سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو عزت و احترام کے ساتھ رخصت کرنا
علی محمد الصلابیامیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ نے سواری، زاد سفر اور دیگر اسباب مہیا کرکے بڑے احترام سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو رخصت کیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آنے والوں میں جو بچے تھے ان سب کو آپ کے ساتھ بھیجا سوائے ان کے جو رکنا چاہتے تھے، بصرہ کی معزز چالیس خواتین کو ان کی ہمراہی کے لیے منتخب کیا اور کہا: اے محمد ابن حنفیہ تیار ہو جاؤ اور انھیں پہنچانے جاؤ، چنانچہ جس روز انھوں نے سفر کیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ کے پاس پہنچے اور کھڑے رہے اور لوگ بھی آئے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو لوگوں نے رخصت کیا، آپ نے بھی انھیں رخصت کیا اور فرمایا: اے میرے بچو! ہم میں کوئی ایک دوسرے کا گلہ اور شکایت نہ کرے، اس سلسلے کی کسی بات کے باعث ایک دوسرے پر زیادتی نہ کرے، اللہ کی قسم ہمارے اور علی کے مابین پچھلے دنوں اگر کچھ غلط فہمی یا شکوہ شکایت رہی تو صرف اسی قدر جتنا ایک خاتون اور اس کے دیوروں کے مابین کبھی کبھی ہو جایا کرتی ہے اور وہ میری عزیزانہ شکایت یا تاثر کے باوجود صلحائے امت میں سے ہیں، اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! واللہ ام المؤمنین نے سچ فرمایا، ہمارے اور ان کے درمیان صرف اسی قدر بات تھی، وہ تمھارے نبی کی دنیا و آخرت میں زوجہ ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کو رخصت کرتے ہوئے ان کے ساتھ میلوں گئے، اپنے بچوں کو چھوڑ کر اس دن کا پورا وقت ان کی خدمت میں گزارا۔ یہ واقعہ روز شنبہ یکم رجب 36ھ کا ہے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 581)