Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

نظم فارسی

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

بداں فاقہ و ضعف سالار دیں

ستدیتشہ از دست انصار دیں

چوں برداشت فولاد خار اشگاف

درآمد بز نہارازاں کوہ قاف 

بنام خدائی جہاں آفریں 

بزدیتشہ را سید المرسلینﷺ

کہ یک گوشہ سنگ از ہم شکست

دراں وقت برقی ازاں سنگ جست 

کہ روشن شد آں دشت صحرا تمام

برآورد تکبیر خیر الانامﷺ

بضرب دوم ضلع دیگر شکست 

بداں گونہ برقی ازاں باز جست 

بفرمود تکبیر بار دوم

بزدپس برآں سنگ ضرب سوم

دریں بار ہم جست برتی چناں

نبی شد بہ تکبیر رطب اللسان 

شد ایں بارآں سنگ زیر و زبر

نماند احتیاجش بضرب دگر 

دراندم بدو گرفت سلمانؓ چنیں

کہ ای خاک راست سپہر بریں

چہ بدایں و اباشدچہ تعبیرآں 

بہ تکبیریں چوں برکشودی زباں

بپاسخ چنیں گفت خیر البشرﷺ

کہ چوں جست برقی نخست از حجر

نمودند ایوان کسریٰ بمن 

دوم قیصر روم سوم از یمن

سبب را چنیں گفت روح الامیں 

کہ بعد از من اعوان و انصار دیں

بریں مملکت ہا مسلط شوند

بہ آئین من اہل آں بہ گردند

بدیں مثردہ و شکر و لطف خدا

بہت بار تکبیر کردم ادا

شنید نداں مثردہ چومومناں

کشید تکبیر شادی کناں

ترجمہ: باوجود گرسنگی اور نحافت بدن کے آپﷺ نے جب خدا کا نام لے کر پتھر پر تیشہ کی ضرب ماری تو پہاڑ بھی لرز گئے، پہلی ضرب سے کچھ حصہ ٹوٹ پڑا اور ایسی روشنی نکلی کہ تمام بیابان بقعہ نور ہو گیا، تب حضورؓ نے تکبیر پڑھی۔ دوسری ضرب سے پتھر کا اور ٹکڑا اڑا اور ایسے ہی روشنی آئی اور پھر تکبیر فرمائی، تیسری دفعہ بھی یہی کیفیت ہوئی تو حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے حضورﷺ سے دریافت کیا کہ حضورﷺ یہ کیا ماجرہ تھا؟ اور حضورﷺ نے کیوں تکبیر فرمائی؟ حضورﷺ نے جواب دیا، جب پہلی ضرب سے پتھر سے شعلہ نور اٹھا تو ایوان کسریٰ مجھے دکھائے گئے۔ دوسری ضرب سے محلات روم، تیسری میں یمن نمودار ہوئے۔ اس کا سبب جبرائیل علیہ السلام نے یہ بتایا کہ میرے بعد میرے تابعداران جو اس دین کے ایوان و انصار ہوں گے ان ممالک کو فتح کریں گے اور میری طرح ان میں حکمرانی کریں گے۔ اس بشارت پر میں نے ہر دفعہ شکریہ کے طور پر تکبیر پڑھی پس مسلمانوں نے جب بشارت سنی، سب نے غلغلہ تکبیر بلند کیا۔

پس اب ہم شیعہ حضرات سے دریافت کرتے ہیں کہ حضورﷺ کی یہ پیشنگوئی کب، کس کے دور میں پوری ہوئی؟

یہ بات مسلم ہے کہ روم، یمن، مدائن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں فتح ہوئے قیصر و کسریٰ کے تخت آپ ہی نے الٹ دیے اور ایوانِ کسریٰ میں جہاں تخت نوشیرواں بچھا تھا مسلمانوں نے اذان دے کر نماز جمعہ ادا کی، پھر اگر معاذاللہ حسبِ عظام شیعہ حضرت عمرؓ کو منافق یا کافر کہتے تھے تو حضورﷺ نے ان کے فتوحات کی خوشی کیوں کی؟ ان کو دین حق کا ایوان و انصار کیوں فرمایا؟ اور ان کی فتوحات کو اپنی طرف منسوب کیوں کیا؟ اس سے روزِ روشن کی طرح واضح ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جناب رسول اللہﷺ اپنا جائز جانشین تصور فرماتے تھے۔ تب ہی تو ان کی فتح کو اپنی فتح فرمایا اور دین متین کے سچے مددگار انصار کا لقب عطا فرمایا کہ

