اہل کوفہ کو لشکر کشی پر آمادہ کرنے میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا مؤثر ہونا
علی محمد الصلابیامیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ بہ حیثیت خلیفہ اپنی تمام صلاحیتوں کو استعمال کرتے تھے، آپ میں پختہ عزم و حوصلہ تھا، کوئی آپ کو آپ کے عزم سے پھیر نہیں سکتا تھا، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مقام ’’ربذہ‘‘ سے اہل کوفہ کو کوچ کرنے کا پیغام بھیجا، اپنی مدد کے لیے انھیں بلایا، سیدنا علیؓ کے دونوں قاصد محمد بن ابوبکر صدیق اور محمد بن جعفر رضی اللہ عنھما تھے، لیکن یہ دونوں اپنی مہم میں کامیاب نہ ہوسکے اس لیے کہ والیٔ کوفہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے انھیں کوچ کرنے اور بحالتِ فتنہ جنگ کرنے سے روک دیا، اور فتنے سے الگ رہنے سے متعلق آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو حدیثیں سن رکھی تھیں انھیں سنا دیں۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 514، مصنف ابن أبي شیبۃ: صفحہ 15، 16۔ اس کی سند حسن ہے۔)
اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو بھیجا، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے لوگوں پر مؤثر ہونے کے باعث وہ بھی اپنی مہم میں ناکام رہے،
(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 486، خلافۃ علی بن أبي طالب: صفحہ 44 عبدالحمید)
پھر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بھیجا وہ جلد واپس نہ آئے تو عمار بن یاسر اور حسن بن علی رضی اللہ عنہم کو بھیجا، ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو معزول کرکے ان کے بدلے قرظہ بن کعب کو والی مقرر کیا۔
(فتح الباری: جلد 13 صفحہ 25، التاریخ الصغیر: جلد 1 صفحہ 109)
اہل کوفہ کو مقتنع کرنے میں قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ کا اہم کردار تھا، چنانچہ انھوں نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
’’میں تمھارا خیرخواہ اور تم پر مہربان ہوں، میں چاہتا ہوں کہ تم صحیح راستے پر آجاؤ، میں تم سے ایک سچی اور حقیقی بات کہہ رہا ہوں کہ ایک خلافت ضروری ہے جو لوگوں کو منظم رکھے، ظالم کو روکے، مظلوم کی عزت کرے، یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں اپنی ذمہ داریوں کو نبھا رہے ہیں، کوچ کی دعوت میں وہ عدل و انصاف سے کام لے رہے ہیں، وہ اصلاح کی دعوت دے رہے ہیں، اس لیے کوچ کرو، اس معاملے سے تم اچھی طرح آگاہ و واقف رہو۔‘‘
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 516)
اس سلسلے میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما بھی کافی مؤثر رہے، چنانچہ لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
’’لوگو! اپنے امیر کی پکار پر لبیک کہو، اپنے بھائیوں کی جانب چل پڑو، اس معاملے کے لیے کوچ کرنے والے ملیں گے، اللہ کی قسم! اگر کوچ کرنے والے صاحبِ عقل و دانش ہوں تو نتیجہ و انجام بہتر ہوگا، اس لیے آپ لوگ ہماری دعوت قبول کرلیں اور اپنی و ہماری مصیبت میں ہماری مدد کریں۔‘‘
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 516)
بہت سارے اہل کوفہ نے دعوت پر لبیک کہا، چھ سات ہزار کی تعداد میں سیدنا عمار و حسن رضی اللہ عنہما کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب چل پڑے، پھر بصرہ سے قبیلۂ عبدالقیس کے دو ہزار آدمی ان کے ساتھ مل گئے، اس کے بعد دوسرے قبائل کے لوگ سیدنا علیؓ کے پاس آتے رہے تا آنکہ جنگ کے وقت آپ کی فوج کی تعداد تقریباً بارہ ہزار تھی۔
(مصنف عبدالرزاق: جلد 5 صفحہ 456، 457)
’’ذی قار‘‘ میں جب اہل کوفہ امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملے تو سیدنا علیؓ نے ان سے کہا:
’’اے اہلِ کوفہ تم عجم اور ان کے بادشاہوں کی شان و شوکت کے مالک ہوگئے، تم نے ان کی فوجوں کو تتر بتر کردیا، تاآنکہ ان کا ورثہ تمھیں مل گیا، تم نے اپنی سلطنت کی اعانت کی، لوگ لوٹتے ہوئے مال غنیمت حاصل کیے، میں نے تمھیں دعوت دی ہے کہ تم ہمارے ساتھ اہل بصرہ کو لے کر آؤ، اگر مخالفین لوٹ گئے تو ہم یہی چاہتے ہیں، اگر نہیں لوٹتے ہیں تو ہم ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں گے اور ان سے الگ رہیں گے یہاں تک کہ وہ ہم پر ظلم کرنے لگیں، ہم ان شاء اللہ اصلاح کو فساد پر ترجیح دیں گے، اصل طاقت و قوت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 519)