خلافت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی رائے
علی محمد الصلابیخلافت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی رائے وہی تھی جو تمام صحابہ کرامؓ کی تھی، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بعد تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا آپ کی خلافت کی صحت پر اجماع ہے، اس سلسلے میں کسی کو بھی اختلاف یا اعتراض نہیں تھا، سب نے اس کو تسلیم کیا تھا، ابوالحسن اشعریؒ کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے متعین کردہ اصحاب شوریٰ کے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانے سے ان کی خلافت ثابت ہوجاتی ہے، لوگوں نے آپ کو منتخب کیا، آپ کی خلافت کو پسند کیا، آپ کی انصاف پسندی اور فضیلت پر سب نے اتفاق کیا۔
(الإبانۃ عن أصول الدیانۃ: صفحہ 68)
خلافت کی ترتیب کے بارے میں اہل سنت و اہل حدیث کے عقیدے کو بیان کرتے ہوئے عثمان صابونی کہتے ہیں:
’’وہ لوگ سب سے پہلے خلافت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے قائل ہیں، پھر خلافت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے، پھر خلافت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے، جس پر تمام اہل شوریٰ و صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اتفاق کیا اور اسے پسند کیا تاآنکہ آپ کو خلیفہ بنا دیا گیا۔‘‘
(عقیدۃ السلف و أصحاب الحدیث ضمن الرسائل المنیریۃ: جلد 1 صفحہ 139)