بریں مملکت ہا مسلط شوند 

بہ آئین من اہل آں بگرند

یعنی دین حق کے پاسبان وہ اعوان میرے جانشین ان ممالک پر مسلط ہوں گے اور میری طرح حکمرانی کریں گے۔ ان کی فتح میری فتح ہوگی اور ان کی حکومت میری حکومت ہوگی۔

کیا شیعہ صاحبان میں کوئی صاحبِ بصیرت ہے جو اپنی کتابوں کی بین شہادت دیکھ کر خیال کرے کہ جن پاک ہستیوں کی تم شکایت کرتے ہو رسول اللہﷺ کے دین کی انہوں نے کیسے مدد کی اور کیسے کیسے ماذی جبروت سلاطین کو حلقہ بگوش اسلام بنایا اور دنیا کی آبادی میں ظلم و کفر کو مٹا کر انہوں نے نورِ اسلام پھیلایا۔

مولانا شبلی رحمۃاللہ نے الفاروق حصہ دوم میں یورپین مورخین کی رائے کے موافق فتوحات فاروقی کی وسعت اور اس کی حدود اربع کی یوں تشریح کی ہے کہ:

حضرت عمرؓ کے مقبوضہ ممالک کا کل رقبہ 2251030 میل مربع یعنی مکہ معظمہ سے شمال کی جانب 1036، مشرق کی جانب 1027، جنوب کی جانب 483 میل تھا۔ مغرب کی جانب چونکہ صرف جدہ تک حدِ حکومت تھی اس لیے وہ قابلِ ذکر نہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ دنیائے اسلام حضرت عمرؓ کی ذات اقدس پر جس قدر فخر کرے بجا ہے، آپ نے اپنے عہد خلافت میں ایسی مشکلات کو حل کیا جو انسانی طاقت سے بالاتر ہے۔ ایک ہزار چھتیس بلاد و امصار بڑے بڑے شہر جس میں کفار کی حکومت اور بتوں کی خدائی مانی جاتی تھی فتح کر کے ان کو دارالاسلام بنایا اور باشندگان کو کلمہ توحید پڑھایا۔

چار ہزار جامع مساجد تعمیر کیں، ہزاروں بت خانے گرائے اور آتش کدے سرد کیے۔ حق یہ ہے کہ آپؓ کی کوشش اور ہمت نے مشرق سے مغرب تک اور جنوب سے شمال تک آفتابِ عالم کی طرح نورِ ایمان پھیلایا اور صحرائے ضلالت میں مشعلِ ہدایت جلا کر تاریکی کفر کو مٹا دیا۔ آپ کی صولت فاروقی نے لشکر قیصر و کسریٰ کو ہزیمت دی اور عجم و عراق سے بے شمار مالِ غنیمت حاصل کیا۔

شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ:

کی ہے خلافت آپ نے کس دھوم دھام سے

ایران سے خراج لیا اور شام سے

شوکت بھی فخر کرتی ہے حضرتؓ کے نام سے

گر شبہ ہے تو پوچھ لو ہر خاص و عام سے

طہران اور عراق میں سکہ بٹھا دیا

گبروں کا نام ملک عجم سے مٹا دیا

حیات القلوب: جلد 2، صفحہ 248 میں ہے: 

ابن شہر آشوب وغیرہ روایت کردہ اندکے روزے آنحضرتﷺ نظر کرد بسوئے ذراعہائے سراقہ بن مالک کہ باریک و پرموبود پس فرمود چگونہ خواہد بود حال تو کہ دست رنجہائے بادشاہ عجم راد رست خود کردہ باشی پس چوں در زمان عمرؓ فتح مدائن کردند عمرؓ اوراطلبید و دوست رنجہائے بادشاہ عجم را در دست او کرد

