کفار مشرکین کی اجازت طواف - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

کفار مشرکین کی اجازت طواف

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 2

صریح ممانعت ہوچکی تھی کہ کفار سے ناطے نہ کیے جائیں۔ شیعہ کیا جواب دیں؟ اس موقعہ پر پریشان حال ہو کر عجیب حیلہ سازیاں کرتے ہیں۔ پہلے تو یہ کہتے ہیں کہ سوائے فاطمہؓ کے اور کوئی لڑکی حضورِ اکرمﷺ کی تھی ہی نہیں اور یہ ان کا ایسا دھوکہ ہے جس میں تمام عوامِ شیعہ کو پھنسا رکھا ہے۔ جب کبھی یہ کہو کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ دامادِ رسول تھے، جھٹ کہہ دیتے ہیں کہ اور کون سی بیٹی حضرت محمدﷺ کی تھی جس کا نکاح حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سے ہوا؟ اس لیے میں اس معاملہ کو ذرا وضاحت سے بیان کرنا چاہتا ہوں تاکہ شیعہ کے اس مغالطہ کا قلع قمع ہو جائے۔

کیا رسول پاکﷺ کی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے علاؤہ کوئی اور بیٹیاں بھی ہیں؟

میں حیران ہوں کہ جاہل شیعہ تو معذور ہیں لیکن لکھے پڑھے شیعہ اس بات سے کس طرح انکار کر سکتے ہیں کہ حضورِ اکرمﷺ کی حضرت خدیجہؓ کے بطن سے حضرت فاطمہؓ کے علاوہ اور تین صاحبزایاں حضرت زینبؓ، حضرت امِ کلثومؓ اور حضرت رقیہؓ بھی تھیں۔ چنانچہ ان کے ثبوت میں ایک تو "حیات القلوب" کی روایت لکھی جا چکی ہے اب دوسرا ثبوت ملاحظہ فرمائیے:

دوسرا ثبوت: اس امر کا کہ حضرت رسولِ پاکﷺ کی صاحبزادیاں چار تھیں جو سب کی سب ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کے بطن سے تھیں۔ شیعہ کی مستند کتاب حدیثِ مصدقہ امام اصولِ کافی: صفحہ 278 میں ہے:

وَتَزَوَّجَ خَدِيجَةَ وَهُوَا بْنُ بِضْعٍ وَعِشْرِينَ سَنَةٍ فَوُلِدَ لَهُ مِنْهَا قَبْلَ الْمَبْعَثَ الْقَاسِمُ ورُقَيَةُ وَزَيْنبُ وَأَمَ كُلْثُومٍ وَوُلِدَ لَهُ بَعْدَ الْمَبْعَثِ الطَّيِّبُ وَالطَّاهِرُ والفَاطِمَةُ علیھم السلام۔

ترجمہ: آپﷺ نے خدیجہؓ سے نکاح کیا جب کہ بیس اور چند سال کے تھے۔ پس مبعوث ہونے کے پہلے ان کے بطن سے قاسمؓ، رقیہؓ، زینبؓ اور ام کلثومؓ پیدا ہوئیں اور مبعوث ہونے کے بعد طیب، طاہر، فاطمہؓ کا تولد ہوا تھا۔

اس روایت سے مثل روایت "حیات القلوب" کے ثابت ہو گیا کہ حضورِ اکرمﷺ کی صاحبزادیاں حضرت فاطمہؓ کے علاوہ رقیہؓ زینبؓ اور ام کلثومؓ بھی تھیں جو خدیجۃ الکبریٰؓ کے شکم مبارک سے پیدا ہوئی تھیں ایسی ظاہر روایات کے ہوتے ہوئے اگر شیعہ عوام کو دھوکا دیں کہ حضرت محمدﷺ کی ایک ہی صاحبزادی تھی تو اس مصرع کے مصداق ہونگے چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دار۔

تیسرا ثبوت: شیعہ کی مشہور و متداول کتاب "تحفۃ العوام" جو ہر ایک خاص و عام شیعہ کے گھر میں بالعموم موجود رہتی ہے اس کے صفحہ 105، جلد اول میں ہر روزہ ادعیہ میں صاف لکھا ہوا ہے: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى رُقَيَّةَ بِنتِ نَبِيِّكَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى أُمْ كُلْثُومٍ بِنتِ نَبِيِّكَ۔

ترجمہ: اے خدا رحمت بھیجو رقیہ دخترِ رسولﷺ پر اے خدا رحمت بھیجیو امِ کلثوم بنتِ رسولﷺ پر۔

شیعہ کی مستند کتاب حدیث تہذیب الاحکام مطبوعہ ایران جلد اول، کتاب الصلوٰۃ، صفحہ 154 میں بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ رقیہ رضی اللہ عنہا اور ام کلثوم رضی اللہ عنہا دخترانِ نبی کریمﷺ کے (روح) پر درود صلوٰۃ درج ہے۔

اب اُمید ہے کہ عوام شیعہ اپنے علماء سے سوال کریں گے کہ اگر رسول اللہﷺ کی ایک ہی بیٹی تھی تو اور ادوادعیہ میں رقیہ و امِ کلثوم رضی اللہ عنہما بنات النبیﷺ کیوں ذکر ہوتی ہیں؟ جن پر صلوٰۃ بھیجنا اسی طرح ضروری ہے جیسا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا پر۔

چوتھا ثبوت: حیات القلوب: جلد 2، صفحہ 294 میں ہے۔

پس یازده مرد و چہار زن خفیہ از اہل مکہ گرخیتند و بجانب حبشہ رواں شدندو از جملہ آنہا عثمانؓ بود و رقیہؓ دختر حضرت رسولﷺ کہ زن او بود۔

ترجمہ: ہجرتِ حبشہ کے متعلق مصنف کتاب رقم طراز ہے کہ گیارہ مرد اور چار عورتیں اہلِ مکہ سے بھاگ کر حبشہ کو روانہ ہوئے منجملہ ان کے حضرت عثمانِ غنیؓ تھے اور رقیہ رضی اللہ عنہا دخترِ رسولﷺ جو عثمانِ غنیؓ کی منکوحہ تھیں۔

اس روایت میں اس امر کی تصریح ہے کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بامرِ خدا و رسول اللہﷺ حبشہ کو ہجرت کی اس وقت آپ کے ساتھ سیدہ رقیہؓ بنتِ رسول اللہﷺ بھی تھیں جو ان کی جورو تھیں کیا شیعہ حضرات ان روایاتِ بینات کی تردید کر سکتے ہیں 

کَلَّا وَ حَاشَا حق کو چھپانا سہل نہیں اے جانِ من



صفحہ 2 از 2