شیعہ اور سنی میں فرق - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

شیعہ اور سنی میں فرق

  پیشکش صدائے قلب

صفحہ 3 از 4
دراصل یہ فرقہ ایک یہودی شخص عبداللہ بن سبا کا ایجاد کردہ ہے۔ عبداللہ بن سبا پہلے یہودی تھا بعد میں بظاہر مسلمان ہو گیا۔ اس نے دوسرے منافقین کے ساتھ مل کر نو مسلموں کو فریب دے کر اسلام کے مٹائے ہوۓ خاندانی امتیاز اور نسلی عصبیت کو تعلیمِ اسلامیہ اور مقاصدِ ایمانیہ کے مقابلے میں پھر زندہ کیا۔ عبداللہ بن سبا نے مدینہ، بصرہ، کوفہ، دمشق اور قاہرہ کے تمام مرکزی شہروں میں تھوڑے تھوڑے دنوں قیام کر کے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خلاف نہایت چالاکی، ہوشیاری اور شرارت سے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے حقدارِ خلافت ہونے کو نو مسلم لوگوں میں اشاعت دے کر بنی امیہ اور بنی ہاشم کی پرانی عداوت اور عصبیت کو جو مردہ ہو چکی تھی پھر زندہ کرنے کی کوشش کی۔ عبداللہ بن سبا نے سب سے پہلے مدینہ منورہ یعنی دارالخلافہ میں اپنے شر انگیز خیالات کی اشاعت کرنی چاہی مگر چونکہ یہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کثرت اور ان کا اثر غالب تھا، لہٰذا اس کو ناکامی ہوئی اور خود ہاشمیوں نے ہی اس کے خیالات کو سب سے زیادہ مردود قرار دیا۔ مدینہ سے مایوس ہو کر وہ بصرہ پہنچا۔ وہاں عراقی و ایرانی قبائل کے نو مسلموں میں اس نے کامیابی حاصل کی اور اپنی ہم خیال ایک جماعت بنا کر کوفہ پہنچا۔ اس فوجی چھاؤنی میں بھی ہر قسم کے لوگ موجود تھے یہاں بھی وہ اپنے حسبِ منشا ایک مفسد جماعت بنانے میں کامیاب ہوا، کوفہ سے دمشق پہنچا وہاں بھی اس نے تھوڑی سی شرارت پھیلائی، لیکن حاکمِ شام حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے بروقت مطلع ہو جانے سے زیادہ دنوں تک قیام نہ کر سکا۔ وہاں سے قاہرہ پہنچ کر اس نے سب سے زیادہ کامیابی حاصل کی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بصرہ و قاہرہ کے فسادی عناصر نے مل کر مدینہ منورہ کی طرف کوچ کیا اور حضرت عثمانؓ کی شہادت کا واقعہ ظہور میں آیا۔ اس فتنہ نے 30 ہجری سے 40 ہجری تک مسلمانوں کو خانہ جنگی میں مصروف رکھ کر اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے کام کو نقصان پہنچایا۔
عبداللہ بن سبا نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کی شان میں غلو کرنے کے ساتھ ان کو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اور خلافت کا پہلا حقدار کہنا شروع کیا۔ اس نے کہا کہ حضور اکرمﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنا ’’وصی“ مقرر فرمایا ہے۔ جب حضور اکرمﷺ خاتم الانبیاء ہیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ خاتم الوصياء ہوئے۔
امام ابنِ اثیرؒ لکھتے ہیں:
واسلم ايام عثمان ثم تنقل فی الحجاز ثم بالبصرة ثم بالكوفة ثم بالشام يريد اضلال الناس فلم يقدر منهم علی ذلك فاخرجه اهل الشام فاتی مصر فاقام فيهم وقال لهم العجب ممن يصدق ان عيسى يرجع و يكذب ان محمدا يرجع وقد قال الله عزوجل 
