Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کفار مشرکین کی اجازت طواف

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

 اگر میل داری طواف حرم

بکن مانعت نیست کس زیں حشم

ولیکن محالست ایں بے گزاف 

کہ آمد محمدﷺ برائےطواف 

چوبشنید عثمانؓ زو ایں سخن 

چنیں داد پاسخ باں اہرمن

کہ طوفِ حرم بے رسول خدا 

نباشد بر پیر دانش روا

ترجمہ: اگر تجھے طواف کعبہ کا شوق ہو تو کیجیے۔ کوئی مانع نہ ہوگا لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ محمدﷺ آ کر طواف کریں۔ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر کہا کہ طوافِ کعبہ رسولِ اللہﷺ کے سوائے ان کے جاں نثار کبھی نہیں کر سکتے۔

اگر شیعہ انصاف سے دیکھیں تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے کمالِ ایمان عشقِ رسول خلوصِ نیت اور رسول اللہﷺ کا ان پر کامل اعتماد بلا کسی مزید دلیل کے اس روایت سے ظاہر و ہویدا ہے اور یہ تو سیدنا عثمانِ غنیؓ کے لیے ایک بڑا بھاری اعزاز ہے۔ کہ حضور اکرمﷺ اپنے دستِ مبارک کو دستِ عثمانؓ قرار دیں یہ ایسی خصوصیت اور فضیلتِ ممیزہ ہے کہ کسی دوسرے جلیل القدر صحابی کو نصیب نہیں ہوئی

تیسری شہادت:

شیعہ کی مستند کتاب "نہج الباغت" مطبوعہ مصر: جلد اول، صفحہ 233 میں ہے:

إِنَّ النَّاسَ وَرَائی وَقَدِ اسْتَفْسُرُونِی بَيْنَكَ وَبَيْنَهُمْ وَ وَاللَّهِ مَا اَدْرِی مَا أَقُولُ لَكَ مَا أَعْرِفُ شَيْئًا تَجْهَلُهُ وَلَا ادُلُّكَ عَلَى شَئی لَّا تَعْرِفُهُ إِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نَعْلَمُ مَا سَبَقْنَاكَ إِلَى شَئی فَنُخْبِرُكَ عَنْهُ وَلَا خَلَوْنَا بِشَئی فَتُبَلِّغَهُ رَأَيْتُكُمَا رَاینَا وَسَمِعْتَ كَمَا سَمِعْنَا وَصَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ كَمَا صَحَبْنَاهُ وَمَا ابْنُ أَبِی قُحَافَةَ وَلَا عُمُرَ بْن الخَطَّابَ أَوْلىٰ بِعَمَل الْحَقِّ مِنكَ وَأَنْتَ اقْرَبْ إِلَى رَسُولِ اللهِ وَشَيْجَةً رَحْمٍ مِنْهُمَا وَقَدْنِلْتَ مِنْ صِهْرهِ مَا لَمْ يَنَالَا۔

ترجمہ: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمانِ غنیؓ کو جب کہ آپ کو لوگ سفارش کے لیے ان کے پاس لے گئے فرمایا: یہ لوگ میرے پیچھے ہیں جو مجھے تمہارے اور اپنے مابین سفیر بنا کر لائے ہیں بخدا میں نہیں جانتا کہ آپ کو کیا کہوں میں ایسی بات کوئی نہیں جانتا جسے آپ نہ جانتے ہوں اور نہ ہی آپ کو کوئی ایسی بتاتا ہوں جس کو آپ نہ پہچانتے ہوں۔ بے شک جو کچھ میں جانتا ہوں وہ آپ بھی جانتے ہیں، جیسا ہم نے دیکھا ہے آپ نے بھی دیکھا ہے اور جو کچھ ہم نے سنا آپ نے بھی سنا ہے۔ جیسے ہم نے رسولِ اللہﷺ کی مصاحبت حاصل کی ہے آپ نے بھی کی ہے اور ابوبکرؓ و عمرؓ آپ سے زیادہ عامل بحق نہ تھے، آپ قرابت کی وجہ سے رسول اللہﷺ سے ان سے زیادہ قرب رکھتے ہیں اور آپ کو دامادی رسولﷺ کا وہ فخر حاصل ہے جو ان دونوں کو حاصل نہیں ہے۔

