شیعہ کی دوسری چال
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہنکاح اُم کلثومؓ کے متعلق جب شیعہ حضرات کو سخت گھبراہٹ پیدا ہوئی اور کچھ جواب نہیں بن سکا تو ایک دوسری چال یہ چلتے ہیں کہ ام کلثومؓ کا نکاح تو حضرت عمرؓ سے ہوا لیکن وہ اُم کلثومؓ حضرت علیؓ کی اپنی بیٹی نہ تھی بلکہ بنت اسما بنت عمیس اور حضرت علیؓ کی ربیبہ تھیں۔
(شیعہ یہاں پر ایک اور مضحکہ خیز خلاف عقل و قیاس تاویل یہ کرتے ہیں کہ منکوحہ عمرؓ ام کلثوم بنت علیؓ نہ تھیں بلکہ ان کی ہم شکل جنیہ مسماۃ سحیقہ نجران سے لائی گئی تھیں اور حضرت عمرؓ کے گھر بھیجی گئی تھیں جیسا کہ ایک متبحر شیعی عالم عارف سید محمد باقر موسوی نے بحر الجواہر میں یوں لکھا ہے:
بطریق صحیحہ روایت شده کہ چوں مبالغہ عباسؓ از حد گزشت۔ آنحضرت جنیہ از اہل نجران را طلبیدہ کہ نام اور سحیقہ بن جہیرہ بود پس چوں آں جنیہ بخدمت آنحضرت رسیدہ فرمود بشکل ام کلثومؓ در آمد و بعد ازاں اورابخانہ عمر فرستاد۔
شیعہ حضرات کی یہ گھڑت نہایت ہی عجیب ہے کہ ایک مدت مدید تک جناب امیرؓ نے اپنی صاجزادی ام کلثومؓ کو چھپائے رکھا اور جنیہ ان کے گھر رہیں پھر زید بن عمرؓ جنیہ کے بطن سے کیوں کر پیدا ہوئے؟ کیونکہ وہ ناری اور عمرؓ خاکی تھے اور اختلاف جنس مانع حمل ہے چنانچہ کتاب مذکور میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ ان کی مقاربت پر قادر نہ ہو سکے اور اس بات کو بنی ہاشم کے سحر پر محمول کیا۔
شیعہ سوچو اور عقل سے کام لو)
سو احادیث بالا میں اس امر کی خاص تصریح ہے کہ وہ حضرت علیؓ کی اپنی دختر تھیں اسی لیے (اول فرج غصِبْنَاهُ) کہا گیا ورنہ اسماء کی لڑکی اگر چھین لی جاتی تو جناب امیرؓ اور اُن کے اہلبیت کو اس کی کیا شکایت تھی اور حضرت عمرؓ کو حضرت علیؓ سے خواستگاری نکاح اور طرح طرح کی ترغیب ترہیب کی کیا ضرورت تھی؟ جب لڑکی نابالغہ تھی تو لڑکی کے ورثاء کی اجازت سے نکاح ہو سکتا تھا اور اس میں کسی قسم کی کوئی وقت نہ تھی۔
اس میں مطلق شک و شبہ نہیں ہے کہ حضرت ام کلثومؓ حضرت فاطمۃ الزہراؓ کے بطن سے حضرت علیؓ کی دختر تھیں اور نکاح حضرت علی المرتضیٰؓ نے بخوشی خود کر دیا۔ اس کے متعلق ہم شیعہ کی کتاب حدیث تہذیب الاحکام: صفحہ 380 سے دوسری حدیث تحریر کرتے ہیں:
عَنْ جَعْفَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَاتَتْ ام كُلْثُومٍ بِنتُ عَلِی وَبْنُهَا زَيْدٌ بن عُمر بن خطاب فِی سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ
ترجمہ: جعفر صادقؒ اپنے والد ماجد سے روایت کرتے ہیں کہ اُم کلثوم بنت علیؓ اور اس کا بیٹا زید بن عمرؓ خطاب ایک ہی وقت میں فوت ہوئے۔
اس حدیث میں صاف بیان ہے کہ حضرت اُم کلثومؓ جو حضرت کی زوجہ محترمہ تھیں، علی المرتضیٰؓ کی دختر تھیں اور ان کے شکم سے زید بن عمرؓ بن خطاب پیدا ہوئے اور ماں بیٹا دونوں ایک روز ایک ہی وقت فوت ہوئے تھے۔ اب جو لوگ کہتے ہیں کہ ام کلثومؓ کا نکاح عمرؓ بن خطاب سے ہوا تھا وہ حضرت علیؓ کی نہ تھیں اس حدیث سے ان کی تکذیب ہوتی ہے۔
دوسری حدیث: اس کی تائید میں ایک دوسری حدیث جو فروع کافی: جلد 2، صفحہ 310، 311 میں ہے پیش کی جاتی ہے:
