Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مسئلہ تحریف قرآن پر سُنی و شیعہ مختصر اور دلچسپ مکالمہ (ایک تیر سے دو شکار)

  جعفر صادق

  1. مسئلہ تحریف قرآن پر سُنی و شیعہ مختصر اور دلچسپ مکالمہ (ایک تیر سے دو شکار) 

کل رات دو شیعہ اہلِ علم حضرات رانا محمد سعید اور سید علی حیدری صاحب کو موقعہ دیا گیا کہ وہ قرآن کریم کے متعلق واضح اور آسان الفاظ میں اہل تشیع عقیدہ اور نظریہ عوام تک پہنچائیں ، خاص طور ان نکات کو کلیئر کریں جن پر اہلِ سنت کو صدیوں سے اہلِ تشیع سے گلہ رہا ہے اور اسی بنا پر اہلِ سنت کی طرف سے اہلِ تشیع کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جاتا ہے۔ 

دونوں مکالموں کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے۔

گفتگو کا پس منظر یہ تھا کہ رانا محمد سعید صاحب نے ایک اہلِ سنت بھائی کو جواب دیتے ہوئے بڑھکیں ماری کہ اہلِ تشیع پر کفر کے فتوے لگانے والے خود ذلیل و خوار ہوکر مرے، کفر کفر کی گردان کرتے ہیں لیکن ثابت کرنے پر موت آتی ہے، عدالتوں سے بھاگ جاتے ہیں۔

 اس کمنٹ پر انہیں بتایا گیا کہ اصل مسئلہ اہلِ تشیع کا تقیہ ہے، جس دن وہ تقیہ کرنا چھوڑ دیں گے، اسی دن ان کے اپنے قریبی لوگ بھی انہیں کافر کافر کہنا شروع کر دیں گے۔

اس کے جواب میں رانا صاحب کا نہایت سخت الفاظ میں جواب آیا کہ جو ہمیں کافر کہے وہ ملعون خود کافر ہے، زندیق ہے بلکہ حرام زادہ دجال ہے

اس صریح بداخلاقی کے باوجود خندہ پیشانی سے رانا محمد سعید صاحب کو اہلِ تشیع کے پانچ کفریہ عقائد آسان الفاظ میں اور وضاحت کے ساتھ پیش کردئیے گئے۔

شیعہ کے پانچ کفریہ عقائد 

¹ـتحریف قرآن کا عقیدہ۔

²ـ شیعہ کا عقیدہ امامت۔

³ـ ازواج مطہراتؓ کی شان  و عظمت کا انکار۔ 

⁴ـ شیعہ صحابہ کرامؓ بالخصوص خلفائے ثلاثہ (حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت عثمان غنیؓ ) کو کافر و مرتد سمجھتے ہیں۔ 

⁵ـ کلمہ طیبہ اور اذان میں من مانی تحریف۔

 موصوف رانا محمد سعید شیعہ کو چیلینج کیا گیا کہ کسی بھی عقیدے پر تفصیلی گفتگو کرے اور عوام کو بتائے کہ یہ عقائد اہلِ تشیع کے ہیں یا نہیں۔ اگر انکار کرے گا تو مستند روایات سے ثابت کئے جائیں گے اور اگر اقرار کرے گا تو بتایا جائے کہ اہلِ تشیع کو دائرہ اسلام میں کیسے داخل کیا جائے؟

گفتگو 10 جولائی 2022 رات 9:40 سے شروع ہوئی اور سوا دو گھنٹے تک جاری رہی۔ انہوں نے پہلے بیان کئے گئے عقیدہ تحریف قرآن پر گفتگو کرنے پر آمادگی دکھائی۔ شروعاتی  پانچ منٹ چھ منٹ  کے اندر ہی اہلِ سنت کا قرآن کریم کے متعلق واضح مؤقف پیش کر دیا گیا۔ 

قرآن کریم میں کوئی تحریف نہیں ہوئی۔ ایک ایک لفظ وہی ہے جو وحی الہٰی ہے۔ کوئی کمی بیشی رد و بدل نہیں ہوا۔ تحریف کا قائل کافر ہے۔

