شیعہ اور سنی میں فرق - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

شیعہ اور سنی میں فرق

  پیشکش صدائے قلب

صفحہ 2 از 4
شیعوں کے نزدیک متعہ (چند دنوں کے لیے پیسوں کے عوض صحبت) جائز ہے اور یہ اس کی بہت فضیلت بیان کرتے ہیں۔ شیعہ عالم نعمت اللہ جبرائری اپنی کتاب میں لکھتا ہے: ”جس نے ایک دفعہ متعہ کیا اس کا درجہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے برابر۔ جس نے دو دفعہ متعہ کیا اس کا درجہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے برابر۔ جس نے تین دفعہ کیا اس کا درجہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے برابر۔ جس نے چار دفعہ متعہ کیا اس کا درجہ حضرت محمدﷺ کے برابر ہو جاتا ہے۔“
(انوار نعمانیه: صفحہ، 237)
عقیدہ:
روافض کا عقیدہ ہے کہ جب تک اولادِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مخالفوں پر لعنت نہ کرے اس کا نمازِ جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔
(ماخوذ از تمہید ابو شکور سالمی، نواں قول: صفحہ، 375 فرید بک سٹال، لاہور) 
عقیدہ:
شیعوں میں تقیہ یعنی جھوٹ ان کے دین کا حصہ ہے چنانچہ اہلِ تشیع کی انتہائی معتبر کتاب اصولِ کافی میں مستقل باب تقیہ کے لیے مخصوص ہے اور اس کو اصولِ دین میں شمار کیا ہے۔ اس میں لکھا ہے:
عن ابن ابی عمیر الاعجمی قال قال لی ابو عبداللہ علیہ السلام یا اباعمیر ان تسعة اعشار الدين فی التقية ولا دين لمن لا تقية له۔
ترجمہ: یعنی حضرت جعفر صادقؒ اپنے ایک شیعہ ابنِ ابی عمیر الاعجمی سے فرمایا کہ دین میں نوے فیصد تقیہ اور جھوٹ بولنا ضروری ہے اور فرمایا کہ جو تقیہ نہیں کرتا وہ بے دین ہے۔
(اصول کافی: صفحہ، 482)
عقیدہ: 
شیعوں کا ایک فرقہ اسماعیلی ہے جسے آغاخانی کہا جاتا ہے ان کا کہنا ہے کہ ہمارے مذہب میں پانچ وقت نماز نہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ روزہ اصل میں کان، آنکھ اور زبان کا ہوتا ہے، کھانے پینے سے روزہ نہیں جاتا بلکہ روزہ باقی رہتا ہے۔ ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ حج ادا کرنے کی بجائے ہمارے امام کا دیدار کافی ہے۔ حج ہمارے لیے فرض نہیں اس لیے کہ زمین پر خدا کا روپ صرف حاضر امام ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زکوٰۃ کی بجائے ہم اپنی آمدنی میں دو آنہ فی روپیہ کے حساب سے فرض سمجھ کر جماعت خانوں میں دیتے ہیں جس سے زکوٰۃ ہو جاتی ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ گناہوں کی معافی امام کی طاقت میں ہے۔ آغاخانیوں کا سلام یا علی مدد ہے اور اس کا جواب مولا علی مدد ہے۔
(ساٹھ زہریلے سانپ: صفحہ، 71، 72 تنظیم اہلِ سنت کراچی)
عقیدہ: 
شیعوں کے کئی گروہوں کا عقیدہ ہے کہ موجودہ قرآن مکمل نہیں ہے اس میں تحریفات ہیں، کئی آیات جو سیدنا علیؓ اور اہلِ بیتؓ کے متعلق نازل ہوئی تھیں وہ نکال دی گئی ہیں۔ ان کا نظریہ ہے کہ امام مہدی جب آئیں گے تو وہ صحیح مکمل قرآن پاک لائیں گے۔ قرآن پاک میں ازواجِ مطہراتؓ کے متعلق نازل ہوئی آیت کے متعلق شیعہ ذاکر فرمانِ سیدنا علیؓ لکھتا ہے: اگر اس آیت کو درمیان سے نکال لو اور ماقبل و مابعد کو ملا کر پڑھو تو کوئی خرابی نہیں ہوتی بلکہ اور ربط بڑھ جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت اس مقام کی نہیں بلکہ خواہ مخواہ کسی خاص غرض سے داخل کی گئی ہے۔“
