کفار کے ساتھ سوشل بائیکاٹ کرنا قرآن و حدیث کے عین مطابق ہے…

کفار کے ساتھ سوشل بائیکاٹ کرنا قرآن و حدیث کے عین مطابق ہے اور اللہ تعالیٰ جل شانہ اور اس کے رسولﷺ کے دوستوں کے ساتھ دوستی اور ان کے دشمنوں کے ساتھ دشمنی افضل الاعمال ہیں


صفحہ 2 از 3

نیز قران پاک میں ہے: لَا تَجِدُ قَوۡمًا يُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ يُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَلَوۡ كَانُوۡۤا اٰبَآءَهُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَهُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَهُمۡ اَوۡ عَشِيۡرَتَهُمۡ‌ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمُ الۡاِيۡمَانَ وَاَيَّدَهُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡهُ‌ ؕ: یعنی تم نہ پاؤ گے کسی ایسی قوم کو جو اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ پر آخرت پر ایمان رکھتے ہوں کہ وہ دوستی کریں ایسے لوگوں سے جو دشمنی اور مخالفت کریں اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ اور اس کے رسولﷺ سے اگرچہ وہ دشمنی کرنے والے ان کے باپ ہوں یا بیٹے ہوں بھائی ہو یا کنبہ برادری ہو ایسے ہی ایمان والوں کے دلوں میں اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ نے ایمان نقش فرما دیا اور ان کی روح سے مدد فرماتا ہے اور انہیں بہشتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں ہیں ان بہشتوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ ان سے راضی وہ اللّٰہ تعالی جل شانہ سے راضی یہ لوگ اللّٰہ تعالی جل شانہ کی جماعت ہے اللّٰہ تعالی جل شانہ کی جماعت ہی دونوں جہان میں کامیاب ہے۔ آیت مذکورہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ پر ایمان اور اس کے رسول کے ساتھ دشمنوں کے ساتھ دوستی یہ دونوں چیزیں اکٹھی ہو ہی نہیں سکتی چنانچہ تفسیر روح المعانی میں ہے کہ: آیت مبارکہ میں تصور دلایا گیا کہ کوئی قوم مؤمن بھی ہو اور کفار و مشرکین کے ساتھ اس کی دوستیاں محبت بھی ہو یہ محال و متمنع ہے۔

( روح المعانی: جلد، 28 صفحہ، 35)

نیز اسی تفسیر میں ہے کہ آیت مذکورہ میں اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ اور اس کے رسولﷺ کے دشمنوں کے ساتھ محبت و دوستی کرنے سے مبالغے کے ساتھ منع فرمایا اور ایسا کرنے والوں کے لئے زجر و توبیخ ہے، اور اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ کے دشمنوں سے الگ رہنے کی پختگی بیان کی گئی ہے۔

( روح المعانی: جلد، 28 صفحہ، 35)

اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ نے اپنے حبیبﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین کے دلوں میں ایسا ایمان نقش کر دیا تھا کہ ان کی نظروں میں آنحضرتﷺ کے مقابلے میں کسی کی کوئی وقعت ہی نہ تھی، خواہ وہ باپ ہو کہ بیٹا، بھائی ہو کہ بہن۔ چنانچہ سیدنا صدیق اکبرؓ نے اپنے باپ کی زبان سے آنحضرتﷺ کی شان اقدس میں گستاخی سنی تو اس کو ایسا مُکا رسید کیا کہ وہ گر گیا جب حضور اکرمﷺ سے عرض کیا گیا اور حضور اکرمﷺ نے پوچھا اے ابوبکر! آپ نے ایسا کیا ہے؟ سیدنا صدیق اکبرؓ نے کہا: ہاں، یا رسول اللہﷺ! اے اللّٰہ تر عالٰی کے پیارے رسولﷺ اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ کی قسم اگر میرے قریب تلوار ہوتی تو میں اس کو مار دیتا اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔

(روح المعانی: جلد، 28 صفحہ، 37)