اِنَّ الَّذِىۡ فَرَضَ عَلَيۡكَ الۡقُرۡاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ‌ ۞ 
(سورۃ القصص: آیت، 85) 
محمد أحق بالرجعة من عيسى فوضع لهم الرجعة فقبلت منه ثم قال بعد ذلك إنه كان لكل نبی وصی وعلی وصی محمد فمن أظلم ممن لم يجز وصية رسول الله و وثب علی وصيه وان عثمان أخذها بغير حق فانهضوا فی هذا الأمر وابدؤا الطعن علی أمرائكم 
ترجمہ: بات یہ تھی کہ عبداللہ بن سبا اصل یہودی تھا اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں اسلام قبول کر کے حجاز آ گیا، پھر بصرہ، پھر کوفہ اور اس کے بعد شام گیا اور ہر مقام پر اس نے لوگوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکامی ہوئی اور شامیوں نے اسے شام سے باہر نکال دیا۔ وہاں سے یہ مصر پہنچا اور وہاں آ کر قیام پذیر ہوا۔ وہاں اس نے مصریوں کو کہا کہ بڑی تعجب کی بات ہے کہ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آئیں گے تو لوگ اس کی تصدیق کرتے ہیں اور اگر حضور اکرمﷺ کے وصال کے بعد واپسی کا کہا جائے تو اسے جھٹلاتے ہیں، اس طرح رجعت کا عقیدہ اس نے گھڑا۔ کچھ لوگوں نے اس کی یہ بات قبول کر لی۔ اس کے بعد دوسرے عقیدہ کو پھیلایا اور کہا کہ ہر پیغمبر کا کوئی نہ کوئی وصی ہوا ہے اور ہمارے پیغمبر حضرت محمدﷺ کے وصی حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں تو جو شخص حضورﷺ کی وصیت کو جاری نہیں کرتا، اس سے بڑھ کر اور ظالم کون ہو گا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ناحق خلافت پر قبضہ کر رکھا ہے۔ اس کی ان باتوں کو سن کر لوگ اس کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے حاکموں پر لعن طعن کا آغاز کر دیا۔
(الكامل فی التاريخ لابن الاثير، ثم دخلت سنة خمس وثلاثين، ذكر مسير من سار إلى حصر عثمان: جلد، 2 صفحہ، 526 دارالكتاب العربی، بیروت) 
البدایہ والنہایہ میں ہے:
و ذکر سیف بن عمر أن سبب تألب الأحزاب على عثمان أن رجلا يقال له عبدالله بن سبأ كان يهوديا فاظهر الاسلام وصار الى مصر، فاوحى الى طائفة من الناس كلاما اخترعه من عند نفسه، مضمونہ أنہ یقول للرجل: أليس قد ثبت أن عيسى بن مريم سيعود إلى هذه الدنيا؟ فيقول الرجل: نعم! فیقول لہ فرسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم أفضل منه فما تنكر أن يعود إلى هذه الدنيا، وهو أشرف من عيسى ابن مریم علیہ السلام؟ ثم يقول: وقد كان أوصى إلى علی بن أبی طالب، فمحمد خاتم الأنبياء، وعلى خاتم الأوصياء، ثم يقول: فهو أحق بالإمرة من عثمان، و عثمان معتد فی ولایتہ مالیس لہ فأنكروا علیہ و أظهروا الأمر بالمعروف والنهی عن المنكر فافتتن به بشر كثير من أهل مصر، وكتبوا إلى جماعات من عوام أهل الكوفة والبصرة، فتمالئوا على ذلك، وتكاتبوا فيه، وتواعدوا أن يجتمعوا فی الإنكار على عثمان، وأرسلوا إليه من يناظره ويذكر لہ ما ینقمون علیہ من تولیتہ أقرباءه و ذوی رحمہ وعزلہ كبار الصحابة فدخل هذا فی قلوب كثير من الناس
صفحہ 3 از 4