معرکہ ختم ہونے پر امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ چند صحابہ کرامؓ کے ساتھ مقتولین کا معائنہ کرنے نکلے، محمد بن طلحہ سجاد کو دیکھ کر کہا: ’’إنا للّٰه و إنا إلیہ راجعون‘‘ اللہ کی قسم وہ نیک جوان تھا، پھر پریشان اور غمگین حالت میں بیٹھ گئے، مقتولین کے لیے دعائے رحمت و مغفرت کی، ان میں سے کئی لوگوں کی بھلائیوں اور نیکیوں کا تذکرہ کرکے ان کی تعریف کی۔
(مصنف ابن أبي شیبۃ: جلد 15 صفحہ 261، المستدرک: جلد 3 صفحہ 103، 104۔ اس کی سند حسن لغیرہ ہے، خلافۃ علی بن ابی طالب: صفحہ 169)