Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی اپنے والد کو نصیحت

  علی محمد الصلابی

امیر المؤمنینؓ مدینہ سے نکلے، مقام ’’ربذہ‘‘ (مدینہ سے دو سو چالیس کیلومیٹر پر واقع ہے۔)

پہنچ کر اپنے ساتھیوں سمیت پڑاؤ ڈالا، سیدنا علیؓ کے پاس بہت سارے مسلمان آئے جن کی تعداد دو سو تک تھی۔

(أنساب الأشراف: جلد 2 صفحہ 45، خلافۃ علی بن أبي طالب: صفحہ 143)

مقام ’’ربذہ‘‘ میں سیدنا علیؓ کے پاس ان کے بیٹے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ روتے ہوئے گئے، مسلمانوں کے اختلاف و انتشار کے باعث سیدنا حسنؓ پر حزن و ملال نمایاں تھا، انھوں نے اپنے والد سے کہا: میں نے آپ کو بعض کام کرنے کے لیے کہا تو آپ نے میری باتیں نہ مانیں، آپ کسی دن کسی بیابان میں اس حال میں قتل کردیے جائیں گے کہ آپ کا کوئی مددگار نہ ہوگا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ابھی تم بچے ہو، تم نے کن کاموں کو کرنے کے لیے کہا اور میں نے انکار کر دیا؟ کہا: جس دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا گیا میں نے آپ کو مدینہ سے چلے جانے کے لیے کہا تاکہ ان کے قتل کے وقت آپ مدینہ میں نہ رہیں، پھر ان کے قتل کے دن کہا کہ جب تک تمام علاقوں اور عربوں کے وفود اور ہر جگہ کی بیعت نہیں آجاتی آپ بیعت نہ لیں، پھر جس وقت یہ دونوں لڑ رہے تھے میں نے آپ سے کہا کہ آپ گھر میں بیٹھے رہیے یہاں تک کہ وہ صلح کرلیں، اگر فساد برپا ہوتا بھی تو دوسروں کے ہاتھوں، آپ نے ان تمام کاموں میں میری بات نہ مانی، تو سیدنا علیؓ نے فرمایا: اے میرے لختِ جگر، رہی تمھاری یہ بات کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے محاصرے کے وقت میں مدینہ سے نکل جاتا تو اللہ کی قسم انھی کی طرح ہمارا بھی محاصرہ کرلیا گیا تھا، تمھاری یہ بات کہ جب تک تمام علاقوں کی بیعت نہیں آجاتی آپ بیعت نہ لیں تو معاملہ دراصل مدینہ والوں کا معاملہ تھا، ہمیں یہ پسند نہیں تھا کہ معاملہ ہمارے ہاتھوں سے نکل جائے، رہی تمھاری طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما کے خروج کے وقت کی بات تو یہ چیز مسلمانوں کو کمزور کر رہی تھی، اللہ کی قسم جب سے میں خلیفہ بنایا گیا ہوں اسی وقت سے میں مجبور و کمزور ہوں کسی مناسب صورتِ حال تک رسائی نہیں ہو پا رہی ہے، رہی تمھاری بات کہ اپنے گھر میں بیٹھے رہیے، تو اپنی ضروری ذمہ داریوں کے باعث میں ایسا کیسے کرسکتا ہوں، یا تم مجھے کس حالت میں دیکھنا چاہتے ہو؟ کیا تم چاہتے ہو کہ میں اس بجو کے مانند ہوجاؤں جس کا گھیراؤ کرلیا گیا ہو اور ’’دَبَابِ دَبَابِ‘‘ (اس لفظ کو ایک بجو دوسرے بجو کو بلانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔) کہہ کر اسے بلایا جا رہا ہو، جب میں اپنی ذمہ داریوں کو نہیں نبھاؤں گا تو کون نبھائے گا، اس لیے اے میرے لخت جگر تم ان باتوں سے باز آجاؤ۔