ترجمہ: ابن شہر آشوب وغیرہ نے روایت کی کہ ایک روز آپﷺ نے سراقہ بن مالک کے بازوں کو دیکھا جو بہت پتلے اور بالوں سے بھرے ہوئے تھے اور فرمایا: سراقہ! تمہاری اس روز کیا حالت ہوگی؟ جب شاہِ عجم کے کنگن تمہارے ہاتھ میں ہوں گے؟ پھر جب حضرت عمرؓ کے زمانے میں مدائن فتح ہوا تو آپؓ نے سراقہ کو طلب کیا اور شاہ عجم کے کنگن اس کے ہاتھ میں پہنا دیے۔

اس روایت کو بغور دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ کو جن کو قیامت تک کے واقعات کا علم غیب 

(علم سے مراد علم اجمالی ہے نہ تفصیلی۔ چنانچہ مصنف آفتاب ہدایت مرحوم نے بھی دوسری جگہ صفحہ 170 پر اس کی تصریح فرما دی ہے کہ یہ مسئلہ بھی مُسلَّم ہے کہ علم مالکان مایکون خاصہ ذات باری تعالیٰ ہے۔ نیز جناب مولف نے صفحہ 194 پر تصریح فرمائی ہے کہ کسی مخلوق کے لیے علم ماکان وما یکون کا اعتقاد رکھنا اس کو شان الوہیت تک پہنچا دینا ہے۔

اس مسئلہ کی تحقیق کے لیے حضرات علماء محققین کی تصانیف کا مطالعہ ضروری ہے اور اکابر صوفیہ کے ارشادات سے بھی یہی مستفاد ہوتا ہے۔ چنانچہ کتب ربانی جامع کمالات صوری و معنوی عارف بااللہ حضرت شاہ غلام علی شاہ صاحب نقشبندی مجددی قدس سرہ خلیفہ اعظم حضرت مرزا مظہر جان جانان شہید کے ملفوظات میں ہے بعد ازاں در مجلس ذکر جامعیت آنحضرتﷺ اللہ الملک الاکبر آمد حضرت ایشاں فرمودند کہ جمیع کمالات ظاہری و باطنی بطریق اجمال جناب سید الانبیاءﷺ اللہ الملک الاعلیٰ راہ حاصل بود لیکن حصول ظہور تفصیل جمیع کمالات موقوف بزمانہ خاص دبہ شخص بود چنانچہ فرمودہ اند آنحضرتﷺ (اعطیت بماتیح کنوز الارض) و حال آنکہ در زمان آنحضرتﷺ فتح اکثر اقالیم نشدہ وبود در زمان خلفاء اکثر مقامات فتح شدند و اکثر بعد صحابہ رضی اللہ عنہم سلاطین نامدار فتح نمودہ اند چنانچہ محمود غزنوی ہندوستان فتح کرد ظہور ایں کمال موقوف پر ایشاں بود و جناب آنحضرتﷺ جمیع علوم توحید وجودی وچہ کلام وچہ علم مسائل فقہ مجملاً حاصل بود لیکن تفصیل علم توحید و جودی بر وجود محی الدین عربی رحمۃاللہ و ظہور علم کلام ابوالحسن اشعری و ابومنصور ماتریدی رحمۃاللہ علیہما و تفصیل علم جزئیات مسائل فقہ بر امام اعظم و امام شافعی و امام مالک و امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ علیہم موقوف بود حاصل آنکہ ہر کمالے کے بعد آپﷺ در امت از ہر کس کہ ظہور نمود کمال آنحضرتﷺ است و آنحضرتﷺ را قبل ازیں ظہور ہم حاصل بود غیر از فرق اجمال و تفصیل نیست (درالمعارف ملفوظات حضرت شاہ غلام علیؒ صفحہ 212) واضح ہو کہ اس تحریر سے ہمارا مقصود صرف حضرت محمدﷺ کے علم تفصیلی محیط کائنات کی نفی کرنا ہے۔ معاذ اللہ تنقیص شان مقصود نہیں۔ برادران اسلام کسی غلط فہمی میں نہ مبتلا ہو جائیں کیونکہ ہمارے اکابر حضرات نے اپنی تصانیف مبارکہ میں تصریح فرما دی ہے کہ حضورﷺ اہلِ عالم کے واسطے جملہ کمالات کے لیے واسطہ ہیں۔ یعنی جملہ کمالاتِ خلائق علمی ہوں، یہ عملی نبوت ہو یا رسالت و صدیقیت ہو یا شہادت و سخاوت ہو یا شجاعت و علم ہو یا مروت و قوت ہو یا وقار وغیرہ وغیرہ۔ 

