شیعہ اور سنی میں فرق - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

شیعہ اور سنی میں فرق

  پیشکش صدائے قلب

صفحہ 4 از 4
ترجمہ: سیف بن عمر نے کہا ہے کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خلاف لشکر کشی کا سبب یہ تھا کہ ایک شخص عبداللہ بن سبا نامی یہودی تھا۔ اس نے اسلام لانا ظاہر کیا اور مصر جا کر لوگوں کو ایک من گھڑت کہانی سنائی جس کا مضمون یہ تھا کہ ایک آدمی کو وہ کہتا ہے کہ کیا ایسا نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ زمین پر تشریف لائیں گے؟ وہ آدمی جواباً کہتا ہے یہ درست ہے پھر اس شخص کو وہ کہتا ہے کہ اگر یہی بات کوئی رسول اللہﷺ کے متعلق کہے (یعنی آپﷺ بھی دوبارہ تشریف لائیں گے) تو تم اس بات کا انکار کرتے ہو حالانکہ رسول اللہﷺ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے افضل ہیں (لہٰذا انہیں ضرور دوبارہ آنا ہے۔) پھر وہ کہتا ہے کہ حضور اکرمﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنا وصی مقرر فرمایا ہے۔ جب حضور اکرمﷺ خاتم الانبیاء ہیں تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ خاتم الاوصیاء ہوئے۔ پھر وہ کہتا ہے کہ اس وجہ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ امر خلافت کے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے زیادہ حقدار ہیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے امر خلافت میں زیادتی کی اور خود امیر بن بیٹھے۔ یہ سن کر لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر بہت سے اعتراضات کرنے شروع کر دیئے اور اپنے مذموم عزائم کو ’’امربالمعروف ونهى عن المنكر‘‘ کے رنگ میں پھیلانا شروع کیا۔ اس سے اہلِ مصر کی ایک کثیر تعداد فتنہ کی زد میں آ گئی۔ انہوں نے کوفہ اور بصرہ کے عوام کو رقعہ جات لکھے جس کے بعد کوفی اور بصری لوگ ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگے اور سیدنا عثمانؓ کی خلافت کے انکار پر سب متفق ہو گئے۔ انہوں نے کئی ایک آدمی سیدنا عثمانؓ کے ساتھ مناظرہ کے لیے بھیجے اور کچھ ایسے پیغامات بھیجے کہ ہم آپ کے اس رویہ پر احتجاج کرتے ہیں آپ نے اپنے عزیز و اقارب اور رشتہ داروں کو مختلف عہدے پر کیوں فائز کیا اور بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کوئی اہمیت نہ دی تو یہ باتیں بہت سے لوگوں کے دلوں میں گھر کر گئیں۔
(البداية والنہاية، ثم دخلت سنة أربع وثلاثين: جلد، 7 صفحہ، 167 دارالفکر، بیروت)
’’عن أنس بن مالك قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا تسبوا أصحابی فإنه يجیء فی آخر الزمان قوم يسبون أصحابی فان مرضوا فلا تعوده وان ماتوا فلا تشهدوهم ولا تناكحوهم ولا توارثوهم ولا تسلموا عليهم ولا تصلوا علیھم‘‘
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا: میرے اصحاب کرام رضی اللہ عنہم کو گالی نہ دو۔ آخری زمانہ میں ایک قوم آئے گی جو میرے اصحاب کرام رضی اللہ عنہم کو گالیاں دے گی، اگر ایسے لوگ بیمار ہو جائیں تو ان کی عیادت نہ کرو، اگر مر جائے تو جنازہ میں شرکت نہ کرو، ان سے نکاح نہ کرو، ان کو وارث نہ بناؤ، ان سے سلام نہ کرو، ان کی نمازِ جنازہ نہ پڑھو۔
(تاریخ بغداد: جلد، 8 صفحہ، 142 دارالکتب العلمیہ، بیروت)

صفحہ 4 از 4