Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے قاتل کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی رائے

  علی محمد الصلابی

جب حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو عمرو بن جرموز نے دھوکے سے قتل کردیا تو ان کا سر تن سے جدا کردیا اور اسے لے کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا، اس کو توقع تھی کہ یہ اس کا کارنامہ سمجھا جائے گا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے یہاں وہ مرتبہ پائے گا، لیکن جب اس شخص نے اجازت طلب کی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابن صفیہ (زبیر رضی اللہ عنہ ) کے قاتل کو جہنم کی خوش خبری سنادو، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

لکل نبی حواری و حواریّيْ الزبیر

(فضائل الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 920)

’’ہر نبی کے حواری (معاون و مددگار) ہوتے ہیں، میرے حواری زبیر ہیں۔‘‘

اور جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے زبیر رضی اللہ عنہ کی تلوار کو دیکھا تو فرمایا:

’’اس تلوار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ مبارک سے بہت ساری پریشانیوں کو دور کیا ہے۔‘‘

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 261)

دوسری روایت میں ہے کہ امیر المؤمنین نے عمرو بن جرموز کو اپنے پاس آنے کی اجازت نہیں دی اور اجازت طلب کرنے والے سے کہا: ابن صفیہ (زبیر رضی اللہ عنہ) کے قاتل کو جہنم کی خوش خبری سنا دو۔

(الطبقات: جلد 3 صفحہ 105، اس کی سند حسن ہے، خلافۃ علی: صفحہ 164 عبدالحمید)

کہا جاتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں عمرو بن جرموز نے خود کشی کرلی۔ دوسری روایت کے مطابق وہ عراق پر مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہما کے امیر بننے تک زندہ رہا، چنانچہ وہ آپؓ سے روپوش ہو گیا، مصعب رضی اللہ عنہ کو بتایا گیا کہ عمرو بن جرموز یہاں چھپا ہے، کیا وہ آپ کو مطلوب ہے؟ آپ نے فرمایا: اس سے کہو کہ وہ کھلم کھلا رہے وہ مامون ہے، اللہ کی قسم میں اس سے زبیر رضی اللہ عنہ کا بدلہ نہیں لوں گا وہ زبیر رضی اللہ عنہ کا ہمسر بنانے کے لائق نہیں۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 261)

امیر المؤمنینؓ نے جنگ جمل کی شام کو قیدیوں کو ایک خاص جگہ میں رکھا، فجر کی نماز پڑھ کر موسیٰ بن طلحہ بن عبید اللہ کو طلب کیا، ان کا استقبال کرتے ہوئے ان کو اپنے قریب کرکے اپنے پاس بٹھایا، ان سے ان کے اور بھائیوں کے حالات پوچھے، پھر ان سے کہا: آپ کی زمین کو قبضہ کرنے کے ارادے سے ہم نے اپنے قبضہ میں نہیں لیا ہے، بلکہ اس ڈر سے قبضہ میں لیا ہے کہ اسے دوسرے لوگ اچک نہ لیں، آپ نے اس کا غلہ دیا اور کہا: اے میرے برادر زاد ہم آپ کی ضرورت پوری کرنے کے لیے تیار ہیں، اسی طرح آپ نے ان کے بھائی عمران بن طلحہ کے ساتھ کیا، چنانچہ ان دونوں نے آپ کے لیے بیعت کرلی، جب قیدیوں نے یہ منظر دیکھا تو وہ بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیعت کرنے کے لیے گئے، چنانچہ آپ نے ان سے اور دوسروں سے ایک ایک قبیلہ کرکے بیعت لی۔

(الطبقات: جلد 3 صفحہ 224، اس کی سند حسن ہے، المستدرک: جلد 3 صفحہ 376، 377)

اسی طرح سیدنا علیؓ نے مروان بن حکمؒ کے بارے میں پوچھا اور فرمایا: میرا ان سے قریبی رشتہ ہے، ساتھ ہی وہ نوجوانانِ قریش کے سردار ہیں، مروان نے حسن، حسین اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس پیغام بھیجا تھا کہ ان کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بات چیت کریں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:وہ مامون ہیں، جہاں چاہیں رہیں، لیکن اس عزت افزائی اور شرافت کے بالمقابل ان کی طبیعت جاکر بیعت کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوئی۔

(سنن سعید بن منصور: جلد 2 صفحہ 337، اس کی سند حسن ہے۔)

مروان بن حکم نے امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے اس کارنامے کی تعریف کرتے ہوئے سیدنا علیؓ کے صاحبزادے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے کہا: غالب ہونے کی صورت میں میں نے آپ کے والد سے زیادہ شریف شخص کو نہیں دیکھا، جنگ جمل میں جیسے ہی ہم پیٹھ پھیر کر بھاگے آپ کی جانب سے اعلان کرنے والے نے اعلان کیا: بھاگنے والے کا پیچھا نہ کیا جائے گا، زخمی کو قتل نہیں کیا جائے گا۔

(کتاب أہل البغي من الحاوی الکبیر للماوردی: صفحہ 11)