سب کے ساتھ اولاً بالذات آپ کی ذات والا صفات جناب باری عز شانہ کی جانب سے متصف کی گئی اور آپ کے ذریعہ سے جملہ کائنات کو فیض پہنچا۔ جیسا کہ آفتاب سے نور قمر میں آیا اور قمر سے نور ہزاروں آئینوں میں۔ آپﷺ کو علوم اولین و آخرین عطا فرمائے گئے۔ کوئی بشر کوئی ملک اور کوئی مخلوق علم و کمالات میں آپﷺ کے مساوی نہیں چہ جائیکہ کہ افضل ہو۔ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر۔ تفصیل کے لیے یہ کتابیں مطالعہ فرمائیں۔ آب حیات، تحذیرالناس، قبلہ نما از حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، شہاب ثاقب۔ از مولانا المدنی رحمۃاللہ (احقر مظہر حسین ابن مولف) 

حق تعالیٰ نے بخشا ہوا تھا اپنے جلیل القدر صحابی حضرت عمرؓ کی فتوحات کو دیکھ دیکھ کر ایسی خوشی ہوتی تھی کہ مسلمانوں کو نئے نئے طریق سے بشارت سنا کر حضرت عمرؓ کی جلالت قدر اور عظمت پر متنبہ فرماتے تھے۔ بھلا اگر حضرت عمرؓ بقول شیعہ معاذاللہ حضرت رسول پاکﷺ کی نظر میں کافر و منافق ہوتے تو ان کا جہاد ناجائز ہوتا اور اس جہاد کا مالِ غنیمت، مالِ مغصوب اور حرام ہوتا تو کیا رسول اللہﷺ نے سراقہ کو مال حرام و (مغصوب) کے حاصل ہونے کی بشارت دی تھی؟ اس سے تو پرہیز کرنے کا حکم دینا چاہیے تھا۔ شیعو! غور کرو اور خوب غور کرو۔

6: یہ امر مسلم الطرفین ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی دختر نیک اختر حضرت حفصہؓ کو حضورﷺ کی زوجہ ہونے کا شرف حاصل تھا اور آپؓ رسول پاکﷺ کے خسر تھے۔ تو معاذاللہ آپ منافق و کافر ہوتے تو رسول اللہﷺ ان کے گھر سے شادی کرنے کے مجاز نہ ہوتے۔ جب آپﷺ کو صریح حکم تھا کہ

(لَا تَنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكٰتِ) مشرکہ عورتوں سے مت نکاح کرو۔ لامحالہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ صاحب فضیلت و شریعت تھے تب ہی تو حضورﷺ نے آپؓ سے رشتہ قرابت اختیار فرمایا۔ بھائیو! انسان کا سسر بمنزلہ والد واجب التعظیم ہوتا ہے۔ پھر جو لوگ حضرت عمرؓ کو برا بھلا کہتے ہیں وہ گویا رسول اللہﷺ کے باپ کو برا کہتے ہیں۔ پھر ایسے لوگوں کا قیامت میں کیا حال ہوگا؟ اور رسول اللہﷺ کے اصحاب آپ کے عزیز و اقارب کی گستاخی کر کے وہ اپنے آقائے نامدارﷺ کو کیا منہ دکھائیں گے؟

عبرت! عبرت! عبرت!

