کفار کے ساتھ سوشل بائیکاٹ کرنا قرآن و حدیث کے عین مطابق ہے…

کفار کے ساتھ سوشل بائیکاٹ کرنا قرآن و حدیث کے عین مطابق ہے اور اللہ تعالیٰ جل شانہ اور اس کے رسولﷺ کے دوستوں کے ساتھ دوستی اور ان کے دشمنوں کے ساتھ دشمنی افضل الاعمال ہیں


صفحہ 3 از 3

ان ارشاداتِ عالیہ کو وہ مصلح کلی (اَمن پسندی اور بھائی چارے کی صدا لگانے والے) حضرات آنکھیں کھول کر دیکھیں جو لوگ بےسوچے سمجھے جھٹ کہہ دیتے ہیں کہ حضورﷺ کافروں کو بھی گلے لگاتے تھے۔ ان حضرات سے سوال یہ ہے کہ آنحضرتﷺ اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ کے ارشاد مبارک۔ ياايها النبي جاهد الكفار والمنافقين واغلظ عليهم کے مطابق حکمِ الہی کی تعمیل کرتے تھے یا نہیں؟ ہر مسلمان کا ایمان ہے کہ احکامِ خداوندی کی تعمیل آنحضرتﷺ سے بڑھ کر کوئی نہیں کر سکتا اور نہ کسی نے کی ہے بنا بریں رسول اکرمﷺ نے اس مسجدِ نبوی شریف سے منافوں کا نام لے کر مسجد سے نکال دیا سیدنا ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ جمعہ کے دن جب خطبے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا اے فلاں! تو منافق ہے، لہٰذا مسجد سے نکل جا۔ تو بھی منافق ہے، مسجد سے نکل جا۔ آنحضرتﷺ نے کئی منافقوں کے نام لے کر نکالا اور ان کو سب کے سامنے رسوا کیا۔ اس جمعہ کو سیدنا عمر فاروق اعظمؓ ابھی مسجد میں حاضر نہیں ہوئے تھے کسی کام کی وجہ سے دیر ہو گئی تھی جب وہ منافق مجلس سے نکل کر رسوا ہو کر جا رہے تھے تو سیدنا فاروق اعظمؓ شرم سے چھپ رہے تھے کہ مجھے تو دیر ہو گئی ہے شاید جمعہ ہو گیا۔ لیکن منافق سیدنا فاروق اعظمؓ سے اپنی رسوائی کی وجہ سے چھپ رہے تھے پھر جب سیدنا فاروق اعظمؓ مسجد میں داخل ہوئے تو ابھی جمعہ نہیں ہوا تھا۔ بعد میں ایک صحابیؓ نے کہا: اے عمر! تجھے خوشخبری ہو کہ آج اللّٰہ تعالی جل شانہ نے منافقوں کو رسوا کر دیا ہے۔

( تفسیر روح المعانی: جلد،11 صفحہ، 11)

اور (سیرت ابنِ ھشام جلد، 1 صفحہ، 528, 529) میں عنوان قائم کیا ہے اور اس کے تحت فرمایا ہےکہ منافق لوگ مسجد میں آتے اور مسلمانوں کی باتیں سن کر ٹھٹے کرتے دین کا مذاق اڑاتے تھے. ایک دن کچھ منافق مسجدِ نبوی میں اکٹھے بیٹھے تھے اور آہستہ آہستہ آپس میں باتیں کر رہے تھے ایک دوسرے کے ساتھ قریب قریب بیٹھے تھے، آنحضرتﷺ نے دیکھ کر حکم دیا کہ ان منافقوں کو سختی سے نکال دیا جائے اس ارشاد پر سیدنا ایوبؓ سیدنا خالد بن زیدؓ اٹھ کر کھڑے ہوئے اور عمر بن قیس کو ٹانگ سے پکڑ کر گھسیٹتے گھسیٹتے مسجد سے باہر پھینک دیا۔ پھر سیدنا ابو ایوبؓ رضی اللہ تعالی عنہ نے رافع بن ودیعہ کو پکڑا اس کے گلے میں چادر ڈال کر خوب بھینچا اور اس کے منہ پر طمانچہ مارا اور اس کو مسجد سے نکال دیا اور ساتھ ساتھ سیدنا ابو ایوبؓ رضی فرماتے جاتے۔ ارے خبیث منافق تجھ پر افسوس ہے۔ اے منافق رسول اللّٰہﷺ کی مسجد سے نکل جا اور اِدھر سیدنا عمارہ بن حزمؓ نے زید بن عمرو کو داڑھی سے پکڑا زور سے کھینچا اور کھینچتے کھینچتے مسجد سے نکال دیا، پھر اس کے سینے پر دونوں ہاتھوں سے تھپڑ مارا کہ وہ گر گیا۔ اس منافق نے کہا اے عمار! تو نے مجھے بہت عذاب دیا یے۔ سیدنا عمارہؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جل شانہ تجھے دفع کرے جو اللٰہ تعالیٰ جل شانہ نے تیرے لئے عذاب تیار کیا ہے وہ اس سے بھی سخت تر ہے۔ آئندہ رسول اللہﷺ کی مسجد کے قریب نہ آنا۔

اور بنو نجار قبیلے کے دو صحابی ابو محمدؓ جو کہ بدری صحابی تھے اور ابو محمد مسعودؓ نے قیس بن عمرو کو جو کہ منافقین میں سے نوجوان تھے گدی پر مارنا شروع کیا حتیٰ کہ مسجد سے باہر نکال دیا۔ اور سیدنا بلال بن حارثؓ نے جب سنا کہ حضور اکرمﷺ نے منافق کو نکال دینے کا حکم دیا ہے، حارث بن عمرو کو سر کے بالوں سے پکڑ کر زمین پر گھسیٹتے گھسیٹتے مسجد سے باہر نکال دیا، وہ منافق کہتا تھا اے ابنِ حارث! تو نے مجھ پر بہت سختی کی ہے سیدنا ابن حارثؓ نے جواب میں فرمایا: اے خدا تعالیٰ کے دشمن!تو اسی لائق ہے تو نجس ہے، پلید ائندہ مجلس کے قریب نہ آنا ۔ادھر ایک صحابیؓ نے اپنے بھائی زری بن حارث کو سختی سے نکال کر فرمایا افسوس کہ تجھ پر شیطان کا تسلط ہے۔


صفحہ 3 از 3