دو گھنٹے سے جاری گفتگو میں بجائے اہلِ تشیع عقیدہ بیان کرنے کے رانا صاحب  مختلف سوالات و اعتراضات کرتے رہے، شروع سے آخر تک ان سے کئی بار شیعہ عقیدہ پوچھا گیا لیکن موصوف بضد رہے کہ میں صرف اہل سنت کو تحریف قرآن کا قائل ثابت کروں گا۔ انہیں اس کی بھی اجازت دی گئی اور کہا گیا کہ اہلِ تشیع عقیدہ بیان کرنے کے بعد آپ دو دن یا دس دن جتنا چاہیں گفتگو کریں لیکن کم از کم عوام کو یہ تو بتائیں کہ موجودہ قرآن کریم پر شیعوں کا عقیدہ کیا ہے۔ 

اس دوران انہوں نے تحریف کی تعریف پیش کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ انہیں مختلف اہلِ سنت تفاسیر سے تحریف کی تعریف اور اقسام دکھا دی گئیں تو اس پر ہی اشکالات وارد کر کے وقت ضائع کرنے لگے، انہیں عرض کیا گیا کہا اس میں تمام اقسام تحریف بیان کئے گئے ہیں۔ اگر وہ تعریف درست نہیں ہے تو ناقص ثابت کرنے کے لئے کوئی متبادل جامع تعریف پیش کرنی ہوگی جس میں کوئی نئی بات شامل ہو۔

اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

انہیں وضاحت سے سمجھا دیا گیا کہ

تحریف کے دو اقسام ہیں لفظی اور تفسیری۔

تفسیری تحریف مجازی تحریف ہوتی ہے اور اس بنا پر ہی کئی فرقے وجود میں آئے ہیں۔

لفظی تحریف پر اہل سنت کا واضح عقیدہ ہے کیونکہ قرآن کا محافظ اللہ عزوجل خود ہے۔

ان سے بار بار دو سوال پوچھے گئے۔

¹ـکیا شیعہ لفظی تحریف قرآن کے قائل نہیں ہیں یا اس کے قائل کو کافر سمجھتے ہیں؟

²ـکیا اہل تشیع قرآن کریم کا ایک ایک لفظ محفوظ سمجھتے ہیں؟

ان کی طرف سے عقیدہ کی وضاحت نہ آئی اور ممبرز کا وقت ضائع ہوتے دیکھ کر مزید انہیں آدھ گھنٹہ بھی دیا گیا کہ اگر آپ شیعہ عقیدہ بیان نہیں کریں گے تو پھر آگے گفتگو نہیں کی جائے گی۔

 ہر دس منٹ بعد انہیں باور بھی کرایا جاتا رہا کہ وہ پہلے اپنے عقیدے کی وضاحت کریں پھر دل کھول کر اہل سنت پر الزامات عائد کرتے رہیں لیکن سوائے بدتمیزی اور بداخلاقی کے ان کے پاس کچھ بھی نہ تھا۔ 

نتیجہ: اہل تشیع مناظروں، مکالموں اور مباحثوں میں اپنے عقائد چھپاتے ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ حقیقت کھل جائے گی اور عوام ہم پر تُھوکے گی۔ اس لئے ان کا پورا زور یہ ہوتا ہے کہ مخالف پر بھی وہی اعتراض اور الزام ثابت کیا جائے۔ 

غور فرمائیں! بالفرض تحریف قرآن کا عقیدہ اہل تشیع کا نہیں ہے تو اسے چھپانے کے بجائے فخریہ انداز سے بیان کرنا چاہئے تھا،  لیکن ہائے مجبوری! چور کی داڑھی میں تنکا!

دوسرا شکار شیعہ عالم سید علی حیدری

اس کے بعد رات 12:40 پر ایک اور شیعہ عالم سید علی حیدری صاحب نے آستینیں چڑھائیں اور علمی میدان میں اترے۔  آئے تو وہ تحریف قرآن پر گفتگو کرنے کے لئے تھے لیکن آتے ہی اہلِ سنت عقیدہ خلافت کو مجہول کہتے ہوئے دعویٰ کردیا کہ اہلِ سنت عقیدہ خلافت کا نہ سر ہے نہ پیر!

