Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا کوفہ چلے جانا

  علی محمد الصلابی

امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا مدینہ چھوڑ کر چلے جانے کی مدینہ کے بعض صحابہ کرامؓ تائید نہیں کرتے تھے، اس کا پتہ اس وقت چلا جب سیدنا علیؓ نے شام جانے کا ارادہ کیا تاکہ وہاں کے لوگوں سے ملیں اور دیکھیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کیا کرنے والے ہیں 

(الثقات لابن حبان: جلد 2 صفحہ 283، الأنصار فی العصر الراشدی: صفحہ 161) 

سیدنا علیؓ کی رائے تھی کہ اس مرحلے میں مدینہ میں وہ عناصر نہیں ہیں جو دوسرے شہروں میں ہیں چنانچہ سیدنا علیؓ نے فرمایا تھا کہ افراد و اموال عراق میں ہیں۔

(الثقات لابن حبان: جلد 2 صفحہ 283، الأنصار فی العصر الراشدی: صفحہ 161)

چنانچہ ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو جب اس کا علم ہوا تو خلیفہ سے کہا: اے امیر المؤمنین! کاش آپ یہیں رہتے اس لیے کہ یہ مضبوط قلعہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے ہجرت ہے، اسی میں آپؓ کی قبر، آپ کا منبر اور اسلام کا سرچشمہ ہے، اگر عرب سیدنا علیؓ کے لیے ٹھیک ٹھاک رہے تو آپ بھی ان کے ساتھ ایسا ہی سلوک کریں گے اور اگر کچھ لوگ سیدنا علیؓ کے خلاف ہوگئے تو ان پر ان کے دشمنوں کو مسلط کردینا، ان حالات میں اگر سیدنا علیؓ مدینہ سے چلنے پر مجبور ہوگئے تو آپ چلے جانے پر معذور ہوں گے۔ چنانچہ خلیفہ نے ابو ایوب رضی اللہ عنہ کا مشورہ مان لیا، اور مدینہ ہی میں رہنے کا پختہ ارادہ کرلیا اور دوسرے علاقوں کے لیے گورنروں کو بھیج دیا۔

(الثقات لابن حبان: جلد 2 صفحہ 283، الأنصار فی العصر الراشدی: صفحہ 161)

لیکن بہت سی سیاسی تبدیلیوں کے پیشِ نظر سیدنا علیؓ مدینہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے اور مدینہ سے نکل کر کوفہ جانے کا ارادہ کرلیا تاکہ اہلِ شام سے قریب رہیں۔

(استشہاد عثمان و وقعۃ الجمل: صفحہ 183)

جب سیدنا علیؓ نکلنے کی تیاری کر رہے تھے تو آپ کو عائشہ، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم کے بصرہ کی جانب خروج کی خبر ملی، چنانچہ آپ نے اہل مدینہ سے کوچ کرنے کا مطالبہ کیا، اور انھیں اپنی مدد کی دعوت دی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں کچھ بازاری قسم کے لوگوں کے باعث نیز ان کے ساتھ طریقۂ تعامل کے سبب کچھ اہل مدینہ کوچ کرنے سے کترا رہے تھے، بہت سارے اہل مدینہ کی رائے تھی کہ ابھی فتنہ باقی ہے اس لیے توقف ضروری ہے تاکہ معاملات مزید واضح ہو جائیں، وہ کہتے تھے اللہ کی قسم ہمیں یہ پتہ نہیں چلتا کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے، اس معاملے میں ہمیں اشتباہ ہے، ہم رکے رہیں گے یہاں تک کہ معاملہ صاف اور واضح ہو جائے۔

طبری نے روایت کیا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سات سو آدمیوں کی فوج لے کر شام کی جانب نکل کھڑے ہوئے سیدنا علیؓ کے ساتھ اہل بصرہ و کوفہ میں سے تیز طرار لوگ چھپے طور پر نکل پڑے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 481)

امیر المؤمنینؓ کی دعوت قبول کرنے سے بہت سارے اہل مدینہ کے کترانے کی بہت ساری دلیلیں ہیں ان میں سے خلیفہ کے وہ خطبے ہیں جن میں سیدنا علیؓ نے اس کترانے کی شکایت کی ہے۔

(الطبقات: جلد 2 صفحہ 237، الأنصار فی العصر الراشدی: صفحہ 163)