Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اصحاب ثلاثہ رضوان اللہ علیہم کی مشترکہ تعریف

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

حضرت امیر المؤمنین علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے جہاں اصحابِ ثلاثہؓ کی فرداً فرداً اپنے اقوال میں تعریف فرمائی ہے وہاں مشترکہ اوصاف کا بیان بھی ان کے خطبات میں پایا جاتا ہے جو ان کے فضائل کا بین ثبوت ہے۔ اس لیے اب ہم ایسی روایات لکھیں گے جو کتبِ شیعہ میں اصحابِ ثلاثہؓ کے اوصاف میں مشترکہ پائی جاتی ہیں۔ اول نہج البلاغت: جلد 1، صفحہ 149 میں ہے:

لَقَدْ عَهِدْتُ أَقْوَامًا فِی عهد خَلِيلِیﷺ مُرة الْعُيُون من البكاء وَ حَمْصَ البُطُونَ مِنَ الصِّيَامِ ذبل الشَّفَاءِ مِنَ الدُّعَاءِ صُفْرَ الَّا لُوَانِ مِنَ الشَّهْرِ عَلَى وُجُوهِهِمْ غَبَرَةُ الْخَاشِعِينَ أُولَئِكَ إِخْوَانِی الذَّاهِبُونَ فَحَقَّ لَنَا أَنْ نَظُمَاَ إِلَيْهَمُ و نَعَضُ الْأَيْدِی عَلَى فِرَاقِهِمْ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَسَنی لَكُمْ طُرُقَهُ وَيُرِيدُ أَنْ يُحِلُّ دِينَكُمْ عُقْدَةً عُقْدَةً وَ يُعْظِيَكُم بِالْجَمَاعَةِ الْفُرقَةَ فَاصْدِقُوا عَنْ نَزْغَاتِهِ وَاقْبِلُو النَّصِيحَةَ مِمَّنْ أَهْدَاهَا إِلَيْكُمْ وَاعْقِلُوهَا عَلَى أَنفُسِكُم۔

ترجمہ: میں نے آنحضرتﷺ کے اصحاب کو دیکھا ہے۔ کثرت گریہ سے ان کی آنکھیں خیرہ ہو گئی تھیں۔ روزہ داری کی وجہ سے ان کے پیٹ خالی ہو گئے تھے۔ دعا کرتے کرتے اُن کے ہونٹ خشک ہو گئے تھے۔ شب بیداری کے سبب ان کے چہرے زرد تھے۔ کثرت سجود کے باعث ان کے چہرے خاک آلود رہتے تھے۔ وہ لوگ میرے بھائی تھے جو گزر گئے کہ ان کی ملاقات کی پیاس رکھیں اور اُن کے فراق میں دانتوں سے ہاتھ کاٹیں، شیطان تمہارے لیے راستہ پیدا کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ دین کی رسی کو پارہ پارہ کر دے اور تمہاری جماعت میں تفرقہ ڈال دے تم اس کے وساوس سے بچو اور اپنے راہنما کی نصیحت مانو اور اپنے دلوں میں گرہ کر لو۔

اس خطبہ میں جناب امیرؓ نے اصحابِ رسولﷺ کی جو فوت ہو گئے ہیں بے حد تعریف فرمائی ہے کہ وہ قائم اللیل، صائم النہار تھے۔ خشیتِ الٰہی ان کے رگ و ریشہ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ گریہ و زاری میں ہمیشہ سر بسجود رہتے تھے۔ وہ میرے بھائی تھے۔ ان کے فراق کا دل میں سخت صدمہ ہے۔ پھر مسلمانوں کو نصیحت فرمائی کہ شیطان تم کو گمراہی میں ڈالنا چاہتا ہے اور جماعت میں تفرقہ ڈالنے کے درپے ہے شیطان کی پیروی مت کرو اور جماعت سے علیحدگی اختیار مت کرو۔