اس خطبہ میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ  عنہ کمالِ صراحت سے اوصافِ امیر المؤمنین عثمانِ غنیؓ یوں بیان فرماتے ہیں:

1: علم و معلومات میں ہم اور آپ برابر ہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے جو ہمیں آپ سے زیادہ معلوم ہو۔

2: ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے جسے ہم جانتے ہوں اور آپ کو اس کا علم نہ ہو۔

3: رسولِ اللہﷺ کی صحبت میں رہ کر جو کچھ ہم نے دیکھا سنا اس میں بھی ہمیں اور تمہیں مساوات ہے (ہمیں کسی امر میں تم پر ترجیح نہیں ہے)

4: آپ کو حضورِ اقدسﷺ سے دوسرے دو یاروں پر دو وجہ سے ترجیح ہے ایک قرابت کی وجہ سے اور دوم دامادِ رسول ہونے کے باعث۔

شیعہ صاحبان میں اگر کچھ بھی انصاف ہو تو اُن کو تسلی کے لیے جناب امیرؓ کا یہ خطبہ دربار فضیلت عثمانؓ کافی و وانی ہے۔ جب جنابِ امیرؓ حضرت عثمانؓ کو ہر ایک کمال میں عملی ہو یا حسبی نسبی، اپنے برابر سمجھتے ہیں اور ان کی قرابتِ رسول اللہﷺ اور دامادی کا اعتراف کرتے ہیں تو پھر شیعہ ہزار بکواس کریں شہادتِ امیرؓ کی وہ تردید نہیں کر سکتے یہ ایسی زبردست شہادت ہے جس کے مقابلہ میں روافض کی خرافات کی ذرہ بھر وقعت نہیں ہو سکتی اگر حضرت عثمانِ غنیؓ معاذ اللہ کافر و منافق ہوتے تو حضورﷺ اپنی دو صاحبزادیاں یکے بعد دیگرے اُن کو نکاح نہ کر دیتے۔

چوتھی شہادت:

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دامادِ رسولﷺ ہونے کا ثبوت:

چوتھی شہادت اس بارہ میں کہ حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کو حضورِ اکرمﷺ کا داماد ہونے کا فخر حاصل ہے شیعہ کی مستند کتاب "حیات القلوب" مصنفہ ملا باقر مجلسی، جلد دوم، صفحہ 446 میں ہے۔

در قرب الاسناد بسند معتبر از حضرت صادقؒ روایت کرده است کہ از برائے رسولِ اللہﷺ از خدیجہؓ متولد شد طاهر و قاسم و فاطمہؓ و ام کلثومؓ و رقیہؓ و زینبؓ و فاطمہؓ را بحضرت امیر المؤمنین تزویج نمود و تزویج کرد بابو العاصؓ بن ربیعہ کہ نبی امیہ بود زینبؓ راو بہ عثمانؓ عفان ام کلثومؓ را و پیش از آنکہ بخانہ آں بر داد برحمت الٰہی واصل شد و بعد از رقیہؓ را باتزویج نمود۔

ترجمہ: قرب الاسناد میں معتبر اسناد کے ساتھ سیدنا جعفر صادقؒ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ کی اولاد جو حضرت خدیجہؓ کے شکم سے ہوئی طاہر اور قاسم اور فاطمہؓ ام کلثومؓ، رقیہؓ، زینبؓ تھیں۔ فاطمہؓ کا نکاح حضرت علیؓ سے کر دیا اور زینبؓ ابوالعاصؓ کو نکاح کر دی اور امِ کلثومؓ کے ساتھ عثمانؓ کا نکاح ہوا۔ ابھی وہ حضرت عثمانؓ کے گھر نہ گئی تھیں کہ فوت ہو گئیں۔ پھر حضورِ اکرمﷺ نے حضرت رقیہؓ کا حضرت عثمانؓ سے نکاح کر دیا۔

