سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب مقتولین کے درمیان گھوم رہے تھے، تو طلحہ رضی اللہ عنہ کو مقتول پایا، ان کے چہرے سے گرد و غبار صاف کرنے لگے
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 258)
اور فرمایا: اے ابو محمد میرے لیے یہ انتہائی درد ناک بات ہے کہ میں تمھیں اس وادی میں پڑا ہوا پاؤں، پھر فرمایا: میں اپنی ذرا ذرا سی باتوں کے بارے میں اللہ ہی سے فریاد کرتا ہوں، میں تمنا کرتا ہوں کہ کاش میں بیس سال پہلے دنیا سے رخصت ہوگیا ہوتا۔
( تاریخ الاسلام: عہد الخلفاء الراشدین: صفحہ 528)