Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

واقعہ غار کی تصدیق کتب شیعہ سے

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

واقعہ غار نے تصدیقِ مصاحبتِ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ یا رسولﷺ کے انکار کی گنجائش نہیں چھوڑی، اس لیے شیعہ مصنفین اس واقعہ کی تصدیق پر مجبور ہوئے ہیں۔ گو تاویلاتِ رکیکہ سے دریغ نہیں کی مگر اس واقعہ کو چھپانا مشکل ہوا، تفسیر حسن عسکری صفحہ 231 میں ہے۔

إِنَّ اللَّهَ تَعَالىٰ أَوْحىٰ إِلَيْهِ يَا مُحَمَّدُﷺ إِنَّ الْعَلَى الْاَعْلىٰ يَقْرَءُ عَلَيْكَ السَّلَامُ وَيَقُولُ لَكَ إِنَّ أَبَا جَهْلٍ وَالْمَلَاءَ مِنْ قُرَيْشٍ قَدَّ دَبَراً يُرِيدُونَ قَتَلَكَ إِلىٰ أَنْ قَالَ وَأَمَرَكَ أَنْ تَسْتَصْحِبَ أَبَابَكْرٍؓ فَإِنَّهُ إِنْ أَنَسَكَ وَ سَاعَدَكَ وَاٰزَرَكَ وَثَبَتَ عَلىٰ تُعَاهدِكَ وَتَعَاقُدِكَ كَانَ فِی الْجَنَّةِ كَانَ مِنْ رُفَقَائِكَ وَفِیْ غُرَفَتِهَا مِنْ خُلَصَائِكَ وَ إِلىٰ لَنْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِاَبِیْ بَكْرٍؓ رَضِيْتَ إِنْ تَكُونَ مَعِیَ يَاأَبَابَكُرٍؓ تُطْلَبُ كَمَا أَطْلَبُ وَ تُعْرَفَ بِإِنَّكَ أَنْتَ الَّذِیْ تَحْمِلُنِیْ عَلىٰ مَا أَدَّعِيُهَ فَتَحْمِلُ عَنِیْ أَنْوَاعَ الْعَذَابِ قَالَ أَبُوبَكْرٍؓ يَا رَسُولَ اللَّهِﷺ أَمَّا أَنَالُو عِشْتُ عُمَرَ الدُّنْيَا أُعَذَّبُ فِیْ جَمِيعِهَا أَشَدَّ عَذَابٍ لَا يَنْزِلُ عَلَىَّ مَرْتٌ فَرِيْحٌ وَلَا فَرْحٌ مَتِيحٌ وَكَانَ ذَلِكَ فِیْ مَحَبَّتِكَ لكَانَ ذَلِكَ أَحَبَّ إِلىٰ أَنْ أَتَنَعَّم٘ فِيْهَا وَأَنَا مَالِكٌ لَجَميعَ قَلْبِكَ لِمُلُوكَهَا فِیْ مُخَالِفَتِكَ مَا أَهْلِیْ وَ وَلَدِیَّ إِلَّا فِدَاءَكَ فَقَالَ رَسُول اللَّهِﷺ لأَحَرَمَ أَنِ الطلع الله عَلىٰ قَلْبِكَ وَوَجَدَ ما فِيهِ مَوَافِقًا لَمَاجُرِى عَلىٰ لِسَانِكَ جَعَلَكَ مِنِّی بِمَنْزِلَةِ السَّمْعِ وَالْبَصَرِ وَالرَّاسِ مِنَ الْجَسَد وَ بِمَنْزِلَةِ مِنَ الْبَدَنِ كَعَلی نِ الَّذِیْ هُوَ لَكَ انتهىٰ مُلَخْصًا.

ترجمہ: خلاصہ کلامِ امام علیہ السلام کا یہ ہے، جبرائیل علیہ السلام پر وحی لائے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ ابوجہل اور جماعتِ قریش نے تیرے قتل کرنے کی تدبیر کی ہے۔ آگے چل کر فرمایا: "اور خدا نے تجھے حکم دیا ہے کہ ابوبکرؓ ؓ کو اپنا رفیقِ سفر بناؤ۔ اگر وہ موافقت اور موانست اور اپنے عہد پر قائم رہے تو جنت میں بھی تیرے ساتھ ہوگا۔" پھر حضورﷺ ابوبکرؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: ”اے ابوبکرؓ! تو راضی ہے کہ اس سفر میں میرے ہمراہ ہو اور کفارِ قریش جس طرح میرے قتل کے لیے مجھے تلاش کریں ویسے تیرے قتل کے لیے درپے ہوں اور اس بات کی تشہیر ہو کہ تو نے ہی مجھے اس بات پر آمادہ کیا اور میری رفاقت کے سبب سے تجھے قسم قسم کے عذاب پہنچیں؟“

ابوبکرؓ نے کہا:

”یارسول اللہﷺ! میں تو وہ شخص ہوں کہ اگر آپﷺ کی محبت میں عمر بھر مجھے عذاب اور تکالیف پہنچتی رہیں (نہ مروں اور آرام پاؤں) تو میرے نزدیک اس سے بہتر ہے کہ آپﷺ کو چھوڑ کر دنیا کی شہنشاہی قبول کروں۔ میری جان و مال اور اہل و عیال سب کے سب آپﷺ پر قرآن ہوں۔“ (آپ کو چھوڑ کر کہاں جاؤں؟) یہ سن کر رسول اللہﷺ نے فرمایا:

