنیاد پر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے والد کی جانب منسوب اقوال
علی محمد الصلابیابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ابن جریر وغیرہ جیسے بہت سارے مؤرخین کچھ مجہول لوگوں سے جو یہ باتیں روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا تھا ’’خدعتنی‘‘ تم نے مجھے دھوکہ دیا ہے، اور تم نے انھیں خلیفہ اس لیے بنایا کہ وہ تمھارے سسرالی رشتہ دار ہیں، تم سے ہر دن اپنے معاملے میں مشورہ کرتے ہیں، اور یہ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پس و پیش سے کام لیا یہاں تک کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو یہ آیت پڑھ کر سنائی:
اِنَّ الَّذِيۡنَ يُبَايِعُوۡنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوۡنَ اللّٰهَ يَدُ اللّٰهِ فَوۡقَ اَيۡدِيۡهِمۡ فَمَنۡ نَّكَثَ فَاِنَّمَا يَنۡكُثُ عَلٰى نَفۡسِهٖوَمَنۡ اَوۡفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَيۡهُ اللّٰهَ فَسَيُؤۡتِيۡهِ اَجۡرًا عَظِيۡمًا۞
(سورۃ الفتح آیت 10)
ترجمہ: اے پیغمبر!) جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں درحقیقت وہ اللہ سے بیعت کررہے ہیں۔ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے، اس کے بعد جو کوئی عہد توڑے گا، اس کے عہد کو توڑنے کا وبال اسی پر پڑے گا، اور جو کوئی اس عہد کو پورا کرے گا، جو اس نے اللہ سے کیا ہے تو اللہ اس کو زبردست ثواب عطا کرے گا۔
اس طرح کی دوسری باتیں بھی جو صحیح حدیثوں کے خلاف ہیں، وہ سب کی سب ناقابل قبول باتیں ہیں۔ واللہ اعلم۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں ثابت شدہ چیزیں ان چیزوں کے خلاف ہیں جن کا تصور بہت سارے شیعہ اور کم عقل واعظین رکھتے ہیں، جو صحیح ضعیف اور کھری و کھوٹی روایتوں کے مابین تمیز نہیں کرسکتے۔ واللّٰه الموفق للصواب۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 152)
عہد نبوی نیز عہد خلافت راشدہ کی چھان بین سے جو اہم نتائج سامنے آئے انھی میں سے یہ نتیجہ بھی ہے کہ ان صحیح روایات کے ساتھ ساتھ جو تدین اور ایک دوسرے سے محبت کرنے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سچی تصویر پیش کرتی ہیں ان کے بالکل متضاد روایتیں بھی ملتی ہیں، جھوٹے دشمنان اسلام، اسلام کی دشمنی میں ان کو پھیلانے کے حریص رہے ہیں، مستشرقین اور ان کے زلہ باروں نے انھیں خوب رائج کیا، نادانی میں بعض علماء بھی اس کے مرتکب ہوگئے۔
اس طرح کی روایتیں لازمی طور سے امت کو کمزور کرتی ہیں اور آنے والی نسلوں کو سلف صالحین میں لائق اقتداء نمونے کے فقدان کا احساس دلاتی ہیں، اس لیے اس امت کے باغیرت اہل قلم پر لازم ہے کہ وہ اس طرح کی سراسر جھوٹی روایتوں کو واضح کریں، اور ان کتابوں سے روکیں جو انھیں پھیلاتی اور رواج دیتی ہیں اور صحیح روایتوں کو بیان کریں، اور ان پر مشتمل کتابوں کو رواج دیں تاکہ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جانب سے دفاع کرسکیں اور اللہ کی رضا حاصل کرسکیں۔