سیدنا ابو عبیدہ بن جراحؓ نے اپنے باپ کے منہ سے اپنے محبوبﷺ کی شان میں کوئی ناپسندیدہ بات سنی تو اسے منع کیا، وہ باز نہ آیا تو سیدنا ابو عبیدہ بن جراحؓ نے اپنے باپ کو قتل کر دیا۔

(روح المعانی: جلد، 28 صفحہ، 37)

سیدنا عمر فاروق اعظمؓ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام کو بدر کے دن اپنے ہاتھ سے قتل کر دیا اور سیدنا علی المرتضیٰؓ اور سیدنا حمزہؓ سیدنا عبیدہ بن حارثؓ نے عتبہ شیبہ کو قتل کر دیا اور سیدنا مصعب بن عمیرؓ نے اپنے بھائی عبید بن عمیرؓ کو اپنے ہاتھ سے قتل کر دیا۔ 

اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ ان پاک روحوں پر لاکھوں کروڑوں، اربوں، کھربوں رحمتیں نازل فرمائے جنہوں نے امت کو عشق مصطفیﷺ کا درس دیا اور یہ ثابت کر دیا کہ ناموس مصطفیٰﷺ کے سامنے سب کچھ ہیچ ہیں۔ آنحضرتﷺ کی عظمت و عزت و عظمت کے سامنے نہ کسی استاد کی عزت ہے نہ کسی پیر کا تقدس رہ جاتا ہے، نہ ماں باپ کا وقار نہ بیوی بچوں کی محبت آڑے آتی ہے نہ مال و دولت ہی رکاوٹ بن سکتی ہے۔

صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین کے عشق و محبت ہی کی بنا پر اللّٰہ جل شانہ نے ان کے جذبات کی تعریف فرمائی ہے اشداء على الكفار رحماء بينهم یعنی وہ کافروں دشمنوں پر بڑے سخت ہیں اور آپس میں رحم دل ہیں۔ بلکہ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اللّٰہ جل شانہ اور رسولﷺ کے دشمنوں کے ساتھ دشمنی اور شدت کی مقدار پر ہی عشق و محبت کا نکھار ہوتا ہے۔ جو شخص محبت کا دعویٰ تو کرے لیکن محبوب کے دشمنوں کے ساتھ بغض و عداوت نہ رکھے وہ محبت میں سچا نہیں ہے بلکہ وہ بربریت ہے، دھوکہ ہے، فریب ہے۔

الحاصل: اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ اور اس کے رسولﷺ کے دوستوں کے ساتھ دشمنی اور ان کے دشمنوں کے ساتھ دشمنی افضل الاعمال ہیں ۔حدیث پاک میں ہے۔ افضل الاعمال الحب فى الله وابغض فى اللّٰه یعنی عملوں میں سے افضل ترین عمل اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ کے دوستوں سے محبت کرنا اور اللّٰہ تعالی جل شانہ کے دشمنوں سے دشمنی کرنا ہے۔

( ابوداؤد: جلد، 2 صفحہ، 175)

آنحضرتﷺ دربار الہی میں یوں دعا کرتے ہیں: یااللّٰہ ہم کو ہدایت دہندہ ،ہدایت یافتہ کر۔ یااللّٰہ ہم کو گمراہ اور گمراہ کرنے والا نہ کر۔ یا اللّٰہ! ہم کو اپنے دوستوں کے ساتھ دوستی اور محبت کرنے والا, اور اپنے دشمنوں کے ساتھ دشمنی اور عداوت رکھنے والا بنا۔ یااللّٰہ ہم تیری محبت کی وجہ سے تیرے دوستوں سے محبت کرتے ہیں اور تیرے دشمنوں کے ساتھ ان کی عداوت کی وجہ سے ہم ان سے عداوت رکھتے ہیں۔ یااللّٰہ! یہ ہماری دعا ہے اس سے قبول فرما۔

( ترمذی شریف: جلد، 2 صفحہ، 178)

صفحہ 2 از 3