Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

جو کچھ ہوا اس پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ندامت

  علی محمد الصلابی

ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:عام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنھیں اسلام کی سبقت حاصل تھی جنگ میں شرکت پر نادم ہوئے، چنانچہ طلحہ و زبیر اور علی رضی اللہ عنہم وغیرہ نادم ہوئے۔ جنگ جمل کے دن ان کا لڑائی کا ارادہ نہیں تھا، لیکن ان کی چاہت کے بغیر لڑائی چھڑ گئی۔

(المنتقی من منہاج الاعتدال: صفحہ 222)

ا۔ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ جب انھوں نے لوگوں کو تلواروں سے قتل ہوتے ہوئے دیکھا تو کہا:

لَوَدِدْتُّ أَنِّيْ مِتُّ قَبْلَ ہٰذَا بِعَشْرِیْنَ سَنَۃً۔

(الفتن: نعیم بن حماد: جلد 1 صفحہ 80)

’’میری خواہش ہے کہ اس حادثے سے بیس سال پہلے وفات پاجاتا۔‘‘

ب: نعیم بن حماد نے اپنی سند سے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی روایت نقل کی ہے کہ انھوں نے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ جب لڑائی شباب پر تھی تو میری آڑ میں ہو کر کہہ رہے تھے:

’’اے حسن میری خواہش ہے کہ میں اس حادثے سے بیس سال قبل وفات پاجاتا۔‘‘

(الفتن: جلد 1 صفحہ 80)

ت: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں: امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ نے ایک معاملے کو حل کرنا چاہا، تو معاملات پے درپے پیش آتے رہے، چنانچہ سیدنا علیؓ کو چھٹکارا نہ ملا۔

(الفتن: جلد 1 صفحہ 81)

ث: سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو جب کہ تلواریں چل رہی تھیں کہتے سنا کہ اے حسن! کیا یہ سب باتیں ہم میں پائی جا رہی ہیں، کاش میں بیس یا چالیس سال قبل وفات پاجاتا۔

(أحداث و أحادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 217)

ج: ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا قول ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نہ جنگ میں حصہ لیا، اور نہ ہی جنگ کے لیے نکلی تھیں، وہ صرف مسلمانوں کے مابین مصالحت کی غرض سے نکلی تھیں، ان کا خیال تھا کہ ان کے نکلنے میں مسلمانوں کی مصلحت ہے، بعد میں انھیں معلوم ہوا کہ نہ نکلنا بہتر تھا، جب انھیں اپنا نکلنا یاد آتا تو رونے لگتیں تاآنکہ آپ کا دوپٹہ بھیگ جاتا۔ اس طرح عام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنھیں اسلام کی سبقت حاصل تھی جنگ میں شرکت پر نادم ہوئے، چنانچہ طلحہ، زبیر اور علی رضی اللہ عنہم وغیرہ نادم ہوئے۔ جنگ جمل کے دن ان کا لڑائی کا ارادہ نہیں تھا، لیکن ان کی چاہت کے بغیر لڑائی چھڑ گئی۔

(المنتقی من منہاج الاعتدال: صفحہ 222، 223)

ح: امام ذہبیؒ کہتے ہیں: بلاشبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بصرہ جانے اور جنگ جمل میں شریک ہونے پر سخت نادم تھیں، انھوں نے سوچا بھی نہ تھا کہ معاملہ یہاں تک پہنچ جائے گا۔

(سیر أعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 177)

جنگ جمل (جس میں حسن رضی اللہ عنہ شریک تھے) کی تفصیلات کے لیے میری کتاب ’’أسمی المطالب فی سیرۃ أمیر المومنین علی بن أبي طالب‘‘ کا مراجعہ کیا جائے۔

خ: جنگ جمل کے دردناک واقعات کے تذکرہ کو ختم کرنے سے پہلے اس سے حاصل شدہ اہم سبق کو ہم ذکر کر رہے ہیں وہ یہ کہ اتحاد کی کسی مخلصانہ کوشش یا ایسی کوشش جس سے دشمنوں کی مصلحتیں مار کھاتی ہوں، ایسی کوشش کو ناکام بنانے میں ان کی سازشوں اور مکر و فریب پر نگاہ رکھنی ضروری ہے، ایسی حالت میں جب ہم عام آراء پر متفق ہو جائیں تو ان کے لیے منصوبے تیار کریں، ان کے نفاذ کی اور انھیں ناکام بنانے میں دشمنوں کو روکنے کی لازمی تدبیروں کو اختیار کریں اور اگر ہم دشمنوں کے خطرات اور اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی ان کی کوششوں سے غافل ہو جائیں گے تو مسلمانوں میں اتحاد نہیں ہوسکتا، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اس اہم سبق سے فائدہ اٹھایا اور اپنے مصالحانہ منصوبے میں اس کی تطبیق کی ہے جیسا کہ اس کی تفصیل آرہی ہے۔