انہیں بتایا گیا کہ اگرچہ تحریف قرآن کا موضوع طئے ہے اور دونوں فریقین جب اپنا اپنا عقیدہ دوٹوک بیان کریں گے تو اس کے بعد دلائل کی روشنی میں گفتگو ہوگی لیکن وہ چاہیں تو عقیدہ خلافت پر بھی گفتگو ہوسکتی ہے۔

انہوں نے بالآخر تحریف قرآن پر گفتگو کے لئے حامی بھری اور اعتراض وارد کیا کہ تحریف قرآن کا مسئلہ اہل سنت کی بنیاد کے وقت موجود نہیں تھا اور نہ آج ہے۔

 (غور فرمائیں! موصوف خود اقرار کر رہے ہیں کہ اہلِ سنت کے ہاں تحریف قرآن کا مسئلہ  شروع سے آج تک موجود ہی نہیں ہے۔ اس کے باوجود شیعہ حضرات عام لوگوں کو بتاتے ہیں کہ اہل سنت بھی معاذاللہ تحریف قرآن کا عقیدہ رکھتے ہیں!)

انہیں دوٹوک بتایا گیا کہ اہل سنت تو دور نبوی سے موجود ہیں، رہی بات شیعہ اثناعشریہ کی تو وہ خود چوتھی صدی کی پیداوار ہیں اور جب شیعہ عقائد کی تائید قرآن سے نہ ہو سکی تو مجبوراً تحریف قرآن کا عقیدہ بھی گھڑا گیا تاکہ شیعیت کا دفاع ممکن ہوسکے۔

اس موقعہ پر سید علی حیدری صاحب نے اہلِ سنت کو دور نبوی سے ثابت کرنے پر دلیل طلب کرلی حالانکہ گفتگو دلائل تک ابھی پہنچی نہیں تھی اس کے علاوہ لفظ شیعہ سے اپنے مذہب کی تائید دور نبوی سے دکھانے کی ناکام کوشش کی گئی ،  جسے یہ کہہ کر فوراً رد کر دیا گیا کہ  لفظ شیعہ دور قدیم میں لغوی معنی میں استعمال ہوتا تھا اور شیعہ لفظ کے لغوی معنی ہیں گروہ یا ٹولہ۔ اسی لئے تاریخ میں شیعان عثمان، شیعان علی اور شیعان معاویہ کا ذکر موجود ہے۔ شیعہ لفظ کے اصطلاحی معنی جب رائج ہوئے یعنی شیعہ مذہب گھڑا گیا تو اہلِ سنت نے اس لفظ سے بے زاری اختیار کی۔ لیکن فی الوقت زیر بحث موضوع تحریف قرآن ہے۔

 انہیں آفر کی گئی کہ وہ چاہیں تو اس موضوع پر بھی گفتگو کی جا سکتی ہے کہ دور نبوی میں مسلک اہلِ سنت تھا یا مسلک اہلِ تشیع، لیکن انہوں نے تحریف قرآن پر ہی گفتگو جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

رانا محمد سعید کی طرح ان سے بھی بار بار اہلِ تشیع عقیدہ پوچھا جاتا رہا، لیکن وہ بتانے سے قاصر رہے۔ 

سید علی حیدری نے دوران گفتگو مطالبہ کیا کہ تحریف قرآن کی تعریف علماء متقدمین سے پیش کی جائے، جبکہ خود اوپر یہ بھی کہہ چکے تھے کہ اہلِ سنت کے ہاں تحریف قرآن کا مسئلہ  شروع سے آج تک موجود ہی نہیں ہے۔ غور کیا جائے تو جس بات کا وجود نہ ہو اس کے متعلق ایسا مطالبہ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ خیر انہیں پھر بتایا گیا کہ پہلی چار صدیوں تک تحریف قرآن کا تصور تک نہیں تھا، جب اثنا عشریہ گھڑا گیا تو تحریف قرآن کا عقیدہ مشہور ہوا، اس لئے یہ مطالبہ عقلی طور پر درست نہیں ہے۔ ساتھ ہی تحریف کی تعریف آسان الفاظ میں ان کی خدمت میں پیش کردی گئی۔

تحریف کی تعریف:  تحریف عربی کا لفظ ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی قسم کی تبدیلی کرنا۔ الفاظ حرف یا بیان وغیرہ بدل دینا یا کسی متن میں تبدیلی وغیرہ۔ قرآن کریم میں تحریف کا ہونا ممکن نہیں جو اس کا قائل ہوگا وہ کافر ہو جائے گا۔