(تفسیر قرآن: صفحہ، 674 مصباح القرآن ٹرسٹ، لاہور)
شیعہ ذاکر مقبول احمد دہلوی نے قرآن پاک کی تفسیر لکھی جس میں سورۃ یوسف کی اس آیت ثُمَّ يَاۡتِىۡ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِيۡهِ يُغَاثُ النَّاسُ وَفِيۡهِ يَعۡصِرُوۡنَ 
(سورة یوسف: آیت، 49)
ترجمہ: پھر اس کے بعد ایک سال ایسا آئے گا جس میں لوگوں پر خوب بارش ہو گی، اور وہ اس میں انگور کا شیرہ نچوڑیں گے۔   
آیت یعصرون کی تفسیر میں لکھتا ہے: معلوم ہوتا ہے کہ جب قرآن ظاہر اعراب لگائے گئے ہیں تو شراب خوار خلفاء کی خاطر یصرون کو یعصرون سے بدل کر معنی کو زیر و زبر کیا گیا ہے یا مجہول کو معروف سے بدل کر لوگوں کے لیے ان کے کرتوت کی معرفت آسان کر دی۔ ہم اپنے امام کے حکم سے مجبور ہیں کہ جو تغیر یہ لوگ کریں تم اس کو اس کے حال پر رہنے دو اور تغیر کرنے والے کا عذاب کم نہ کرو ہاں جہاں تک ممکن ہو لوگوں کو اصل حال سے مطلع کر دو۔ قرآن مجید کو اس کی اصلی حالت پر لانا جناب صاحب العصر امام مہدی) کا حق ہے۔ اور انہی کے وقت میں وہ حسبِ تنزیل خدا تعالیٰ پڑھا جائے گا۔“
(تفسیر قرآن: صفحہ، 384 مقبول پریس، دہلی)
قرآن پاک میں ہے:
فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ فَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً‌ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيۡمَا تَرٰضَيۡـتُمۡ بِهٖ مِنۡۢ بَعۡدِ الۡـفَرِيۡضَةِ‌ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا ۞
(سورة النساء: آیت، 24)
ترجمہ: چنانچہ جن عورتوں سے (نکاح کر کے) تم نے لطف اٹھایا ہو، ان کو ان کا وہ مہر ادا کرو جو مقرر کیا گیا ہو۔ البتہ مہر مقرر کرنے کے بعد بھی جس (کمی بیشی) پر تم آپس میں راضی ہو جاؤ، اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ یقین رکھو کہ اللہ ہر بات کا علم بھی رکھتا ہے، حکمت کا بھی مالک ہے۔
اس آیت کے تحت اکبر علی شاہ اپنی کتاب متعہ اور صلاح الدین عیبی کے صفحہ 60 پر لکھتا ہے۔ 
’’الی اجل مسمی‘‘ 
کے الفاظ متنِ قرآن میں تھے لیکن انہیں موجودہ ترتیب سے حذف کر دیا گیا۔ اگر اس آیت میں ”الی اجل مسمی“ کے الفاظ کو شامل کر کے پڑھا جائے چاہے ان کی حیثیت متنِ قرآن کی سمجھی جائے یا تشریحی حاشیہ کی بات بالکل صاف ہو جاتی ہے کہ یہ آیت نکاح دائمی پر منطبق نہیں ہو سکتی بلکہ صرف اور صرف نکاح متعہ کے لیے ہے۔ 
(اب مصنف نے قرآنی آیت میں الی اجل مسمی کے الفاظ کا اضافہ کر کے آیت یوں بنائی اور اس کا ترجمہ کیا۔) 
فما استمتعتم به منهن إلى أجل مسمى فأتوهن أجورهن فريضة ولا جناح عليكم فيها تراضيتم به من بعد الفريضة إن الله كان عليما حكیما
ترجمہ: پھر جس طرح تم نے ان عورتوں سے متعہ کیا ایک متعینہ مدت کے لیے سو ان کو ان کے مہر دو جو کچھ مقرر ہو چکے ہیں اور مقرر ہوئے بعد بھی جس پر تم رضامند ہو جاؤ اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ بے شک اللہ بڑا علیم و حکیم ہے۔
(متعہ اور صلاح الدین عیبی: صفحہ، 60 طبع کراچی)
صفحہ 2 از 4