شیعہ حضرات بتائیں کہ کیا اصحابِ ثلاثہؓ ان افراد میں داخل تھے یا نہ؟ اور یہ اوصاف ان میں پائے جاتے ہیں یا نہیں؟ بیشک حضرت امیر رضی اللہ عنہ کے اپنے ان بھائیوں خلفائے ثلاثہؓ کی فرقت کا دل میں رنج تھا ان کے اوصاف یاد کر کے دل کو تسکین دیتے تھے اور مسلمانوں کو ان کے طریقے پر چلنے اور جماعت میں ملے رہنے کی ترغیب دیتے تھے شیعہ کے نزدیک تو صرف معدودے چند، ابوذر، مقداد، سلمان فارسی رضوان اللہ علیہم کے سوائے اصحابِ رسول سے کوئی مسلمان ہی نہ رہا تھا۔ پھر وہ اقوام جن میں یہ اوصاف تھے۔ کہاں تھیں؟ جن کی وفات کا جناب امیر رضی اللہ عنہ کو از حد رنج تھا۔ اس میں کلام نہیں ہے کہ وہ لوگ جن میں یہ اوصاف تھے خلفائے رسول اور ان کے پیروانِ دین تھے۔ جن کو شیعہ معاذ اللہ کافر کہتے ہیں اور ناصح مشفق جناب امیر رضی اللہ عنہ کی نصیحت کی پرواہ نہ کر کے شیطان کے متبع ہو کر سواد اعظم سے علیحدگی کر بیٹھے۔ (خدا ہدایت کرے)

دوم نہج البلاغت جلد 2 صفحہ 8 میں ہے:

وَمِنْ كَلَامٍ لَهُ عَلَيْهِ السَّلَامِ إِلَى مَعَاوِيَةَ أَنَّهُ بَايِعُنِى الْقَوْمَ الَّذِينَ بَايَعُو أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانٌ عَلَى مَا بَايَعُو هُمْ عَلَيْهِ وَلَمْ يَكُنُ لِلشَّاهِدِ أَنْ يَخْتَارَ وَلَا لِلْغَائِبِ أَنْ يُرَدَّ إِنَّمَا الشَّورى لِلْمَهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فَإِنِ اجْتَمَعُوا عَلَى رَجُلٍ وَسَمَّوهُ إِمَامًا كَانَ ذَلِكَ لِلَّهِ رَضِي فَإِنْ خَرَجَ عَنْ أَمْرِ هِمْ خَارِجٌ بِطَعْنِ أَوْ بِدُعَةً رُدُّهُ إِلَى مَا خَرَجَ مِنْهُ فَإِن أَبَى قَاتِلُوهُ عَلَى اتَّبَاعِهِ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ وَوَلَّاهُ اللَّهُ مَا تَوَلَّى۔

ترجمہ: جناب امیر رضی اللہ عنہ کے ان خطوط سے جو امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو آپ نے لکھے، یہ بھی تھا کہ میری بیعت اسی قوم نے اس امر پر کی ہے جس پر انہوں نے ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ سے کی تھی۔ اب کسی حاضر یا غائب کو اس بیعت کے رد کرنے کا اختیار نہیں ہے اور شوریٰ مہاجرین و انصار ہی کا حق ہے کہ جس شخص کی بیعت پر ان کا اتفاق ہو جائے اور اس کو امام بنالیں، خدا کو بھی وہی منظور ہے۔ اس متفقہ خلیفہ کی اطاعت سے کسی طعن یا بدعت کے باعث انحراف کرے اہلِ شوریٰ کا حق ہے کہ اسے اس خلیفہ کی اطاعت پر مجبور کریں اور مسلمانوں کا راستہ چھوڑ دینے پر اس سے لڑیں۔