 اس کے بعد سید علی حیدری ڈھکے چھپے انداز سے اقرار کرتے رہے کہ اہلِ تشیع واقعی تحریف قرآن کا عقیدہ رکھتے ہیں کیونکہ انہوں نے یہ تک لکھ دیا کہ تدوین قرآن کے دور میں تحریف قرآن ممکن ہے۔ معاذاللہ 

غور فرمائیں! جس کا محافظ اللہ عزوجل خود ہو اس میں کمی بیشی کا ہونا شیعہ کے ہاں ممکنات میں سے ہے۔

انا للہ وانا الیہ رجعون۔

ان سے براہ راست پوچھا گیا کہ کیا آپ اقرار کر رہے ہیں کہ تدوین قرآن کے دور میں تحریف ہوئی ؟ تو اس کا جواب تک نہ دیا بلکہ آگے سے یہ کہا کہ  ممکن ہے کہ اوائل اسلام کے افراد خود تحریف قرآن کے قائل ہوں! اور ان کے لئے قرآن مجید میں تحریف کوئی وجہ کفر نہ ہو! (یہ الفاظ بھی براہِ راست شیعہ کے عقیدہ تحریف قرآن پر دلالت کرتے ہیں۔)

اس کے بعد سید علی حیدری صاحب نے تین اہم نکات لکھے۔

قرآن مجید کو تحریف سے پاک ماننے کے لیے لازم ہے کہ اہلِ سنت کے قرآن مجید سے متعلق بنیادی عقائد کو گھڑنتو اور اسلام مخالف تسلیم کیا جائے۔

¹- ہر مسلمان کو قرآن مجید سے متعلق یہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ موجودہ قرآن مجید کی تدوین یا کتابت خود نبی کریمﷺ نے اپنی موجودگی و سرپرستی میں کروائی اور اس عقیدے کو من گھڑت تسلیم کرنا چاہیے کہ موجودہ قرآن مجید کی کتابت بعد وفات الرسول دور عثمان میں ہوئی۔

 ²ـ اس عقیدے کو من گھڑت تسلیم کیا جانا چاہئے کہ جو قرآن، نبی کریمﷺ پر نازل ہوا وہ سبعہ احرف میں تھا اور یہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ نبی کریمﷺ پر قرآن حرف واحد میں نازل ہوا۔

³ـ قرآن مجید کی منزل من اللہ قرأت ایک ہی تھی اور وہ قرات الرسول تھی , اس کے علاؤہ دیگر قرأتیں منزل من اللہ نہیں۔

الجواب اہل سنت: یہ سب بعد کی ثانوی باتیں ہیں۔ اس وقت موجود قرآن کے متعلق اہلِ تشیع کیا عقیدہ رکھتے ہیں؟

ہمارے گھروں میں جو قرآن موجود ہے وہ مکمل محفوظ ہے یا نہیں؟ اس میں کوئی کمی بیشی ہوئی ہے یا نہیں؟

اور پھر دوبارہ ان سے اہلِ تشیع عقیدہ پوچھا گیا تو انہوں نے اس طرح بیان کیا۔

شیعہ عقیدہ

موجودہ قرآن کی تدوین وکتابت چوں کہ نبی کریمﷺ کی موجودگی میں ہوئی، یہ حرف واحد میں نازل ہوا اور اس کی ایک ہی منزل من اللہ قرأت ہے لہٰذا یہ تحریف سے پاک ہے۔

ان سے سوال پوچھا گیا کہ موجودہ قرآن تدوین سے پہلے کا ہے یا بعد کا؟  تو جواب دینے کے بجائے اہلِ سنت عقیدہ پوچھا گیا جو فوراً ان کی خدمت میں پیش کردیا گیا۔ 

اہل سنت عقیدہ

قرآن کریم میں کوئی تحریف نہیں ہوئی۔ ایک ایک لفظ وہی ہے جو وحی الہٰی ہے۔ کوئی کمی بیشی رد و بدل نہیں ہوا۔ تحریف کا قائل کافر ہے۔

