Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اپنے والد کے عہد میں

  علی محمد الصلابی

مختلف علاقوں اور قبائل سے آنے والے اوباش اور شریر باغیوں(جن کے کچھ دینی کارنامے نہ تھے) کے ہاتھوں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کی بیعت بہ طریقۂ انتخاب پوری ہوئی، بروز جمعہ 18 ذی الحجہ 35ھ (الطبقات الکبری لابن سعد: جلد 3 صفحہ 31) کو ظلماً سیدنا عثمان غنیؓ کو قتل کردیے جانے کے بعد مدینہ میں موجود تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے بیعت کرلی، اس لیے کہ علی الاطلاق اس وقت سیدنا علیؓ سے افضل کوئی نہیں تھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا علیؓ نے اپنے لیے خلافت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہی سیدنا علیؓ کو اس کا لالچ تھا، اسی لیے مدینہ میں موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اصرار کے بعد ہی اور اس اندیشے کے پیشِ نظر سیدنا علیؓ نے اسے قبول کرلیا تھا کہ کہیں فتنے اور نہ بڑھ جائیں، اس کے باوجود جنگ جمل و جنگ صفین جیسے فتنوں کے بعد (جنھیں حاقدین اسلام ابنِ سبا اور اس کے کارندوں نے برپا کیا تھا) بعض نادانوں کی تنقید سے نہ بچ سکے، بعض اہل علم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کرنے کی کیفیت کو روایت کیا ہے۔

(عقیدۃ اہل السنۃ فی الصحابۃ الکرام: جلد 2 صفحہ 677)

میں نے ان روایات کو بالتفصیل اپنی کتاب ’’اسمی المطالب فی سیرۃ أمیر المومنین علی بن أبي طالب‘‘ میں ذکر کیا ہے۔

اہل سنت و الجماعت کا اس پر اجماع ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد خلافت کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ متعین تھے، اس لیے مہاجرین و انصار نے سیدنا علیؓ کے لیے اسی بنا پر بیعت کرلی تھی کہ بقیہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سیدنا علیؓ سب سے افضل، سب سے پہلے اسلام لانے والے، سب سے زیادہ علم والے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبی طور پر سب سے زیادہ قریب، سب سے بہادر، اللہ و رسول کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب، سب سے زیادہ فضیلتوں والے، سب سے افضل کارناموں والے، سب سے بلند مقام ومرتبہ والے، صورت و سیرت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ تھے، اس لیے کسی دوسرے کے بجائے وہی خلافت کے لیے مستحق تھے۔

مدینہ میں موجود تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بالاجماع سیدنا علیؓ کی خلافت کے لیے بیعت کی تھی، اس لیے اس وقت سیدنا علیؓ خلیفہ برحق تھے، تمام لوگوں پر سیدنا علیؓ کی اطاعت واجب تھی، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت و بغاوت حرام تھی، بہت سارے اہل علم نے سیدنا علیؓ کی خلافت پر اجماع نقل کیا ہے، ان میں سے ابن سعدؒ (الطبقات الکبریٰ: جلد 3 صفحہ 31)،

ابن قدامہؒ (منہاج القاصدین فی فضل الخلفاء الراشدین: صفحہ 77، 78 نقلاً عن عقیدۃ أہل السنۃ فی الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 689)،

ابوالحسن اشعریؒ (الإبانۃ عن أصول الدیانۃ: صفحہ 78، مقالات الإسلامیین: جلد 1 صفحہ 346)،

ابونعیم اصفہانیؒ (کتاب الإمامۃ و الرد علی الرافضۃ: صفحہ 360، 361)،

ابو منصور بغدادیؒ (کتاب اصول الدین: صفحہ 286، 287)،

زہریؒ (الاعتقاد: صفحہ 193)،

عبدالملک جوینیؒ (کتاب الإرشاد إلی قواطع الأدلۃ فی اصول الاعتقاد: صفحہ 362، 363)،

ابوعبداللہ بن بطہؒ (لوامع الأنوار البہیۃللسفارینی: جلد 2 صفحہ 246، عقیدۃ أہل السنۃ: جلد 2 صفحہ 692)،

غزالیؒ (الاقتصاد فی الاعتقاد: صفحہ 154)،

ابوبکر بن العربیؒ (العواصم من القواصم: صفحہ 142)،

ابن تیمیہؒ (الوصیۃ الکبریٰ: صفحہ 23) اور ابن حجرؒ (فتح الباری: جلد 7 صفحہ 72)ہیں۔

اجماع سے متعلق مذکورہ اقوال سے یہ پتہ چلتا ہے کہ قتلِ عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد اپنے زمانے میں سیدنا علیؓ کے خلافت کا زیادہ حقدار ہونے اور اس کے صحیح ہونے پر اجماع منعقد ہے، اس لیے کہ روئے زمین پر خلافت کا سیدنا علیؓ سے زیادہ حقدار کوئی نہیں تھا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خلافت برمحل اور مناسب وقت پر ملی۔