فتنے کی ابتداء میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا مؤقف
علی محمد الصلابیسیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفہ کی اطاعت و فرماں برداری کرتے رہے، انھیں مشورے دیتے رہے، ان کی خیرخواہی کرتے رہے، خلیفۃ المسلمین عثمان رضی اللہ عنہ کی اطاعت و فرماں برداری اور سخت ہونے کے باوجود ان کے احکام کی بجا آوری کو بیان کرتے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
لَوْ سَیَّرَنِیْ عُثْمَانُ إِلٰی صِرَارٍ
(صرار: وہ مقام جہاں باغی اکٹھے ہوئے تھے۔)
لَسَمِعْتُ وَ أَطَعْتُ
(مصنف ابن أبي شیبۃ: جلد 15 صفحہ 225۔ اس کی سند صحیح ہے۔)
’’اگر عثمان رضی اللہ عنہ مجھے (باغیوں کے مقابلے کے لیے) مقام صرار جانے کا حکم دیں تو میں بجاآوری کے لیے تیار ہوں۔‘‘
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کے تقریباً ڈیڑھ مہینہ پہلے جب سرکشی کرنے والے ذوالمروہ میں پہنچے تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس سیدنا علی رضی اللہ عنہ نیز ایک اور آدمی کو جن کا نام روایتوں میں مذکور نہیں ہے بھیجا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے ملاقات کرکے کہا: تمھیں اللہ کی کتاب پر عمل کرنے کا وعدہ دیا جا رہا ہے، تم اپنی تمام ناراضیاں بھلا دوگے، چنانچہ وہ اس پر متفق ہوگئے۔
(تاریخ دمشق ترجمۃ عثمان: صفحہ 328، تاریخ خلیفۃ: صفحہ 169)
دوسری روایت کے مطابق ان لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے دو تین بار زور آزمائی کی، پھر ان لوگو ں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی، امیر المؤمنین کے قاصد تم پر کتاب اللہ کو پیش کر رہے ہیں،
(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 129)
چنانچہ انھوں نے اسے قبول کرکے ان پانچ چیزوں پر صلح کرلی:
1۔ جلاوطن کیے ہوئے کو واپس بلایا جائے۔
2۔ محروم کو دیا جائے۔
3۔ مال فے کو پورا پورا دیا جائے اور تقسیم میں عدل و انصاف سے کام لیا جائے۔
4۔ امین و قوی شخص کو گورنر بنایا جائے۔
5۔ ابن عامر کو دوبارہ بصرہ کا گورنر بنایا جائے اور ابوموسیٰ کو کوفہ کا گورنر باقی رکھا جائے۔
(فتنۃ مقتل عثمان : جلد 1 صفحہ 129)
اور ان چیزوں کو دستاویزی شکل میں لکھا گیا۔
اس طرح سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ہر وفد کے ساتھ علیحدہ علیحدہ صلح کی، پھر وفود اپنے علاقوں کی جانب لوٹ گئے۔
(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 329)
اس صلح اور باحالت رضا مندی تمام لوگوں کی واپسی سے فتنہ برپا کرنے والوں کو معلوم ہوا کہ ان کا منصوبہ ناکام ہو رہا ہے، ان کے گھٹیا مقاصد پر پانی پھر رہا ہے تو انھوں نے فتنے کو بھڑکانے اور زندہ کرنے کے لیے ایک دوسرا منصوبہ بنایا جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور لوگو ں کے مابین ہونے والی مصالحت کو تار تار کردے، درج ذیل باتوں سے یہ چیز واضح ہوجاتی ہے:
اہل مصر جب لوٹ رہے تھے تو ایک اونٹ سوار کو اپنے سامنے آتے اور جدا ہوتے کئی بار دیکھا، گویا اس کا مقصد تھا کہ مجھے پکڑ لو، چنانچہ ان لوگوں نے اسے پکڑ کر کہا: تمھارا کیا معاملہ ہے؟ کہا: مجھے امیر المؤمنین کی طرف سے گورنر کے پاس قاصد بنا کر بھیجا گیا ہے، انھوں نے خط کھولا تو اس میں ان کو پھانسی دینے، یا قتل کر دینے، یا ہاتھوں اور پاؤں کو کاٹ دینے کا حکم تھا، تو وہ دوبارہ مدینہ لوٹ آئے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 379)
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مذکورہ خط کو لکھنے سے انکار کرتے ہوئے کہا: دو باتیں ہیں: یا تو تم دو مسلمانوں سے گواہی دلاؤ، یا میں اللہ کی قسم کھاؤں کہ نہ تو میں نے یہ خط لکھا نہ لکھایا ہے، اور نہ مجھے علم ہے، ایسا ہوتا ہے کہ کسی کی جانب منسوب خط لکھ دیا جائے اور مہر لگا دی جائے، لیکن ان لوگوں نے اپنے خفیہ مقصد کے پیش نظر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سچا ہونے کے باوجود ان کی تصدیق نہیں کی۔
(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 5 صفحہ 132، البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 191)
یہ خط جس کے بارے میں منحرف سرکش باغیوں کا خیال تھا کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی جانب سے ہے اور اس پر انھی کی مہر لگی ہے، اسے آپ کا غلام مصر کے گورنر ابن ابی سرح رضی اللہ عنہ کے پاس صدقہ کے ایک اونٹ پر لے جا رہا تھا، اس میں ان باغیوں کے قتل کا حکم تھا، یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی جانب منسوب سراسر جھوٹا اور جعلی خط تھا، اس کی بہت سی دلیلوں میں سے یہ ہے
(تیسیر الکریم المنان فی سیرۃ عثمان بن عفان للصلابی: صفحہ 410)