شیعہ کے تین سوال اور ان کے جوابات

1: آپ بتائیں موجودہ قرآن مجید پر آپ کا عقیدہ کیا ہے؟ آیا کہ یہ نبی کریمﷺ نے اپنی موجودگی میں لکھوایا یا ان کی غیر موجودگی میں کسی نے لکھا؟

جواب: قرآن کریم نبی کے دور میں کاغذ لکڑی پتھر چمڑے اور درختوں کے پتوں وغیرہ پر محفوظ کردیا گیا تھا۔ترتیب بھی نبی کریمﷺ نے بتادی تھی۔

2- نبی کریم پر قرآن حرف واحد میں نازل ہوا یا سبعہ احرف میں؟

جواب: قرآن کریم سبعہ احرف میں نازل ہوا تھا۔ حضرت عثمانؓ نے قریش کی قرأت پر امت کو جماع فرما دیا۔

3- قرآن مجید کی منزل من اللہ قرات وہی ہے جو نبی کی تھی یا کوئی اور بھی منزل من اللہ قرات ہے؟

جواب:  قرآن کریم آج من و عن وہی ہے جو نبی کریمﷺ پر نازل ہوا تھا۔

وہ سوال جس سے شیعہ عالم آخر تک بھاگتا رہا۔ 

¹ـ موجود قرآن کریم مکمل محفوظ تحریف سے پاک ہے یا نہیں۔؟

²ـ تحریف کا جو قائل ہوگا وہ کافر ہے یا نہیں؟

شیعہ کے مزید سوالات اور ان کے جوابات

سوال: موجودہ قرآن نبی کریم نے اپنی موجودگی میں لکھوایا تھا یا موجودہ قرآن نبی کریم نے اپنی موجودگی میں نہیں لکھوایا؟

جواب: نبی کریم نے لکھوایا تھا۔ ترتیب بھی نبی کریم نے بتائی ہے۔ اوپر پڑھتے کیوں نہیں ہیں۔دور نبوی میں کاتبین وحی نے لکھا تھا۔

سوال: آپ نے اعتراف کیا کہ موجودہ قرآن تو نبی کریمﷺ اپنی موجودگی میں لکھوا چکے تھے، تو پھر جناب عثمانؓ نے قریش کی قرأت پر جو قرآن لکھوایا وہ کونسا تھا؟

جواب: : یہ کس نے کہا کہ سات قرأت میں قریش کی قرأت شامل نہیں ہے۔ اپنی لفاظیاں کیوں کرتے ہیں۔نبی نے سات قرأت میں ہی لکھوایا تھا۔ اسی لئے تو بعد از نبیﷺ  قرأت پر اختلاف ہوا اور امت مسلمہ کو ایک قرأت پر جمع کیا گیا۔ اس کا تحریف سے تعلق ہی نہیں ہے۔
سوال: باقی چھ قرأتوں میں نبیﷺ نے قرآن نہیں لکھوایا تھا؟؟ آپ نے فرمایا نبیﷺ نے موجودہ قرآن سات قرأتوں میں لکھوایا ، جب کہ موجودہ قرآن تو سات قرأتوں میں لکھا ہوا نہیں ہے

جواب: بالکل سات قرأت میں قرآن لکھوایا تھا۔ سات قرأت تو شیعہ کتب سےبھی ثابت ہیں،  لیکن یہ موضوع گفتگو نہیں ہے۔ آپ کو شوق ہے تو ہم سات قرأت پر گفتگو کرسکتے ہیں۔ موجودہ قرآن قریش قرأت پر ہے جو نبی کریمﷺ کا لہجہ تھا۔

شیعہ عالم نے خاص طور سبعہ احرف پر گفتگو موڑنے کی کوشش کی۔ جبکہ یہ نکتہ اس وقت زیر بحث نہیں تھا۔

ان سے عقیدے کی وضاحت پوچھی جاتی رہی اور وہ اس سے آخر تک بھاگتے رہے۔

شیعہ کے تمام سوالات کے کافی شافی جوابات دیئے گئے لیکن سید علی حیدری نے بھی رانا محمد سعید کی طرح اپنے عقیدے کی وضاحت نہ دینے کی قسم کھا رکھی تھی۔ تنگ آ کر انہیں بھی رانا محمد سعید کی طرح خبردار کردیا گیا کہ جو سوال پوچھنے ہیں وہ لکھ دیں، لیکن اس کے بعد شیعہ عقیدے کی وضاحت ضرور دینی ہوگی۔