9: حیات القلوب: جلد 2، صفحہ 419 میں ہے:

بروایت دیگر مشک خاکے از برائے آنحضرتﷺ فرستاد حضرتﷺ فرمود کہ امت من بزوری مالک زمین او خواہد شد چنانچہ خاک از برائے من فرستاد

ترجمہ: دوسری روایت میں ہے کہ کسریٰ (شاہ ایران) نے رسول اللہﷺ کے پاس مشت خاک بھیجی۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ عنقریب میری امت اس زمین کی مالک ہوگی جیسا کہ خاک اس نے میرے لیے بھیجی۔

اب یہ مُسلَّم ہے کہ یہ پیشنگوئی بھی حضرت عمرؓ کے عہد فرخ میں پوری ہے چنانچہ ملک ایران کو آپؓ نے ہی فتح کیا۔ اگر معاذاللہ حضرت عمرؓ منافق و کافر تھے تو آپﷺ کا یہ فرمانا کہ میری امت سرزمینِ ایران کی مالک ہوگی، کیسے درست ہو سکتا ہے؟ کیا امت رسول میں کافر و منافق شمار ہو سکتے ہیں؟ اور نبیﷺ ان کی فتح کو اپنی امت کی فتح قرار دے سکتے ہیں؟

10: حضرت عمر رضی اللہ عنہ داماد علی رضی اللہ عنہ تھے۔ ایک روشن دلیل اس امر کی کہ حضرت عمرؓ سے حضرت علی المرتضیٰؓ کو کمال محبت و پیار تھا اور ان کے نزدیک ان کی شرافت اور نجابت مُسلَّم تھی، یہ ہے کہ جناب امیرؓ نے اپنی دختر بلند اختر حضرت ام کلثومؓ کا رشتہ حضرت عمرؓ کو دے کر نکاح کر دیا۔ اگر معاذاللہ وہ منافق تھے تو جناب امیرؓ نے سیدہ ام کلثومؓ کا کیوں ایک کافر منافق سے نکاح کر دیا؟

شیعہ اس امر سے تو انکار نہیں کر سکتے کہ حضرت ام کلثوم بنت علیؓ حضرت عمرؓ کی تزویج میں آئیں لیکن اس بارے میں ان کو سخت اضطراب لاحق ہوا اور طرح طرح کی تاویلات رکیکہ سے کام لینے لگے۔

ایک روایت یہ وضع کی گئی کہ حضرت ام کلثومؓ جبراً چھین لی گئی۔ جیسا کہ فروع کافی: جلد 2، صفحہ 141 باب تزویج ام کلثومؓ میں ہے۔

عن زرارة عن ابی عبدالله عليه السلام فی تزويج ام كلثوم فقال ان ذلك اول فرج غصبانه

ترجمہ: زرارہ نے روایت کی ہے کہ حضرت امام جعفر صادق سے دربارہ نکاح ام کلثومؓ دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا یہ پہلی شرمگاہ ہے جو ہم سے چھین لی گئی۔

دوسری روایت اسی کتاب کے صفحہ مذکورہ میں یوں ہے:

عن هشام بن سالم عن ابی عبدالله عليه السلام قال لما خطب اليه قال له امير المؤمنين انها صبية قال فلقی العباس فقال له مالی ابی باس قال فما ذاك قال خطبت الى بن اخيك فردنی اما والله لاعيدن زمزم ولا ادع لكم مكرم الا هدمتها ولا قيمن عليه شاهدين بانه سرق ولاقطعن يمينه فاتاه العباس فاخبره وساله ان يجعل الامر واليه فجعله اليه۔

ترجمہ: ہشام بن سالم نے امام صادق سے روایت کی ہے کہ جناب امیرؓ سے ام کلثومؓ کا ناطہ طلب کیا گیا تو آپؓ نے کہا کہ وہ چھوٹی لڑکی ہے فرمایا پھر وہ عباسؓ کو ملے اور کہا کیا مجھ میں کوئی نقص ہے؟ عباسؓ نے کہا کیا بات ہے؟ عمرؓ نے کہا میں نے ناطہ تمہارے بھتیجے علیؓ سے مانگا ہے اس نے انکار کر دیا میں زمزم کو لوٹوں گا اور تمہارے جملہ اعزازات کو مٹا دوں گا اور علیؓ پر دو گواہ سرقہ کرنے کے گزار کر اس کے ہاتھ کاٹ دوں گا۔ حضرت عباسؓ حضرت علیؓ کے پاس گئے اور کہا اس ناطے کا مجھے وکیل بنا دو۔ حضرت علیؓ نے ان کو اجازت دے دی اور نکاح ہو گیا۔