اس خطبہ میں جناب امیر رضی اللہ عنہ نے مسئلہ خلافت و خلیفہ کا بالکل فیصلہ فرما دیا اور آپ نے یہ بھی بتا دیا کہ میری اور خلفائے سابقہ کی خلافت ایک ہی طریق سے ایک ہی جماعت (مہاجرین و انصار) کے انتخاب سے عمل میں آئی ہے اور انتخابِ خلیفہ کا حق بھی ہے مجلس شوریٰ مہاجرین و انصار ہی کو ہے۔ وہ اپنی متفقہ رائے سے جس شخص کو خلیفہ کر دیں عنداللہ بھی وہی خلیفہ برحق ہے جو ایسے منتخب کردہ خلیفہ کی اطاعت سے منحرف ہو جائے اس کو مسلمان خلیفہ کی اطاعت پر مجبور کر سکتے ہیں، نہ مانے تو اس سے لڑائی بھی کی جاسکتی ہے۔ اب جو لوگ کہتے ہیں کہ خلافت کے حقدار سب سے پہلے امیرؓ اور خانقاہِ ثلاثہؓ کا انتخاب غلط ہوا تھا اور جناب امیر رضی اللہ عنہ کے اس قول کی تکذیب کرتے ہیں جو بقول ممدوح ہر چہار خلفاء کا انتخاب ایک ہی طریق سے ایک ہی جماعت کے ہاتھ سے عمل میں آیا اور بقول جناب موصوفِ خدا کی رضا بھی اسی میں تھی تو پھر شیعہ کا حق کیا ہے کہ اس کے خلاف کہنے کی جرأت کریں کہ حق تو علیؓ کا تھا ثلاثہؓ نے زبردستی چھین لی اگر ایسا ہوتا تو جناب امیر رضی اللہ عنہ یوں فرماتے کہ ثلاثہؓ کا انتخاب تو نا اہل لوگوں نے غلط کر دیا تھا اور خدا بھی انتخاب پر راضی نہ تھا ہاں جس جماعت نے میرا انتخاب کیا اور جس طریق سے کیا یہ انتخاب منظورِ خدا تھا۔ اس خطبہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جو لوگ کہتے تھے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ انتخابِ خلیفہ سے ناراض تھے اور انہوں نے بیعت نہ کی تھی یا جبراً قہراً بیعت کرائی گئی تھی۔ یہ سب کچھ یار لوگوں کی گھڑت اور اتہام محض ہے کیونکہ جناب خود ممدوح خود فرماتے ہیں کہ مجلسِ شوریٰ کے فیصلہ پر جو شخص راضی نہ ہو اور منتخب شدہ خلیفہ کی بیعت سے انکار کرے وہ مؤمنین کے طریقہ سے الگ اور واجبُ القتال ہے اور یہ کہ خدا کو بھی وہی منظور ہے جو مہاجرین و انصار کی مجلسِ شوریٰ فیصلہ کر دے کیا شیعہ اصحاب جناب امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ کے اس فرمان واجب الاذعان کے سامنے سر تسلیم خم کریں گے؟

سوئم: حیات القلوب: جلد 2، صفحہ 589 میں ہے:

وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ۔

یعنی پیشی گیرندگان کہ پیشتر بوده انداز مہاجرین جرین و انصار و آنانکہ متابعت ایشان کرده اند بہ نیکی راضی شد خدا و از ایشان و راضی شدنداز و حضرت فرمود پس خدا ابتداء نمود باں ہاک پیشتر ہجرت کرده بودند بقدر درجہ آں پس در مرتبہ دوم انصار را یاد کرد کہ بعد از مہاجراں یاری انحضرت نمودند پس در مرتبہ قرار داد بقدر درجات و منازلے کہ ایشان را نزد او هست۔

شیعی مصنف نے تفسیر آیت میں مہاجرین و انصار اور تابعین کی تعریف اور ان کے مدارج کا ذکر کیا ہے یہ کون تھے؟ کیا اس کے مصداق وہی تین مقدادؓ، ابوذرؓ، سلمانؓ، ہی تھے کیا خلفائے ثلاثہؓ مہاجرین و انصار سے خارج ہیں؟ اگر یہ ان کے سرتاج ہیں تو ان کے درجات اور راضی مرضی ہونے سے کیوں انکار کیا جاتا ہے؟ کیا خدائے پاک کا کلام معاذ اللہ جھوٹا اور شیعہ سچے ہیں؟

چہارم: حملہ حیدری میں جنگِ بدر کے بیان میں لکھا ہے کہ جب رسول اللہﷺ نے اپنے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قلت اور بے سامانی اور کفار کی کثرت اور ان کے ساز و سامان کو دیکھا تو دست بدعا ہوکر فرمانے لگے۔