دوبارہ پندرہ منٹ کا وقت دیا گیا کہ اپنے عقیدے کی وضاحت کریں اور بنیادی سوالات کے جوابات دئے جائیں، انہوں نے اپنے تینوں سوالات اور جوابات کو مکس کر کے گفتگو الجھانے کی ناکام کوشش کی جسے فوراً سلجھا دیا گیا۔  آخری پانچ منٹ میں انہوں نے میرے جوابات سے غلط مفہوم نکال کر گمراہ کرنے کی مذموم کوشش بھی کی، جس کو فورأ کلیئر کردیا گیا۔

نتیجہشیعہ عالم نے اقرار کیا کہ اہل سنت کے ہاں شروع سے آج تک تحریف قرآن کا کوئی تصور نہیں ہے۔

دوران گفتگو شیعہ عالم نے تحریف قرآن کو ممکنات میں سے ہونا تسلیم کیا جو بذات خود خلاف قرآن تصور ہے اور اس مؤقف سے  ثابت ہوتا ہے کہ شیعہ تحریف قرآن کا عقیدہ رکھتے ہیں! معاذ اللہ ثم معاذ اللہ۔ اہلِ سنت کے نزدیک قرآن کریم میں رد و بدل ہونا ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ خود قرآن کریم نے بتا دیا کہ 

لَّا یَاۡتِیۡہِ الۡبَاطِلُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ لَا مِنۡ خَلۡفِہٖ ؕ تَنۡزِیۡلٌ مِّنۡ حَکِیۡمٍ حَمِیۡدٍ 

اس پر جھوٹ کا دخل نہ آگے سے ہوسکتا ہے نہ پیچھے سے۔ (اور) دانا (اور) خوبیوں والے (خدا) کی اُتاری ہوئی ہے۔(سورت فصلت 42)

یعنی اس کی اتاری ہوئی کتاب میں جھوٹ آئے تو کدھر سے آئے۔ اور جس کتاب کی حفاظت کا وہ ذمہ دار ہو، باطل کی کیا مجال ہے کہ اس کے پاس پھٹک سکے۔ بیشک قرآن کریم ہر طرح سے محفوظ ہے، آگے سے، کا مطلب ہے کمی اور پیچھے سے، کا مطلب ہے زیادتی یعنی باطل اس کے آگے سے آ کر اس میں کمی اور نہ اس کے پیچھے سے آ کر اضافہ کر سکتا ہے اور نہ کوئی تغیر و تحریف ہی کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ کیونکہ یہ اس کی طرف سے نازل کردہ ہے جو اپنے اقوال وافعال میں حکیم ہے اور حمید یعنی محمود ہے یا وہ جن باتوں کا حکم دیتا ہے اور جن سے منع فرماتا ہے عواقب اور غایات کے اعتبار سے سب محمود ہیں یعنی اچھے اور مفید ہیں۔

اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ (سورت الحجر 9)

بےشک یہ (کتاب) نصیحت ہمیں نے اُتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں۔

اور بیشک قرآن کریم کا محافظ اللہ عزوجل خود ہے کسی بنی بشر کو طاقت ہی نہیں ہے اس میں کسی بھی طرح کوئی تبدیلی کر سکے۔ 

سوچنے کی بات ہے کہ اہلِ تشیع اگر تحریف قرآن کا عقیدہ نہیں رکھتے تو مناظروں، مکالموں اور مباحثوں میں کھل کر اپنا مؤقف بیان کرنے سے گھبراتے کیوں ہیں؟ اور الٹا وہی الزام اہل سنت پر ثابت کرنے کیوں لگ جاتے ہیں جبکہ اہل سنت تو قائل تحریف قرآن کو کافر قرار دیتے ہیں! کیا کوئی خود پر ایسا فتویٰ لگا سکتا ہے؟ واضح رہے کہ اہلِ تشیع کے ہاں تحریف کے قائل کو کافر نہیں سمجھا جاتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ جیّد شیعہ علماء کی اکثریت قرآن کریم پر ایمان نہیں رکھتی اور اسے معاذاللہ تحریف شدہ تسلیم کرتی ہے۔ 

وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ (سورت یسین 17)

اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