Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

قتل عثمان رضی اللہ عنہ کے فتنہ سے متعلق سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مؤقف

  علی محمد الصلابی

قتل عثمان رضی اللہ عنہ کے فتنے کے بہت سارے اسباب تھے، جیسے مالداری اور معاشرے میں اس کی تاثیر، معاشرتی تبدیلی کی کیفیت، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بعد آنا، مدینہ سے کبار صحابہ کا نکل جانا، جاہلی عصبیت، حاسدوں کی سازش، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف قابل مواخذہ چیزوں کی تعیین کے لیے پختہ تدبیر، لوگو ں میں ہیجان برپا کرنے والے وسائل و اسالیب کا استعمال، فتنے برپا کرنے میں سبائیت کی تاثیر وغیرہ، میں نے اپنی کتاب ’’تیسیر الکریم المنان فی سیرۃ عثمان بن عفان، شخصیتہ و عصرہ‘‘ میں ان اسباب کو بالتفصیل بیان کیا ہے۔

دشمنانِ اسلام نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کے فتنہ میں لوگوں کو برانگیختہ کرنے والے وسائل و اسالیب کا استعمال کیا، جیسے افواہیں اڑانا، افواہ والی بات کو بکثرت بار بار دہرانا، لوگوں کے سامنے خلیفہ سے بحث و مباحثہ اور مناظرہ کرنا نیز انھیں مشتعل کرنا، گورنروں پر تنقید کرنا، عائشہ، علی، طلحہ، زبیر رضی اللہ عنہم کی جانب منسوب جھوٹے خطوط تیار کرنا، اس بات کا پروپیگنڈا کرنا کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ خلافت کے زیادہ حقدار تھے اور یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انھی کے لیے وصیت کی گئی تھی، بصرہ، کوفہ، مصر ہر جگہ سے چار گروہوں کو تیار کرنا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پہلے ہی سے تدبیر کی گئی تھی، اہل مدینہ کو اس دھوکے میں ڈال دیا کہ وہ لوگ صحابہ ہی کے بلانے پر آئے ہیں اور معاملات کو اس حد تک بڑھایا کہ قتل کی نوبت آگئی۔

(دراسات فی عہد النبوۃ و الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 401)

ان وسائل کے ساتھ ساتھ بہت سارے نعروں کا استعمال کیا جیسے:

1۔ اللہ اکبر پکارنا۔

2۔ یہ کہ وہ مظالم کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔

3۔ وہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔

4۔ گورنروں کو بدلنے اور انھیں معزول کرنے کا مطالبہ، پھر مطالبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہٹانے تک جاپہنچا، پھر انھیں مزید جرأت و ہمت ہوئی اور جلد از جلد خلیفہ کے قتل کا مطالبہ کرنے لگے، بالخصوص انھیں جب یہ معلوم ہوا کہ دوسرے شہر والے خلیفہ کی مدد کے لیے آرہے ہیں تو خلیفہ کا ناطقہ بند کرنے کی گرمجوشی اور کسی بھی طریقے سے ان کو قتل کر دینے کی خواہش مزید بڑھ گئی۔

(دراسات فی عہد النبوۃ و الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 402)

ان حوادث اور ان کے بعد جنگِ جمل و جنگ صفین وغیرہ کے حوادث کے پیچھے عبداللہ بن سبا کی قیادت میں سبائی تحریک کام کر رہی تھی۔ میں نے اپنی کتابوں ’’تیسیر الکریم المنان فی سیرۃ عثمان بن عفان‘‘ اور ’’أسمی المطالب فی سیرۃ علی بن أبي طالب‘‘ میں عبداللہ بن سبا کی حقیقت کو واشگاف کیا ہے، مزید معلومات کے لیے ان کا مراجعہ کیا جائے۔

میں نے اپنی کتاب ’’تیسیر الکریم المنان فی سیرۃ عثمان بن عفان‘‘ میں ان شبہات کا جائزہ لیا ہے جنھیں زبردستی تاریخِ عثمانی کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ میں نے ان کے جھوٹ اور بطلان کو واضح اور قطعی دلیلوں سے ثابت کیا ہے، بلاشبہ عثمان رضی اللہ عنہ وہ مظلوم خلیفہ ہیں جن پر ان کے اوائل دشمنوں نے تہمتیں لگائیں اور متأخرین نے ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