خدایا گرایں چند تن از عباد

کہ کردند امر ترا انقیاد

بحكم تو بستند برکیں میاں

ندیدند پیش و کم دشمناں 

بمانند از فتح کوتاه دست

بیابند از دست اعداء شکست

بروئے زمیں تاقیامت دگر

نگردد پر ستنده اے داد گر

ترجمہ: اے خدا اگر تیرے یہ قلیل بندے، جو تیرے عبادت گزار ہیں اور تیرے حکم کی تعمیل میں لڑائی پر کمر بستہ ہو کر دشمن کی قلت و کثرت کی پرواہ نہیں رکھتے اگر یہ دشمن کے ہاتھ سے شکست یاب ہو کر فتح یابی حاصل نہ کر سکے تو یا خدایا! روئے زمین پر تا قیامت تیری پرستش کرنے والا کوئی باقی نہ رہ جائے گا۔

بتاؤ جن اشخاص کے متعلق حضورِ اکرمﷺ نے یہ شہادت دے کر حق تعالیٰ سے دعا کی کہ یہ تیرے فرماں بردار بندے ہیں اور تیرے عشق کے ایسے متوالے ہیں کہ تیرے دشمنوں سے لڑائی کرتے وقت دشمنوں کی تعداد کی بھی پرواہ نہیں کرتے اور یہ تیرے ایسے مخلص بندے ہیں اگر ان کا وجود صفحہ دہر سے مٹ گیا تو دنیا میں تیرا پرستار، تیرا نام لیوا ان جیسا قیامت تک پیدا نہ ہوگا یہ لوگ کون تھے؟ وہی مہاجرین و انصار جن کے میر عسکر ثلاثہؓ تھے یا کوئی اور؟ کیا صرف وہی شیعہ کے تین چار بزرگوار ہر ایک معرکہ کارزار میں شامل ہو کر دشمن کی صفیں الٹ دیا کرتے تھے یا یہی حضرات تھے جنہوں نے نبی کریمﷺ کی زندگی میں ہی نہیں آپﷺ کی وفات کے بعد بھی دینِ اسلام کو مشرق سے مغرب تک پھیلا دیا اور دشمنانِ دین کا نام و نشان باقی نہ رہنے دیا۔ انصاف! انصاف۔

پنجم: "حیات القلوب" جلد 2، صفحہ 141 میں ہے:

عروہ بن مسعودؓ چوں در غزوہ حدیبیہ از جانب قریش بخدمت حضرت رسولﷺ آمد دید کہ ہر گاه آنحضرت و ضومی ساخت یا دست می شست مبادرت میکردند در گرفتن آن آب بمرتبہ کہ یک دیگر رابکشد و ہر مرتبہ کہ آب دہاں یا آب بینی می انداخت بدست خود آں رامی ربودند و چوں امرمی فرمود بریک دیگر سبقت می گرفتند در امتثال آں و چوں سخن مے فرمود صدا ہائے خودرا پست می کردند و تند بر روئے مبارک آن حضرت نظر نمی کردند و سر ہادر پیش می افنگند ند و چوں عروه بہ نزد قریش برگشت گفت اے گروہ قریش من بہ نزد بادشاه عجم و بادشاه روم و بادشاه حبشہ رفتہ بودم نہ دیدم کہ ہیچ قومے بادشاہ رد خود را تعظیم و اطاعت کنند مثل آنکہ اصحاب آں حضرت تعظیم اطاعت وی نمایند۔

ترجمہ: غزوہ حدیبیہ میں جب عروہ بن مسعود کفار قریش کا سفیر بن کر آنحضرتﷺ کے پاس آیا اس نے دیکھا کہ جب حضورِ اکرمﷺ وضو کرتے یا ہاتھ دھوتے جب آپﷺ منہ سے تھوک یا ناک سے پانی پھینکتے (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) برکت کے لیے ہاتھوں میں لے کر اپنے منہ اور بدن پر ملتے اور اگر کوئی بال جسم اطہر سے گرتا اس کے لینے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت کرنا چاہتے تھے۔ جب حضورِ اکرمﷺ کلام کرتے یہ لوگ چپکے ہو جاتے اور حضورِ انورﷺ کے رخ پر تیز نگاہ ڈال نہ سکتے تھے اور آپﷺ کے حضور میں بیٹھ کر اپنے سر نیچے جھکا دیا کرتے۔ جب عروہ نے یہ حالت دیکھی اور قریش میں لوٹا تو کہنے لگا میں نے بادشاہانِ عجم و روم و حبشہ کو دیکھا ہے لیکن میں نے ایسی کوئی قوم نہیں دیکھی جو اپنے بادشاہ کی اس طرح تعظیم کرتے ہوں جیسے اصحابِ رسولﷺ اپنے شہنشاہِ اسلام کی اکرام و تعظیم کرتے ہیں۔