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ سَئَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَنْ امْرَةً تُوَفَّى عَنْهَا زَوْجِهَا أَيْن تَعْتَدُّ فِي بَيْتِ زَوجِهَا أَوْحَيْتُ شَاءَتْ قَالَ بَلْ حَيْثُ شَاءَتْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ عَلِيًّا صَلَواتُ اللَّهِ عَلَيْهِ لَمَّامَاتَ عُمَرُ أَتَى ام كُلْثُومٍ فَأَخَذَ بِيَدِهَا فَانْطَلَقَ بِهَا إِلَى بَيْتِهِ
(یہی حدیث تہذیب احکام مصنفہ ابو جعفر محمد بن حسن طوسی (متوفی 460ھ) مطبوعہ ایران کتاب اطلاق باب عدة النساء کے صفحہ 238 میں بھی درج ہے۔)
ترجمہ: سلیمان بن خالد سے روایت ہے کہ میں نے حضرت صادقؒ سے پوچھا کہ جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے تو وہ عدت کہاں گزارے خاوند کے گھر میں یا جہاں اس کا جی چاہے؟ پھر کہا جب حضرت عمرؓ فوت ہو گئے تو حضرت علیؓ ام کلثومؓ کے پاس آئے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے۔
اس حدیث سے اس امر کا فیصلہ ہو گیا کہ ام کلثومؓ زوجہ حضرت عمرؓ حضرت علیؓ کی بیٹی تھیں۔ کیونکہ جب حضرت عمرؓ فوت ہو گئے۔ آپؓ جا کر ام کلثومؓ کو اپنے گھر لے آئے۔ اگر ام کلثومؓ آپؓ کی بیٹی نہ ہوتیں یا آپؓ کی رضامندی کے بغیر نکاح حضرت عمرؓ سے ہوتا تو باہمی تعلقات بالکل منقطع ہو گئے ہوتے۔ پھر ان کو کیا پڑی تھی کہ وفات شوہر پر ان کو اپنے گھر لے آئیں؟
علاوہ ازیں ایک برہان قاطع اس امر کی کہ ام کلثومؓ منکوحہ حضرت عمرؓ جناب امیرؓ کی اپنی دختر حضرت فاطمہؓ کے شکم سے تھیں۔ یہ ہے اصول کافی: صفحہ 173، متبوعہ نولکثور میں ایک آسمانی وصیت کا ذکر ہے۔ جس میں جناب امیرؓ کو جن مکارہ پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ منجملہ ان کے ہتک حرمت بھی ہے۔ جو غصب ام کلثوم بنت فاطمہؓ کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ ملا خلیل قزوینی نے صاف شرح اصول کافی: جز 3، صفحہ 282 میں یوں لکھا ہے:
گفت امیرالمومنین پس بغایت مضطرب شدم وقتیکہ فکر کردم و فہمیدم آن سخن را از امین الہٰی جبرائیل علیہ السلام کہ مراد شکستن عہد نیست بلکہ مراد غصب دختر من است بزور خواہند گرفت اشارتست بغصب عمرؓ ام کلثوم بنت فاطمہ زهرا علیہماالسلام را تانکہ افتادم بروئے خود ۔۔۔۔۔ الخ
اس عبارت سے ظاہر ہے کہ جناب امیرؓ کو سنن کے معطل ہو جانے، قرآن کے پارہ پارہ ہو جانے، کعبہ کے گرا دینے، آپ کی رِیش کو خون آلود کر دینے سے اس قدر صدمہ نہ ہوا۔ جیسا کہ غصب ام کلثومؓ کی خبر سن کر ہوا جس کی وجہ سے آپؓ منہ کے بل گر پڑے پھر اگر آپؓ کی حقیقی دختر نہ تھیں بلکہ اسماء بنت عمیس کی لڑکی تھیں تو آپؓ کو اس سے غشی آ جانے اور منہ کے بل گر پڑنے کی کیا وجہ تھی؟ (ھل من مذکر)
جب تحقیق بالا سے صاف ہو گیا کہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما کا نکاح حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی رضامندی سے ہوا تھا اور بنت علیؓ اپنے شوہر حضرت عمرؓ کے گھر ان کی زندگی بھر آباد رہی تھیں۔ ایک بیٹا زید بھی وہاں پیدا ہوا تھا تو محبان علی رضی اللہ عنہ اگر واقعی امیرؓ کے محب صادق ہیں تو پھر داماد علیؓ کو گالیاں دینا ان کو مناسب نہیں۔ کیا شیعہ اس بات پر غور کریں گے؟ ویسے تو شیعہ صاحبان کہا کرتے ہیں:
علیؓ کو میں محمدﷺ سے تو بہتر کہہ نہیں سکتا
مگر اپنے سے بہتر ڈھونڈ کر داماد کرتے ہیں
لیکن یہاں اس مقولہ کو بھول کر داماد علیؓ کو بجائے بہتر سمجھنے کے بدتر سمجھتے ہیں۔ یا للعجب