کہ عراقی جب عراق جا رہے تھے تو انھیں اس معاملے کا کیسے پتہ چل گیا، جب کہ ان کے اور مصریوں(جنھوں نے جھوٹے خط کو پکڑا تھا) کے مابین لمبی مسافت ہے، عراقی مشرق میں ہیں اور مصری مغرب میں، اس کے باوجود وہ سب کے سب ایک ہی وقت میں واپس آئے گویا ان کے مابین کوئی مقررہ وعدہ تھا، ایسا اسی وقت ہوسکتا ہے جب یہ جعلی خط تیار کرنے والے کسی اور سوار کو کرایہ پر لے کر عراقیوں کے پاس بھیج دیا ہوتا کہ وہ انھیں خبر دے کہ مصریوں نے ایک ایسا خط پکڑا ہے جس میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ منحرف مصریوں کو قتل کردینے کا پیغام بھیج رہے تھے۔ اسی سے دلیل پکڑتے ہوئے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: اے کوفہ و بصرہ والو! تمھیں اس خط کا پتہ کیسے چلا جسے مصر والوں نے پکڑا تھا جب کہ تم کافی دور جاچکے تھے، پھر ہماری طرف لوٹ آئے، بلکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اللہ کی قسم اس معاملے کی سازش مدینہ ہی میں کی گئی تھی۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 359)
یہ پہلا جعلی خط نہیں تھا جسے مجرموں نے تیار کیا تھا بلکہ امہات المؤمنین نیز علی، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم کی جانب منسوب بہت سارے جعلی خطوط تیار کیے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی گئی کہ انھوں نے لوگوں کو خط لکھ کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کا حکم دیا ہے، چنانچہ وہ اس کا انکار کرتے ہوئے کہتی ہیں:
’’اللہ کی قسم یہاں بیٹھنے تک میں نے ان کے پاس کچھ بھی نہیں لکھا ہے۔‘‘
(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 334)
اعمش اس سلسلے میں کہتے ہیں:
’’لوگوں کا خیال ہے کہ یہ خط ان کی جانب منسوب کرکے لکھا گیا تھا۔‘‘
(تاریخ خلیفۃ بن خیاط: صفحہ 169)
مدینہ آنے والے باغیوں کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر تہمت تھی کہ انھوں نے ان کے پاس خط لکھ کر مدینہ آنے کی دعوت دی ہے، چنانچہ ان کی تہمت کا انکار کرتے اور قسم کھاتے ہوئے علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
وَ اللّٰہُ مَا کَتَبْتُ إِلَیْکُمْ کِتَابًا۔
(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 335، البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 191)
’’اللہ کی قسم میں نے تمھیں کوئی خط نہیں لکھا۔‘‘
اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جانب یہ بات منسوب کی گئی کہ انھوں نے لوگوں کو خط لکھ کر اپنے پاس آنے کا حکم اس لیے دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو بگاڑ دیا گیا ہے اور اسے چھوڑ دیا گیا ہے اور مدینہ میں جہاد دور سرحدوں کی حفاظت سے بہتر ہے۔
(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 335، البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 175)
ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر جھوٹی تہمت ہے، ان کی جانب منسوب جعلی خطوط لکھے گئے تھے، چنانچہ علی، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم کی جانب سے قاتلین عثمان خوارج کی طرف جعلی خطوط لکھے گئے، جن کا ان لوگوں نے انکار کیا ہے، اسی طرح سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی جانب منسوب جعلی خط لکھا گیا نہ آپ نے اس کا حکم دیا تھا اور نہ آپ کو اس کا علم تھا۔‘‘
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 175)
ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ کی اس بات کی تائید طبری اور خلیفہ کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ کبارِ صحابہ سیدنا علی، عائشہ اور زبیر رضی اللہ عنہم نے بذات خود صحیح روایتو ں کے مطابق ان جعلی خطوط کا انکار کیا ہے۔
(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 335)
جن مجرم ہاتھوں نے صحابہ کی جانب منسوب جھوٹے اور جعلی خطوط تیار کیے تھے انھی ہاتھوں ہی نے فتنوں کی آگ شروع سے آخر تک بھڑکائی تھی، اتنا لمبا چوڑا فساد پھیلایا تھا، انھوں نے ہی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی جانب منسوب جھوٹی باتوں کو گھڑا تھا اور پھیلایا تھا، اور لوگوں کو بار بار سنا کر ذہن میں بٹھایا تھا، تا آنکہ معمولی قسم کے لوگوں نے بھی ان باتوں کو قبول کرلیا، پھر انھوں نے ہی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی جانب منسوب یہ جعلی خط تیار کیا تاکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید کردیے جائیں۔
اس سبائی یہودی سازش کا نشانہ صرف شہید ہونے والے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہی نہ تھے بلکہ ان سے پہلے اس کا نشانہ بذاتِ خود اسلام تھا، پھر محرف اور بگاڑی ہوئی تاریخ، اور اس تاریخ کو پڑھنے والی آئندہ نسلیں بھی اس حاسد، نفس پرست، لالچی اور خبیث یہودی اور اس کے کارندوں کے نشانے پر تھیں۔
کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اسلامی نسلیں اپنی صحیح تاریخ سے آگاہ ہوسکیں اور اپنی عظیم شخصیات کی سیرتوں کو جان سکیں؟ بلکہ عصر حاضر میں مسلمان اہل قلم کے لیے کیا وہ وقت نہیں آیا کہ وہ اللہ سے ڈریں اور تحقیق و تدقیق سے پہلے بے گناہوں کی تنقید و تنقیص کی جرأت نہ کریں تاکہ دوسروں کی طرح وہ بھی غلطی کے مرتکب نہ ہوں۔
(عثمان بن عفان الخلیفۃ الشاکر الصابر: صفحہ 238، 239)