”تحقیق اللہ تعالیٰ تیرے دل پر مطلع ہوا اور تیرے دل کو تیری زبان کے مطابق پایا۔ بالیقین خدا نے تجھے بمنزلہ میرے سمع و بصر کے گردانا اور تجھ کو میرے ساتھ وہ نسبت ہے جو سر کو جسم سے اور روح کو بدن سے ہے۔

شیعوں کے دلوں میں اگر کچھ بھی عزت حسن عسکری کی ہے تو وہ امام والا مقام کی روایت پڑھ کر غور کریں کہ اس سے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی کس قدر تعریف ہوتی ہے، اس روایت سے حسبِ ذیل امور ثابت ہیں:

1: سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی رفاقتِ رسولﷺ سفرِ ہجرت میں اللہ کے خاص حکم سے عمل میں آئی تھی، جس سے معلوم ہوا کہ علمِ الٰہی میں اس خدمت کے قابل حضرت ابوبکر صدیقؓ سے بڑھ کر کوئی صحابی نہ تھا۔

2: اللہ تعالیٰ کا حضرت ابوبکر صدیقؓ کو اس خدمت کے لیے خاص طور پر منتخب فرمانا دنیائے اسلام میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی فضیلت آشکارا کرنا مقصود تھا۔

3: اللہ تعالیٰ نے رسولِ پاکﷺ کو اطلاع دے دی کہ اگر سیدنا ابوبکرؓ نے اس خدمت کو صدقِ دل سے انجام دیا تو جنت میں بھی رفاقتِ رسولﷺ نصیب ہوگی۔ چونکہ یارِ غار نے اس خدمت کو باحسن وجوہ انجام دیا، اس لیے حسبِ وعدہ الٰہی جنت الفردوس میں بھی رفاقتِ رسولﷺ کے مستحق قرار پائے۔

4: رسولِ پاکﷺ کا یہ فرمانا کہ ابوبکرؓ تجھے پسند ہے کہ کفار تیرے اور میرے درپے آزار یکساں ہوں، کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ یہ سفرِ ہجرت تیرے ہی صلاح و مشورہ سے اختیار کیا گیا، حضرت ابوبکر صدیقؓ کی عظمتِ شان کی دلیل ہے کہ حضرت ابوبکرؓ بھی تبلیغِ اسلام اور استیصالِ کفر میں کفار کے نزدیک رسولِ پاکﷺ کے راست بازو تھے اور ان کی حضرت ابوبکر صدیقؓ سے وہی عداوت تھی جو رسولِ پاکﷺ سے تھی۔

5: باوجود یہ کہ شدید تکالیفِ سفر سے حضورﷺ نے اپنے جانباز عاشق کو آگاہ کر کے یقین دلایا تھا کہ اس سفر میں سخت ترین مصائب کا سامنا ہے، پھر عاشق صادق کا اس کو قبول کر کے کہنا کہ مجھ کو اپنے آقائے نامدارﷺ کا ساتھ چھوڑنا ہرگز منظور نہیں۔ اگرچہ میری جان قیامت تک عذاب میں پھنسی رہے اور یہ کہ یہ تکالیف حضورﷺ کی رفاقت میں جاں نثار عاشق کو روئے زمین کی سلطنت ملنے سے بھی ہزار درجہ راحت بخش اور آرام دہ ہے۔ بقول شخصے

”یک جان چہ متاعیست کہ سازیم فدایت

اماچہ تواں کرد کہ موجود ہمیں است“

حضرت صدیق اکبرؓ کے جذبات محبت اور عشقِ رسولﷺ کا اعلیٰ ثبوت ہے۔

6: پھر حضورﷺ کا یہ فرمانا کہ ”ابوبکرؓ، اللہ علیم و خبیر کو تیرے اخلاص و عقیدت کا علم تھا، اسی لیے تیرا میرا یہ جوڑ بنایا کہ تو میرے سمع و بصر کی بجا ہے اور کہ میری اور تیری نسبت روح و بدن کی نسبت ہے۔“ 

سبحان اللہ! اس سے بڑھ کر فضائلِ صدیقیؓ کا ثبوت جو شیعہ کی معتبر کتاب جو کہ ان کے برگزیدہ امام کی تصنیف سے ملتا ہے اور کیا چاہیے؟ لیکن افسوس ضد بُری بلا ہے، شیعہ ایسی واضح اور روشن روایات کو بھی تقیہ پر محمول کر دیں گے۔ اللہ رے تقیہ! تو شیعہ کے ہاتھ میں کیسی سپر ہے؟ کہ کیسی ہی زد پڑتی نظر آئے تیرے حصنِ حصین میں آ کر جان بچا لیتے ہیں۔ لیکن یاد رکھو! ائمہ اہلِ بیت پر ایک بےہودہ بہتان ہے کہ وہ تقیہ کی غرض سے کوئی خلافِ واقعہ بات کہہ دیں جو لعنتیوں کا فعل ہوا کرتا ہے۔