اس واقعے سے اپنے بیٹے کے لیے امیر المؤمنینؓ کے حسنِ تربیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس طرح سیدنا علیؓ نے کوئی دباؤ ڈالے بغیر انھیں اپنی بات کہنے دی۔ پھر امیر المؤمنینؓ نے ہر اعتراض کا جواب دیا، اسی طرح اس سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے رجحان کا پتہ چلتا ہے کہ بہرقیمت امن و امان برقرار رکھنا اور قوت کے استعمال سے دور رہنا چاہیے۔

امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ حق پر رہ کر اس مشکل مرحلے میں پختہ عزم والے تھے، کوئی بھی سیدنا علیؓ کو اپنے پختہ عزم سے ہٹا نہ سکا، قاتلینِ عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کی تنفیذ میں توقف کرنے والے تھے، انتظار کر رہے تھے کہ معاملہ ٹھیک ہو جائے پھر قاتلینِ عثمان کے بارے میں سوچیں، چنانچہ جب زبیر و طلحہ رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھیوں نے ان پر قصاص قائم کرنے کا مطالبہ کیا تو سیدنا علیؓ نے معذرت کی کہ وہ لوگ کثیر تعداد میں ہیں، ان کی ایک معتد بہ طاقت ہے، آپ نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ صبر سے کام لیں حالات درست ہوجائیں گے جب امن وامان بحال ہوجائے گا تو حقوق واپس لیے جائیں گے، ایسا اس لیے کہا کہ حالات مصلحتوں کے حصول کے موافق نہیں تھے، امیر المؤمنینؓ نے دو برائیوں میں سے کمتر کو اختیار کرنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: قاتلینِ عثمان رضی اللہ عنہ سے ابھی چھیڑ چھاڑ نہ کرنے کی جو میں دعوت دے رہا ہوں وہ جنگ اور اختلاف وانتشار کی برائی سے بہتر ہے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 460)

امیر المؤمنین کی رائے تھی کہ مصلحت کا تقاضا ہے کہ قصاص کو مؤخر کردیا جائے چھوڑا نہ جائے، اس لیے آپ نے اسے مؤخر کردیا، قاتلینِ عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں سیدنا علیؓ انتظار کر رہے تھے کہ امن بحال ہوجائے، لوگ متحد ہوجائیں، آپؓ کے وارثین کی جانب سے قصاص کا مطالبہ کیا جائے، قصاص کے طلب کرنے والے اور قصاص جن سے مطلوب تھا دونوں فریق حاضر ہوں، دعویٰ اور جوابِ دعویٰ پیش ہو، دلیل پیش کی جائے اور عدالت میں فیصلہ کیا جائے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 156)

امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قصاص جب فتنہ اور اختلاف و انتشار کا باعث بنے تو امام کو اسے مؤخر کرنا جائز ہے۔

(أحکام القرآن لابن العربی: جلد 2 صفحہ 1718)

رہی امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی فوج میں قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کی موجودگی کی بات جو لوگوں میں پھیلائی گئی تو امام طحاویؒ اس کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں:

’’سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فوج میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے والے ایسے سرکش خوارج تھے جن کی تعیین مشکل تھی اور ایسے بھی تھے جن کا قبیلہ ان کی مدد کر رہا تھا، اور ایسے بھی تھے کہ جن کے کیے پر کوئی دلیل قائم نہ ہوسکی تھی، اور ایسے بھی تھے جو اپنے دلی نفاق کو ظاہر نہ کرسکے تھے۔‘‘ 

(شرح الطحاویۃ: صفحہ 546)

بہرحال ان کے سلسلے میں آپ محتاط اور ان کے فعل سے برأت کا اظہار کرنے والے تھے، ان سے مستغنیٰ ہونا بلکہ امکانی صورت میں ان سے قصاص لینا چاہتے تھے۔ اپنی کتاب ’’أسمی المطالب فی سیرۃ أمیر المؤمنین علی بن أبي طالب‘‘ میں میں نے اسے بالتفصیل ذکر کیا ہے۔