جنگ صفین کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے اور اہل شام پر لعنت بھیجنے سے امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کا منع کرنا
علی محمد الصلابیسیدنا علی و معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین جنگ صفین چھڑ گئی (میں نے اس کی پوری تفصیلات اپنی کتاب ’’أسمی المطالب فی سیرۃ أمیر المومنین علی بن أبي طالب‘‘ میں ذکر کی ہیں) لڑائی میں تیزی آگئی، اہل عراق، اہل شام پر غالب آنے لگے، ان کی صفیں منتشر ہوگئیں، قریب تھا کہ شکست کھا جائیں، ایسے میں اہل شام نے نیزوں پر مصاحف کو اٹھا کر کہا: ہمارے اور تمھارے درمیان یہ کتاب فیصلہ کرنے والی ہے، لوگ ہلاک ہو رہے ہیں، اہل شام کے بعد شام کی اور اہل عراق کے بعد عراق کی سرحدوں کی حفاظت کون کرے گا؟ جب لوگوں نے اٹھائے ہوئے مصاحف کو دیکھا تو کہا: کتاب اللہ کی جانب رجوع کرتے ہیں اور اس کی بات مان لیتے ہیں۔
(تنزیہ خال المؤمنین معاویۃ بن أبي سفیان: صفحہ 36 نقلاً عن تاریخ الطبری)
قاتلینِ عثمان رضی اللہ عنہ کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کرنے کی تاکید کے بغیر کتاب اللہ کی تحکیم کی دعوت دینا، نیز سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت و اطاعت کو قبول کرنے کی تاکید کے بغیر تحکیم کی دعوت کو قبول کر لینا یہ تبدیلی جنگِ صفین کے نتیجے میں ہوئی، اس لیے کہ جس جنگ نے بہت سارے مسلمانوں کو ہلاک کردیا اس کے نتیجے میں یہ اجتماعی رائے سامنے آئی کہ جنگ اور خوں ریزی کو بند کرنا ایسی ضرورت ہے جو دشمن کے مقابلے میں امت کی شان و شوکت اور قوت کو محفوظ رکھنے کا تقاضا ہے، یہ امت کی زندگی و بیداری اور فیصلوں میں اس کے رول کا ثبوت ہے۔
(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الأمویین: صفحہ 38)
امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جنگِ صفین کو روک دیا، تحکیم پر راضی ہوگئے، اسے فتح تصور کیا اور کوفہ لوٹ گئے، اور تحکیم سے اختلاف کو ختم کرنے، اتحاد پیدا کرنے، حکومت کو مضبوط کرنے، اور نئے سرے سے فتوحات کا سلسلہ شروع کرنے کی بہت ساری امیدیں باندھیں، جنگ صفین کی کارروائیاں ختم ہونے کے بعد امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ مقتولین کا معائنہ کر رہے تھے اسی اثناء میں اپنے اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقتولین کے پاس کھڑے ہو کر کہا: اللہ تعالیٰ دونوں فریقوں کے لوگوں کی مغفرت کرے۔
(خلافۃ علی بن أبي طالب: عبدالحمید: صفحہ 250)
یزید بن اصم سے مروی ہے کہ جب سیدنا علی و معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین صلح ہوگئی تو اپنے مقتولین کے پاس پہنچے اور فرمایا: یہ لوگ جنت میں ہوں گے، پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقتولین کے پاس گئے تو فرمایا: یہ لوگ جنت میں ہوں گے، معاملہ میرا اور معاویہ کا ہوگا۔
(مصنف ابن أبي شیبۃ: جلد 15، صفحہ 303، اس کی سند حسن ہے۔)
ان کے بارے میں کہتے تھے: ’’وہ لوگ مومن ہیں‘‘
(تاریخ دمشق: جلد 1 صفحہ 329، 331)، خلافۃ علی: صفحہ 252)
اہل صفین و اہل جمل کے بارے میں سیدنا علیؓ کا قول ایک جیسا ہے۔
(خلافۃ علي: عبدالحمید علی: صفحہ 251، تنزیہ خال المؤمنین: صفحہ 169)
مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ ان کے دو ساتھی اہل شام کو برا بھلا کہتے اور لعن طعن کرتے ہیں تو انھیں پیغام بھیج دیا کہ اس حرکت سے باز آجاؤ، چنانچہ وہ دونوں آپ کے پاس آئے اور کہا: اے امیر المؤمنین! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں؟ سیدنا علیؓ نے کہا: اللہ کی قسم کیوں نہیں، دونوں نے کہا: تو آپ ہمیں ان کے سب و شتم اور لعن طعن سے کیوں روکتے ہیں؟ سیدنا علیؓ نے کہا: تم لوگوں کا لعن طعن کرنے والا ہونا مجھے پسند نہیں ہے، بلکہ تم لوگ کہو:
اَللّٰہُمَّ احْقِنْ دِمَائَ نَا وَ دِمَائَ ہُمْ وَ أَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِنَا وَبَیْنَہُمْ وَ أَبْعِدْہُمْ مِنْ ضَلَالَتِہِمْ حَتّٰی یَعْرِفَ الْحَقَّ مِنْ جَہْلِہٖ وَ یرَعَوِیْ عَنِ الْغَيِّ مِنْ لَجَجٍ بِہِ۔
(الاخبار الطوال: صفحہ 165، نقلا عن تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 232)
’’اے اللہ تو ہمارے اور ان کے خون کو محفوظ کردے اور ہمارے باہمی معاملات ٹھیک کردے، انھیں اپنی غلطی سے دور کردے، تاکہ حق نہ جاننے والا اسے جان لے اور گمراہی سے چمٹے رہنے والے اس سے باز آجائیں۔‘‘
رہی یہ بات کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے قنوت میں معاویہ اور ان کے ساتھیوں پر لعنت بھیجتے تھے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے قنوت میں علی، ابن عباس، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم پر لعنت بھیجتے تھے، تویہ بات سنداً صحیح نہیں ہے اس لیے کہ اس میں ابومخنف لوط بن یحییٰ ہے جو اپنی روایتوں میں ثقہ نہیں ہے۔
اسی طرح شیعوں کی سب سے صحیح کتاب میں وارد ہے کہ آپ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا بھلا کہنے سے روکتے تھے، جو لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو برا بھلا کہتے تھے ان کو اس سے روکا اور کہا: میں یہ بات ناپسند کرتا ہوں کہ تم لوگ برا بھلا کہنے والے بنو، بلکہ اگر تم لوگ ان کے کارناموں کو بیان کرتے اور ان کے حالات کا تذکرہ کرتے تو یہ زیادہ اچھی بات ہوتی، تم انھیں برا بھلا کہنے کے بجائے یہ کہو:
اَللّٰہُمَّ احْقِنْ دِمَائَ نَا وَ دِمَائَ ہُمْ وَ أَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِنَا وَ بَیْنِہِمْ۔
(نہج البلاغۃ: صفحہ 323)
’’اے اللہ تو ہمارے اور ان کے خون کو محفوظ کردے اور ہمارے باہمی معاملات ٹھیک کردے۔‘‘
شیعوں کی نظر میں سب سے صحیح کتاب کا یہ اعتراف ہے کہ صحابہؓ کو برا بھلا کہنا اور ان کی تکفیر کرنا امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کا طریقہ نہیں تھا۔
(أصول مذہب الشیعۃ: جلد 2 صفحہ 934)
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ان واقعات کے معاصر تھے، اہل شام کے متعلق اپنے والد کے مؤقف کو دیکھا اور سنا تھا، اصحاب معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ درست نظریہ اتحادِ امت کے لیے صلح کے منصوبہ کا خاکہ تیار کرنے میں حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا معاون رہا، اور مذکورہ منصوبہ اللہ کے فضل پھر مقاصدِ اسلام کی ان کی گہری سمجھ اور مصالح و مفاسد کی دقیق معرفت کے بدولت پایۂ تکمیل کو پہنچا۔