اس روایت سے جو شیعہ کے مفترض الاطاعت سیدنا جعفر صادقؒ سے مروی ہے ثابت ہوا کہ حضورِ اکرمﷺ نے اپنی دو صاحبزادیوں (ام کلثومؓ و رقیہؓ) کا نکاح حضرت عثمانؓ سے یکے بعد دیگرے کیا۔ پہلی صاحبزادی سیدہ امِ کلثومؓ کا آباد ہونے سے پہلے وصال ہوگیا تو پھر دوسری صاحبزادی سیدہ رقیہؓ کا اُن سے نکاح کر دیا گیا۔ جو عمر بھر ان کے گھر آباد رہیں۔

شیعہ کی بے قراری:

اس واقعہ سے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو حضورِ اکرمﷺ کی دامادی کا فخر حاصل تھا اور اسی وجہ سے ان کا لقب ذوالنورین مشہور ہے، شیعہ سخت بے قرار ہوتے ہیں اور کوئی چارہ کار نظر نہیں آتا کہ اس زبردست الزام کا کہ اگر حضرت عثمانؓ جیسا کہ شیعہ کہتے ہیں۔ معاذ اللہ مسلمان نہ تھے۔ تو حضورِ اکرمﷺ نے اپنی صاحبزادیاں ان کو کیوں نکاح کر دیں جبکہ وَلَا تُنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكِيۡنَ الخ۔

(سورۃ البقرہ: آیت 221)

ترجمہ: کفار کو اپنی لڑکیاں مت دو۔ 

صریح ممانعت ہوچکی تھی کہ کفار سے ناطے نہ کیے جائیں۔ شیعہ کیا جواب دیں؟ اس موقعہ پر پریشان حال ہو کر عجیب حیلہ سازیاں کرتے ہیں۔ پہلے تو یہ کہتے ہیں کہ سوائے فاطمہؓ کے اور کوئی لڑکی حضورِ اکرمﷺ کی تھی ہی نہیں اور یہ ان کا ایسا دھوکہ ہے جس میں تمام عوامِ شیعہ کو پھنسا رکھا ہے۔ جب کبھی یہ کہو کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ دامادِ رسول تھے، جھٹ کہہ دیتے ہیں کہ اور کون سی بیٹی حضرت محمدﷺ کی تھی جس کا نکاح حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سے ہوا؟ اس لیے میں اس معاملہ کو ذرا وضاحت سے بیان کرنا چاہتا ہوں تاکہ شیعہ کے اس مغالطہ کا قلع قمع ہو جائے۔

کیا رسول پاکﷺ کی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے علاؤہ کوئی اور بیٹیاں بھی ہیں؟

میں حیران ہوں کہ جاہل شیعہ تو معذور ہیں لیکن لکھے پڑھے شیعہ اس بات سے کس طرح انکار کر سکتے ہیں کہ حضورِ اکرمﷺ کی حضرت خدیجہؓ کے بطن سے حضرت فاطمہؓ کے علاوہ اور تین صاحبزایاں حضرت زینبؓ، حضرت امِ کلثومؓ اور حضرت رقیہؓ بھی تھیں۔ چنانچہ ان کے ثبوت میں ایک تو "حیات القلوب" کی روایت لکھی جا چکی ہے اب دوسرا ثبوت ملاحظہ فرمائیے:

دوسرا ثبوت: اس امر کا کہ حضرت رسولِ پاکﷺ کی صاحبزادیاں چار تھیں جو سب کی سب ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کے بطن سے تھیں۔ شیعہ کی مستند کتاب حدیثِ مصدقہ امام اصولِ کافی: صفحہ 278 میں ہے:

وَتَزَوَّجَ خَدِيجَةَ وَهُوَا بْنُ بِضْعٍ وَعِشْرِينَ سَنَةٍ فَوُلِدَ لَهُ مِنْهَا قَبْلَ الْمَبْعَثَ الْقَاسِمُ ورُقَيَةُ وَزَيْنبُ وَأَمَ كُلْثُومٍ وَوُلِدَ لَهُ بَعْدَ الْمَبْعَثِ الطَّيِّبُ وَالطَّاهِرُ والفَاطِمَةُ علیھم السلام۔

