فتح افریقہ کے لیے جیشِ عبادلہ میں حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی شرکت
علی محمد الصلابیفتوحات کے لیے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا پرعزم و پختہ منصوبہ درج ذیل چیزوں پر مشتمل تھا:
1۔ سرکش اہل فارس اور رومیوں کو زیر کرنا۔
2۔ ان علاقوں میں اسلامی حکومت کا اعادہ۔
3۔ ان علاقوں کے ماوراء علاقوں کو فتح کرنے کے لیے برابر جہاد کرتے رہنا تاکہ انھیں کمک نہ پہنچ سکے۔
4۔ مستقل فوجی چھاؤنیاں تیار کرنا جن میں اسلامی علاقو ں کی حفاظت کے لیے اسلامی لشکر تیار رہے۔
5۔ اسلامی لشکر کی ضرورت کے پیشِ نظر بحری فوج تیار کرنا۔
عہد عثمانی میں اسلامی فوجی چھاؤنیاں بڑے صوبوں کی راجدھانیاں تھیں، عراق کی فوجی چھاؤنی کوفہ اور بصرہ تھی، شام کی فوجی چھاؤنی دمشق تھی، مصر کی فوجی چھاؤنی فسطاط تھی۔ ان فوجی چھاؤنیوں کی ذمہ داری اسلامی حکومت کی حفاظت، فتوحات کا سلسلہ جاری رکھنا، اسلام کی نشر و اشاعت تھیں، عہد عثمانی میں فتوحات کے مشہور سپہ سالاروں میں سے احنف بن قیس، سلیمان بن ربیعہ، عبدالرحمٰن بن ربیعہ اور حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہم ہیں۔
ان فتوحات سے مسلمانوں کو جو اسباق حاصل ہوئے ان میں سے چند یہ ہیں:
مدد اور غلبہ عطا کرنے میں مومنوں سے اللہ کا کیا ہوا وعدہ سچ ثابت ہونا، جنگ و سیاست کی تدبیروں کا بتدریج ترقی کرنا، سمندری سفر اور سمندری جنگ کا وجود میں آنا، دشمنوں کی سراغ رسانی کرکے معلومات اکٹھا کرنا، دشمنوں کے مقابلے کے لیے اتحاد کا حریص ہونا وغیرہ۔
امیر المؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جب افریقہ فتح کرنے کا ارادہ کیا تو اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا، چنانچہ ’’ریاض النفوس‘‘ میں ہے کہ امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس مصر کے لیے ان کے مقرر کردہ گورنر عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کا خط آیا:
’’مسلمان افریقہ کی سرحدوں پر حملہ کرتے ہیں، اپنے دشمنوں سے مال غنیمت حاصل کرتے ہیں، وہ اسلامی حدود کے قریب ہیں۔‘‘
اس کے بعد افریقہ کو فتح کرنے کے لیے اسلامی لشکر کو بھیجنے کے سلسلے میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے اپنی رغبت ظاہر کی، اس بارے میں ان کا قول ہے:اے ابنِ مخرمہ تمھاری کیا رائے ہے؟ میں نے کہا: ان کو فتح کرنے کے لیے لشکر بھیج دیجیے، انھوں نے فرمایا: آج میں اکابر صحابہ کو جمع کرکے ان سے مشورہ کروں گا، جس پر ان کا یا ان کی اکثریت کا اتفاق ہوگا وہی کروں گا، علی، طلحہ، زبیر، عباس رضی اللہ عنہم اور دوسرے لوگوں کا تذکرہ کرکے کہا کہ ان کے پاس جاؤ چنانچہ وہ ان میں سے ہر ایک سے مسجد میں تنہا تنہا ملے، پھر ابوالاعور سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو بلایا، ان سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوالاعور آپ افریقہ کی جانب لشکر کشی کو کیوں ناپسند کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے: میں جب تک زندہ رہوں گا کسی مسلمان کو افریقیوں سے لڑنے نہیں بھیجوں گا، اس لیے میں آپ کو عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کے خلاف کوئی دوسری رائے نہیں دوں گا۔ اس پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم ہم ان سے نہیں ڈرتے، وہ لوگ اپنے گھروں میں بیٹھے رہنا پسند کریں گے، لڑیں گے نہیں۔ آپ کی اس رائے کی مخالفت ان کے علاوہ کسی اور نے نہ کی۔ پھر آپ نے لوگوں سے خطاب کیا، اور افریقہ کی جانب لشکر کشی کی ترغیب دلائی، چنانچہ عبداللہ بن زبیر، ابوذر غفاری، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن جعفر، حسن، حسین اور ان کے علاوہ بہت سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نکل کھڑے ہوئے۔
(ریاض النفوس: جلد 1 صفحہ 9، 8، الجہاد و القتال لہیکل: جلد 1 صفحہ 556)
افریقہ کی فتوحات میں مسلمانوں نے ہر طرح کی قربانیاں دیں، ان میں سے بہت سے شہید ہوئے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں افریقہ میں وفات پانے والوں میں سے مشہور شاعر ابوذویب ہذلی ہیں، انھی کا قول ہے:
و إذا المنیۃ أنشبت أظفارہا
ألفیت کل تمیمۃ لا تنفع
’’اور جب موت آپہنچے تو کوئی تعویذ نفع نہیں دے سکتا۔‘‘
و تجلدی للشاتمین أریہم أني لریب الدہر لا أتضعضع
’’برا کہنے والوں کی باتوں پر صبر کر، میں انھیں دکھلا دوں گا کہ میں گردش زمانہ سے نہیں گھبراتا۔‘‘
دشمنوں پر بڑی فتح کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ مسلمانوں کی مبارک جماعت کے ساتھ دار الخلافہ واپس ہوئے، اسلامی حکومت کے وسیع ہونے اور دین اسلام کے پھیلنے پر ان کا دل شاداں و فرحاں تھا۔
( لیبیا من الفتح العربی حتی انتقال الخلافۃ الفاطمیۃ للدکتور صالح مصطفی: صفحہ 41، الشرف و التسامی بحرکۃ الفتح الاسلامی للصلابی: صفحہ 19)