اسی مضمون کو صاحبِ حملہ حیدری نے نظم میں بیان کیا ہے:

پس آں گاه در مجلس شاہ دین 

نشست او زمان دگر در کمیں 

کہ اصحاب اور راکند امتحان 

بہ بیند کہ چوں است اخلاص شاں

بظاہر گره کرده ابروز خشم 

نہائی ہمیں دید از زیر چشم

چو اکرام و تعظیم و فرمانبری

ارادت شعاری عقیدت دری

ز اصحاب نسبت بہ سالار دین

بتائید آں مردو زدید بیں

ترجمہ: عروہ بن مسعود جب مجلسِ رسولِ پاکﷺ میں اس لیے گھات لگا کر بیٹھا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اخلاص و جان نثاری کا امتحان کرے، بظاہر تو اس نے غصہ سے ابرو پر گرہ ڈالی مگر نیچی نظر سے اس نے دیکھنا شروع کیا جب اس نے عاشقانِ جمال احمدی کی ارادت و عقیدت کا حال دیکھا تو اسے بے حد تعجب ہوا کیونکہ پہلے اس کی نظیر نہ دیکھی تھی جب عروہ قریش کے پاس واپس گیا تو اپنے چشم دید واقعات کی ان کو جاکر یوں اطلاع دیتا ہے۔

کہ من آنچہ دیدم زیاران و 

ازاں سر بکف جاں نثاراں او

در ایران و در روم و در زنگبار

ندیدم زنیک و بد آں دیار 

کہ دارند پاس شئہ خود چنیں

بسائندہ بر نقش پائش جبیں

محمدﷺ گراند ازد آب دہن 

برآں آب خوں می کند انجمن

کہ گیرند آں آب مالند رو 

ازاں آب تازہ کنندہ آبرو

دگر ہر کرا بینی از مہتران 

کند کفش او پاک چوں کہتراں

بر آب وضویئش نزاعے کنند

کہ خواہند سر ہائے خود بشکنند

ترجمہ: میں نے آنحضرتﷺ کے جاں باز اصحابؓ میں جو کچھ دیکھا ہے میں نے ایران، روم اور زنگبار میں کسی نیک و بد کو نہیں دیکھا کہ وہ اپنے بادشاہ کا اس قدر اکرام کریں کہ اس کی جوتیوں پر اپنے ماتھے رگڑیں۔ محمدﷺ اگر آبِ دہن پھینکنا چاہتے تو اس کے لینے کے لیے مجمع میں کشت و خون تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ اس آبِ دہن کو لے کر اپنے چہروں پر ملتے اور اپنی آبرو بڑھاتے ہیں اور جس بڑے سے بڑے سردار کو دیکھو وہ آپﷺ کی جوتیاں ادنیٰ خادم کی طرح صاف کرتا ہے۔ اُن کا وضو کا پانی حاصل کرنے پر ایسا جھگڑا ہوتا ہے کہ سر دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔

جب اصحابِ رسولﷺ کی جاں نثاری کی یہ حالت ہو کہ کفار بھی ان پر رشک کریں اور معترف ہوں کہ ایسی کوئی قوم روئے زمین پر موجود نہیں ہے جو اپنے آقا پر یوں جاں نثار کریں اور اس کے پاؤں کی خاک سرمہ چشم اور آبِ دہن کو زینتِ چہرہ کے لیے غازہ گلگوں سمجھتے ہوں۔ جو اس کی شمع جمال پر پروانہ وار گرے پڑتے ہوں اور سر بکف اس کی خدمت میں جاں سپاری کے لیے ہر وقت حاضر ہوں کیا یہ نشہ کبھی قیامت تک اُترنے والا ہے؟ یہ وہ نشہ نہیں جسے ترشی اتار دے۔