ترجمہ: آپﷺ نے خدیجہؓ سے نکاح کیا جب کہ بیس اور چند سال کے تھے۔ پس مبعوث ہونے کے پہلے ان کے بطن سے قاسمؓ، رقیہؓ، زینبؓ اور ام کلثومؓ پیدا ہوئیں اور مبعوث ہونے کے بعد طیب، طاہر، فاطمہؓ کا تولد ہوا تھا۔

اس روایت سے مثل روایت "حیات القلوب" کے ثابت ہو گیا کہ حضورِ اکرمﷺ کی صاحبزادیاں حضرت فاطمہؓ کے علاوہ رقیہؓ زینبؓ اور ام کلثومؓ بھی تھیں جو خدیجۃ الکبریٰؓ کے شکم مبارک سے پیدا ہوئی تھیں ایسی ظاہر روایات کے ہوتے ہوئے اگر شیعہ عوام کو دھوکا دیں کہ حضرت محمدﷺ کی ایک ہی صاحبزادی تھی تو اس مصرع کے مصداق ہونگے چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دار۔

تیسرا ثبوت: شیعہ کی مشہور و متداول کتاب "تحفۃ العوام" جو ہر ایک خاص و عام شیعہ کے گھر میں بالعموم موجود رہتی ہے اس کے صفحہ 105، جلد اول میں ہر روزہ ادعیہ میں صاف لکھا ہوا ہے: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى رُقَيَّةَ بِنتِ نَبِيِّكَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى أُمْ كُلْثُومٍ بِنتِ نَبِيِّكَ۔

ترجمہ: اے خدا رحمت بھیجو رقیہ دخترِ رسولﷺ پر اے خدا رحمت بھیجیو امِ کلثوم بنتِ رسولﷺ پر۔

شیعہ کی مستند کتاب حدیث تہذیب الاحکام مطبوعہ ایران جلد اول، کتاب الصلوٰۃ، صفحہ 154 میں بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ رقیہ رضی اللہ عنہا اور ام کلثوم رضی اللہ عنہا دخترانِ نبی کریمﷺ کے (روح) پر درود صلوٰۃ درج ہے۔

اب اُمید ہے کہ عوام شیعہ اپنے علماء سے سوال کریں گے کہ اگر رسول اللہﷺ کی ایک ہی بیٹی تھی تو اور ادوادعیہ میں رقیہ و امِ کلثوم رضی اللہ عنہما بنات النبیﷺ کیوں ذکر ہوتی ہیں؟ جن پر صلوٰۃ بھیجنا اسی طرح ضروری ہے جیسا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا پر۔

چوتھا ثبوت: حیات القلوب: جلد 2، صفحہ 294 میں ہے۔

پس یازده مرد و چہار زن خفیہ از اہل مکہ گرخیتند و بجانب حبشہ رواں شدندو از جملہ آنہا عثمانؓ بود و رقیہؓ دختر حضرت رسولﷺ کہ زن او بود۔

ترجمہ: ہجرتِ حبشہ کے متعلق مصنف کتاب رقم طراز ہے کہ گیارہ مرد اور چار عورتیں اہلِ مکہ سے بھاگ کر حبشہ کو روانہ ہوئے منجملہ ان کے حضرت عثمانِ غنیؓ تھے اور رقیہ رضی اللہ عنہا دخترِ رسولﷺ جو عثمانِ غنیؓ کی منکوحہ تھیں۔

اس روایت میں اس امر کی تصریح ہے کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بامرِ خدا و رسول اللہﷺ حبشہ کو ہجرت کی اس وقت آپ کے ساتھ سیدہ رقیہؓ بنتِ رسول اللہﷺ بھی تھیں جو ان کی جورو تھیں کیا شیعہ حضرات ان روایاتِ بینات کی تردید کر سکتے ہیں 

کَلَّا وَ حَاشَا حق کو چھپانا سہل نہیں اے جانِ من