ان روایات میں اس امر کو تسلیم کیا گیا ہے کہ حضرت ام کلثومؓ کا نکاح حضرت عمرؓ سے ہوا لیکن پہلی روایت میں نہایت مکروہ لفظ (فرج) استعمال کر کے کہا گیا ہے کہ ام کلثوم ہم سے جبراً چھین لی گئی تھی۔

دوسری روایت میں بتایا گیا کہ حضرت علیؓ رشتہ دینے پر اس لیے مجبور ہو گئے کہ ان کو دھمکی دی گئی کہ تمہارے اعزاز چھین لیے جائیں گے بلکہ تمہیں سرقہ کا الزام لگا کر ہاتھ کاٹنے کی سزا دی جائے گی۔ سو اہلِ بصیرت سمجھ سکتے ہیں کہ یہ کبھی ہو سکتا ہے کہ شجاعت مآب فاتح خیبر حیدرؓ قرار سے ان کی صغیر السن لڑکی جبراً چھین لی جائے؟

یا ان کو ڈرا دھمکا کر رشتہ دینے پر مجبور کر لیا جائے۔ ایسا تو کوئی کم حیثیت کمین شخص جولاہا، بھنگی بھی نہیں کرے گا کہ جیتے جی ڈر کر اپنی کمسن لڑکی دوسروں کے حوالے کر دے یا بخوف سزا بدنی ایک غیر مستحق شخص کو بلا رضا مندی خود لڑکی دے دے۔ ایسے موقع پر انسان سزائے بدنی تو کیا جان دے دینا گوارا کر لیتا ہے لیکن یہ ذلت کبھی گوارا نہیں کرتا کہ کوئی غیر شخص اس کی دوشیزہ کمسن لڑکی جبراً چھین لے، ہر ایک دانشمند شخص کیا کر سکتا ہے کہ کوئی باغیرت بہادر شخص اس قسم کی ذلت کبھی قبول کر سکتا ہے؟ کلا و حاشا یہ تمام باتیں یار لوگوں کی من گھڑت ہیں جو اصلیت کو چھپانے کے لیے وضع کی گئیں ہیں۔ لیکن حق چھپانے سے چھپ نہیں سکتا۔

اسی باب تزویج اُم کلثومؓ میں ایک دوسری حدیث درج ہے:

كَتَبَ عَلِيٌّ بْنُ أَسْبَاطٍ إِلَى أَبِی جَعْفَرٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي أَمْرِ بَنَاتِهِ وَانَّهُ لا تَجِدُ أَحَدًا مِثْلَهُ فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَبُو جَعْفَرَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَهِمْتُ مَا ذَكَرْتَ مِنْ أَمْرِ بَنَاتِكَ وَإِنَّكَ لَا تَجِدُ أَحَدَ امَثَلَكَ وَلَا تَنْتَظِرُ فِی ذَالِكَ رَحِمَكَ اللَّه فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِذَا جَاء كُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ خُلُقَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَالهِ وسلم وَدينَهُ فَزَوِّجُوهُ إِلَّا تَفْعَلُوهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْأَرْضِ وَفَسَادٌ كبير 

(فروع کافی: جلد 2، صفحہ 141)

ترجمہ: علی بن اسباط نے امام محمد باقرؒ کو اپنی لڑکیوں کے بارے میں لکھا اور اس کو اپنے جیسا کوئی شخص نہ مل سکتا تھا آپ نے فرمایا میں نے تیرا مطلب سمجھا ہے کہ تجھے اپنے رتبہ کا داماد نہیں مل سکتا مگر تم اس بات کا انتظار مت کرو۔ رسول پاکﷺ نے فرمایا کہ جب تمہارے پاس ایسا شخص (ناطہ مانگنے) آ جائے جس کے اخلاق اور دینداری کا تمہیں اطمینان ہو تو اُسے ناطہ دے دو ورنہ زمین میں فتنہ و فساد کا اندیشہ ہوگا۔

اس حدیث کو تزویج اُم کلثومؓ میں درج کرنے سے مطلب صاف یہ ہے کہ حضرت علیؓ بھی چونکہ حضرت عمرؓ کے اخلاق اور دینداری کو پسند کرتے تھے اور ناطہ کے نہ دینے میں فتنہ و فساد کا اندیشہ تھا اس لیے اپنی خوشی سے اُنہوں نے نکاح کر دیا۔