Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

جنگ جمل میں مقتولین کی تعداد

  علی محمد الصلابی

اس تباہ کن لڑائی میں بہت سارے لوگ قتل ہوئے، ان کی تعداد بیان کرنے میں روایتیں مختلف ہیں، مسعودی نے ذکر کیا کہ اس اختلاف کا سبب راویوں کا میلان ہے۔

(مروج الذہب: جلد 3 صفحہ 367)

خلیفہ بن خیاط نے جنگ جمل کے مقتولین کے ناموں کی فہرست ذکر کی ہے تو وہ تقریباً سو تھے، اگر ہم مان لیں کہ ان کی تعداد سو کے بجائے دو سو تھی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ جمل کے مقتولین کی تعداد دو سو سے متجاوز نہیں ہے اور یہی تعداد ڈاکٹر خالد بن محمد الغیث کے نزدیک ان کے رسالہ ’’استشہاد عثمان و وقعۃ الجمل فی مرویات سیف بن عمر فی تاریخ الطبری دراسۃ نقدیۃ‘‘

(استشہاد عثمان و وقعۃ الجمل: صفحہ 215)

میں راجح قرار پائی ہے۔

ابومخنف کی اس روایت میں کہ مقتولین کی تعداد بیس ہزار تک پہنچتی ہے،

(تاریخ خلیفۃ: صفحہ 186، اس کی سند مرسل ہے۔)

مبالغہ ہے، یہ ذکر کرکے کہ یہ بیس ہزار صرف بصرہ کے تھے، اس جھوٹے کی سوچ تھی کہ اس نے اچھا کیا ہے حالاں کہ اس نے برا کیا ہے۔

(تاریخ خلیفۃ: صفحہ 186)

سیف بن عمر ذکر کرتا ہے کہ ان کی تعداد دس ہزار تھی آدھے اصحابؓ سیدنا علی رضی اللہ عنہ میں سے اور آدھے اصحابؓ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں سے تھے۔ ایک دوسری روایت میں کہتا ہے: اور کہا گیا ہے کہ ان کی تعداد پندرہ ہزار تھی، پانچ ہزار اہل کوفہ سے تھے، اور دس ہزار اہل بصرہ سے تھے، ان میں سے آدھے جنگ کے پہلے مرحلے میں قتل کیے گئے اور آدھے دوسرے مرحلے میں۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 542، 555)

دونوں روایتیں منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہیں اور ان میں مبالغہ بھی ہے۔ عمر بن شبہ ذکر کرتے ہیں کہ مقتولین کی تعداد چھ ہزار سے زیادہ تھی مگر یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔

(تاریخ خلیفۃ ابن خیاط: صفحہ 186، اس کی سند منقطع ہے۔)

یعقوبی نے ان سب کو پیچھے چھوڑ دیا اس لیے کہ اس نے مقتولین کی تعداد تیس ہزار سے زائد بتلائی ہے۔

(مصنف ابن أبي شیبۃ: جلد 7 صفحہ 546، فتح الباری: جلد 13 صفحہ 62)

ان اعداد میں بہت زیادہ مبالغہ ہے اور میں نے اپنی کتاب ’’أسمی المطالب فی سیرۃ أمیر المومنین علی بن أبي طالب‘‘ میں مبالغہ کے اسباب کو ذکر کیا ہے۔