وہ لوگ سخت حقیقت ناشناس ہیں جو کہتے ہیں کہ رسولِ پاکﷺ کے آنکھ بند کرنے (فوت ہونے کی دیر تھی کہ وہ سارا کھیل بگڑ گیا نہ وہ عشق رہا نہ وہ محبت، سب کے سب اصحابؓ بغیر تین چار کے دین سے پھر گئے۔ لاحول ولا قوۃ 

جن لوگوں کا کوچہ عشق میں گزر نہ ہو ایسی بہکی باتیں وہی کرتے ہیں۔ عاشقان ذاتِ احمدی کے سوز جگر کا حال وہی جانیں جن کو اس نعمت سے بہرہ ملا ہے۔

چوں دل بہ مہر نگانے نہ بستہ اے ماہ

تراز سوز درون، نیاز ماچہ خبر

الحق جاں نثاران رسول اللہﷺ جیسے حضور کی زندگی میں دینِ حق کے شیدا تھے۔ بعد وفاتِ نبیﷺ بھی انہوں نے اپنی جانیں اعلائے کلمۃ الحق کے لیے وقف کر دی تھیں۔ انہوں نے اشاعتِ اسلام میں عمریں خرچ کر دیں اور تمام دنیا کو کلمہ توحید کا قائل کر کے چھوڑا۔ خلفائے رسولﷺ نہ ہوتے تو خدائے قدوس کا صحیفہ قدس قرآن بھی ہم تک نہ پہنچتا نہ کسی کو اسلام و مسلمانی کی ہی خبر ہوتی۔ دنیائے اسلام فاتح فارس و روم اور ان کے سابق خلفاء کی تابقاء دہر شرمندہ احسان رہے گی رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ اگرچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین رسول اللہﷺ سب کے سب نجم ہدایت تھے لیکن خلفائے اربعہؓ فلکِ اسلام کے وہ روشن سیارے تھے جن کے نور نے عالم کو منور کیا اور جن کی بدولت شرق و غرب و جنوب سے شمال تک خشکی و تری میں اسلامی حکومت کا ڈنکا بجا۔

چار یار:

چار کے اعداد سے بس حق تعالیٰ کو ہے پیار 

ہیں حبیب کبریاء کے برگزیدہ چار یار

جسم کی ترکیب ہےاربعہ عناصر سے ہوئی 

ہوتے ہیں ہر اک مکان کے دیکھ لو دیوار چار 

عرش سے نازل ہوئیں چاروں کتابیں (زبور، تورات، انجیل) قرآن دوستو

ہیں الوالعزم انبیاء (ابراہیمؑ، موسیٰؑ، عیسیٰؑ، محمدﷺ) ایزد غفار چار

ہیں فرشتے بھی مقرب چار (جبرائیلؑ، میکائیلؑ، اسرافیلؑ، عزرائیلؑ) جو مشہور ہیں 

ہیں مذاہب بھی یہی مقبول بے انکار چار

کعبۃ اللہ میں بچھے چاروں مصلے ہیں ضرور 

خانوادے (چشتی، نقشبندی، قادری، سہروردی) بھی طریقت کے ہیں پر انوار چار

ار طریقت کے ہیں پر انوار چار

اربعہ متناسبہ پڑھتے ہیں طفلان سکول 

اور مربع شکل کے اضلاع بھی ہیں چار چار

تھا فَخُذۡ اَرۡبَعَةً مِّنَ الطَّيۡرِ جو ارشاد حق 

ہے تمہیں معلوم تھے وہ طائر طیار چار

چار پائے تخت کے ہوتے ہیں بیشک دوستو 

اور جوارح بھی ہر اک انسان کے ہیں چار چار 

چار کے اعداد ہیں لا ریب منظور خدا 

بالیقین ہے دوزخی کرتا رہے جو انکار چار

فاطمہؓ، حسینؓ اور حضرت علی المرتضیٰؓ 

تھے یہ خویشان نبی احمد مختار چار

ہیں چراغ و مسجد و محراب و منبر اے دبیر 

یہ ابوبکرؓ و عمرؓ عثمانؓ و حیدرؓ یار چار